اشاعتیں

فروری, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ناصر کاظمی کی حیات اور ادبی خدمات

  ناصر کاظمی کا اصل نام ناصر رضا تھا، لیکن وہ اپنے قلمی نام ناصر کاظمی سے مشہور ہوئے۔ ناصر کاظمی کی ولادت 8 دسمبر 1925 کو انبالہ میں ہوئی۔ وہ انبالہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ انبالہ کے تئیں اپنی محبت کا اظہار یوں کیا ہے:   انبالہ ایک شہر تھا سنتے ہیں اب بھی ہے   میں ہوں اسی لٹے ہوئے قریے کی روشنی  ان کا سلسلہ نسب سادات سے ملتا ہے۔ امام موسیٰ کاظم سے نسبت ہونے کی بنا پر ان کے نام میں "کاظمی" کا لاحقہ آتا ہے۔ چونکہ ان کے والد محمد سلطان علمی فوج میں صوبیدار میجر کے عہدے پر تعینات تھے، اس لیے ناصر کاظمی کو اپنے والد کے تبادلے کے سلسلے میں کئی اہم مقامات پر رہنے اور سیر کرنے کا موقع ملا۔ مختلف مقامات کی سیر و سیاحت نے ان کی شخصیت کو نکھار دیا۔ انہیں والد کے تبادلے کے سبب انبالہ کے علاوہ ڈکشائی، کوٹ گڑھ، سولی ماریش، دھرم پور، دہرہ دون، سوری، مری، ڈلہوڈی، ایبٹ آباد، نوشہرہ، پشاور اور کشمیر وغیرہ مقامات کو قریب سے دیکھنے اور وہاں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔   ان کی والدہ ایک پڑھی لکھی خاتون اور انبالہ کے مشن گرلز اسکول میں معلمی کے پیشے سے وابستہ...

جیلانی بانوں کا مختصر تعارف

 جیلانی بانو ۱۹۳۵ء میں حیدر آباد میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد حیرت بدایونی حیدر آباد کے مشہور شاعر تھے ۔ جیلانی بانو کی شادی پروفیسر انور معظم سے ہوئی ، جو سابق پروفیسر اور صدر شعبہ اسلامیات عثمانیہ یونی ورسٹی ہیں ۔ جیلانی بانو بھی جامعہ عثمانیہ کی فارغ التحصیل ہیں ۔ انہوں نے ۱۹۷۲ء میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی -جیلانی بانو عہد حاضر میں اُردو کے ممتاز افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں شمار ہوتی ہیں ۔ افسانہ نگاری میں وہ اپنا منفرد مقام رکھتی ہیں ۔ وہ ترقی پسند تحریک سے متاثر رہی ہیں ۔ انہوں نے اپنے اطراف و اکناف کی زندگی کو غائر نظر سے دیکھا ہے اور وہیں سے اپنی مختصر کہانیوں کا مواد حاصل کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیوں میں واقعیت اور اصلیت ملتی ہے ۔ اعلیٰ ۔ ۔ درجے کی کہانی لکھنے کے لیے گو قدرتی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ خدا کی دین ہے لیکن یہ فن بڑی ریاضت اور محنت کا مطالبہ کرتا ہے ۔ جیلانی بانو کی کہانیوں میں یہ دونوں باتیں ملتی ہیں ۔ ان کی کہانیوں میں جہاں فنکارانہ چابک دستی ملتی ہے وہیں اثر اور کیفیت بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثر کہانیاں ہندوستان کی ساری اہم زبانوں میں...