تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام
تشبیہ ، ع ، اسم مونث ۔ مشابہت تمثیل ( اصطلاح معانی میں ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ کسی صفت میں مشابہ کرنے کو کہتے ہیں۔ ) اس میں وجہ شبہ ظاہر ہو یا نہ ہو۔ جسے تشبیہ دیں اسے مشبہ اور جس سے تشبیہ دیں اسے مشبہ بہ کہتے ہیں۔ مشبہ اور مشبہ بہ کوطرفین تشبیہ ، اس صفت کو وجہ شبہ
اور جو حرف اس پر دلالت کرے اسے حرف شبہ کہتے ہیں ۔"
(فرہنگ آصفیہ، جلد اول، صفحه (615)
تشبیہ (ع) - شبہ مادہ) مونٹ، ایک چیز کو دوسری چیز کے مانند ٹھہرانا جیسے کسی بہادر کو کہتا کہ اپنے زمانے کا رستم ہے۔ جسے تشبیہ دیتے ہیں اسے مشتبہ اور جس کو تشبیہ دیتے ہیں اس کو مشبہ بہ اور جس امر میں تشبیہ دیتے ہیں اسے وجہ شبہ کہتے ہیں۔"
( نور اللغات ، جلد دوم، صفحہ 251)
تشبیہ کی مندرجہ بالا تعریفات پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ایک شئے یا شخص کو کسی دوسری شے یا شخص سے کسی مماثلت کی بناء پر ہم پلہ یا اس کے مانند قرار دینا تشبیہ کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم یہ کہیں کہ حامد شیر کی طرح بہادر ہے تو یہاں پر حامد کو اس کی بہادری کے سبب شیر سے تشبیہ دی جارہی ہے جو کہ ایک طاقت ور اور بہادر جانور سمجھا جاتا ہے۔
تشبیہ کے ارکان ؛
تشبیہ کے اس عمل کو ہم پانچ حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں :
مشبہ بہ : جس شئے یا شخص کو تشبیہ دی جاتی ہے اسے مشبہ بہ کہتے ہیں۔
وجہ شبہ : جس مماثلت کی بناء پر تشبیہ دی جائے اسے وجہ شبہ کہتے ہیں۔
حرف شبہ : وہ حرف جس کے ذریعے مشبہ اور مشبہ بہ کو یکساں قرار دیا جائے۔
غرض شبہ : کسی شے یا شخص کے کسی وصف کی جانب دوسروں کو کسی مثال کے ذریعے متوجہ کرنے کی ملت جو الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتی۔
اب اس جملے پر غور کیجیے
"غزالہ کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح خوب صورت ہے ۔"
اس جملے میں غزالہ مشبہ چودھویں کا چاند مشبہ بہ اور خوب صورت وجہ شبہ کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں غزالہ کے چہرے کو خوب صورت ہونے کی بناء پر چودھویں کے چاند سے تشبیہ دی جاری ہے، جس کا خوب صورت ہو تا مسلم ہے۔ اسی طرح اس جملے میں لفظ " طرح " حرف شبہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں تک فرض شبہ کا تعلق ہے وہ الفاظ میں ظاہر نہیں ہوتی ۔ ہم صرف اس قدر کہ سکتے ہیں کہ تشبیہ کی ملت یا فرض یہ ہوتی ہے کہ ہم کسی شے یا شخص کے کسی وصف کی جانب دوسروں کو کی مثال کے ذریعے متوجہ کرسکیں۔ دوسری مثال ملاحظہ ہو
ناز کی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
یہ شعر خدائے سخن میر تقی میر کا ہے۔ اس میں لب نشہ ، گلاب کی پکھڑی مشبہ بہ اور ناز کی وجہ شبہ ہے۔
تشبیہ کی اقسام
ایک بات اور ذہن نشین رہے کہ تشبیہ کے اس عمل میں یہ قطعا ضروری نہیں ہے کہ بیک وقت چاروں ارکان تشبیہ کی پابندی کی جائے ۔ ارکان میں حذف واضافے کے لحاظ سے تشبیہ کی درج ذیل اقسام قرار دی جاتی ہیں۔
تشبیہ
تشبیہ مرسل : تشبیہ مرسل و تشبیہ ہے جس میں حرف تشبیہ کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہو جیسے چھوٹا بچہ پھول کی طرح نرم و نازک ہوتا ہے۔ اس جملے میں حرف تشبیہ " طرح موجود ہے اس لیے یہ تشبیہ مرسل ہے۔
تشبیہ موکد : تشبیہ کی اس قسم میں حرف تشبیہ کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ مثال دیکھیے ” ماجد سخاوت میں حاتم ہے ۔ اس جملے میں ماجد مشبہ "حاتم " مشبہ بہ اور متفاوت وجہ شبہ کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن طرح یعنی حرف شبہ محذوف ہے۔
تشبیہ مفصل : تشبیہ کی اس قسم میں وجہ شبہ واضح طور پر موجود رہتا ہے۔ جیسے یہ جملہ حامد بہادری میں شیر کی طرح ہے۔“ اس جملے میں وجہ تشبیہ بہادری کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
تشبیہ مجمل : کبھی بھی وجہ یہ بھی محذوف ہوتی ہے جیسے وہ عصر حاضر کا ارسطوقرار دیا جاتا ہے۔ اس جملے میں وہ مشبہ ہے اور ارسطو مشبہ بہ لیکن وجہ شبہ حکمت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
تشیہ بلیغ : تشبہ کی اس قسمیں تشبیہ میں زور پیدا کرنے کے لیے حرف تشبہ اور وہ تشبیہ دونوں ک حذف کر دیا جائے گا۔ ایسا کسی بیان میں مزید زور پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ جیسے محبت زندگی ہے ۔“
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں