استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ (ع) ہم مذکر بغوی معنی مانگ لینا علم زبان کی اصطلاح میں مجاز کی ایک قسم ہے یعنی جب مضاف الیہ کو مضاف سے کچھ تشبیہ کا لگاؤ ہو تو اس مضاف کو استعارہ کہتے ہیں ۔ جیسے اصل اب اور سر وقہ ، یہاں لب کا محل سے اور مرد کا قد سے استعارہ ہے۔ اگر مشبہ کو چھوڑ کر مشبہ بہ کا ذکر کر کے مشبہ سے مراد لیں تو اصل بمعنی اب اور سرو بمعنی قدر ہوگا۔ اس صورت میں استعارے کی پوری پوری تعریف صادق آئے گی ۔"


(فرہنگ آصفیہ، جلد اول، صفحہ 170)


استعاره ( ع بالکسر وکس سوم ، کسی چیز کا عاریتہً مانگنا ،وہ علم بیان کی اصطلاح میں حقیقی اور مجازی معنوں کے درمیان تشبیہ کا علاقہ ہوتا۔ یعنی حقیقی معنوں کا لباس عاریہ مانگ کر مجازی معنوں کو پہنانا ) ذکر اردو میں بیشتر دوسرے معنی میں مستعمل ہے۔“

(نور اللغات، جلد اول، صفحہ 334)


اوپر کی تعریفوں سے معلوم ہوتا ہے کہ استعارہ سے مراد وہ صورت ہے جب مشبہ بہ " کو عین مشبہ“ قرار دیا جاتا ہے۔ مثلا اگر یہ کہا جائے کہ " احمد شیر کی طرح بہادر ہے تو یہ تشبیہ ہے، لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ احمد شیر ہے ۔ تو یہ استعارہ ہے کیونکہ یہاں مشبہ بہ شیر کو مشبہ احمد قرار دیا گیا ہے۔ آپ اسے اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا علاقہ ہو تو ایسے مجاز کو استعارہ کہتے ہیں۔ ایک مثال اور دیکھئے، مرزا دبیر کا مصرعہ ہے:


کسی شیر کی آمد ہے کہ رن کا لنپ رہا ہے


اس مصرعہ میں دبیر نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کے صاحب زادے حضرت عباس کی میدان جنگ میں آمد کا بیان کیا ہے۔ حضرت عباس بے پناہ شجیع و بہادر تھے، اسی رعایت سے شاعر نے انہیں شیر کہا ہے۔ یہاں بھی استعارتاً مشبہ بہ "شیر" کو مشبہ" حضرت عباس قرار دیا گیا ہے۔ استعارے کے ضمن میں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ استعارے کی صورت میں مشبہ کی جگہ جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ " مستعارلہ" کہلاتا ہے۔


اسی طرح مشبه به کوا مستعارمنہ اور وجہشبہ کو "وجہ جامع" کہتے ہیں۔ استعارے کی چند اور مثالیں ملاحظہ ہوں ۔


اسے تشبیہ کا دوں آسر اکیا 

وہ خود اک چاند ہے پھر چاند سا کیا 


اس شعر میں مستعارلہ محبوب ہے، مستعار منہ چاند اور وجہ جامع خوب صورتی ہے۔ دوسرا شعر 


کیوں سنے عرض مضطرب مومن 

صنم آخر خدا نہیں ہوتا


اس شعر میں مستعارالہ محبوب ، مستعار منہ صنم اور وجہ جامع بے حسی و سنگ دلی ہے۔


ایک اور شعر دیکھئے۔ 

پلکوں پہ مچل رہے ہیں انجم

کس چاند سے آنکھ جالڑی ہے


اس شعر میں مستعارلہ محبوب یا آنسو مستعارنہ چاند یا انجم اور وجہ جامع محبوب کا حسن یا آنسوؤں کا چمکنا ہے۔ اب ہم استعارے کی مختلف اقسام سے واقفیت حاصل کریں گے۔ استعارے کو درج ذیل سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:


وقافیہ :


جب مستعار منہ اور مستعارالہ دونوں ایک جگہ جمع ہوں جیسے یہ شعر :


یہ سنتے ہی تھرا گیا گلہ سارا 

کہ راعی نے للکار کر جب پکارا


مندرجہ بالا شعر میں پیغمبر کا استعارہ راعی سے کیا ہے اور ایک ہی شخص میں پیغمبر اور راعی کا جمع ہونا ممکن ہے۔ یہاں راعی سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے۔ بچپن میں آپ نے اپنی دایہ جناب علیمہ سعدیہ کی بکریاں بھی چرائی تھیں ۔ اس رعایت سے شاعر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راعی کہا ہے۔ جس طرح ایک راعی ادھر ادھر بھاگتی اپنی بھیڑوں کو آواز دے دے کر ایک جگہ جمع کرتا ہے اور پھر انہیں راستے پر لے آتا ہے، اسی طرح خدا کا پیغمبر بھی اپنی منتشر اور بے راہ قوم کو تلقین وتربیت اور رونمائی کے ذریعے نیکی اور بھلائی کی راہ پر لے آتا ہے۔


عنادیہ


جب مستعارلہ اور مستعار منہ کا ایک جگہ جمع ہونا ممکن نہ ہو جیسے یہ شعر


وہاں تو سیم و زران کی نظر میں خاک نہیں

یہاں ہم ایسے تو انگر کہ گھر میں خاک نہیں


اس شعر میں مفلس کو توانگر سے استعارہ کیا ہے۔ یہاں مفلس کی حیثیت مستعارلہ کی ہے جب کہ تو انگر" مستعار منہ ہے۔ ظاہر ہے کہ مفلس و توانگر کا ایک ہی جگہ جمع ہونا ممکن نہیں ہے۔


مطلقہ


جب مستعارلہ اور مستعارمنہ کی صفات اور مناسبات میں سے کسی کا ذکر نہ ہو۔ مثال کے طور پر میر انیس کا یہ شعر دیکھئے:

بڑھتے تو کبھی صورت شمشیر نہ رکتے

غصے میں کسی طور سے وہ شیر نہ رکتے


شاعر نے شمشیر یعنی تلوار کی صفت تیزی اور شیر کی صفت " بہادری کا ذکر نہیں کیا ہے جب کہ یہی وہ دوصفات و مناسبات ہیں جو مستعارلہاور مستعار منہ دونوں میں موجود ہیں لیکن شعر میں دونوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔


مجرده


جب صرف مستعارلہ کے مناسبات کا ذکر ہو۔ جیسے 


اقرار ہے صاف آپ کے انکار سے ظاہر

ہے مستی شب نرگس مے خوار سے ظاہر 


اس شعر میں شاعر نے آنکھ کا استعارہ نرگس سے کیا ہے اور پھر آنکھ کی رعایت سے اس کے مناسبات مستی و مئے خواری کا ذکر کیا ہے، اس لیے یہاں استعارہ مجردہ ہے۔


مرشحہ

جب صرف مستعار منہ کی صفات اور مناسبات کا ذکر ہو۔ جیسے یہ شعر


نانا سے چھٹے قبر حسن چھوڑ کے آئے

اس دشت کے کانٹوں میں چمن چھوڑ کے آئے


اس شعر میں اس واقعہ کا ذکر ہے جب حضرت امام حسین مدینہ سے کربلا کے لیے روانہ ہوئے اور رخصت سے پہلے اپنے نانا یعنی رسول اللہ صلی علیہ وسلم اور اپنے بڑے بھائی سیدنا امام حسن مجتبی کی قبر مبارک پر حاضری دی۔ شاعر نے چمن کا استعارہ وطن کے لیے کیا ہے۔ دشت اور کانٹوں کا ذکر وطن یعنی مستعار منہ کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔


تصریحہ 


جب صرف مستعار منہ کا ذکر کریں اور مستعارلہ محذوف ہو تو اس کو استعار و تصریحہ یا استعارہ بالتصریح کہا جائے گا ۔ مثال ملا حظہ ہو:


آفتاب روز مشتاقان ہو یا رب جلوہ گر 

شام تنہائی بسر ہوتی ہے کیو نکر دیکھیے


اس شعر میں معشوق مستعارلہ ہے، آفتاب مستعار منہ ہے اور جلوہ گری وجہ جامع ہے۔ شعر میں معشوق یعنی مستعارلہ کا ذکر نہیں بلکہ اس کی جگہ مستعار منہ یعنی آفتاب کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اب چونکہ مستعار لہ یعنی معشوق محذوف ہے اس لیے استعارے کی اس قسم کو استعارہ بالتصریح کہا جا جائے گا۔


 بالكتابه و خیله 


جب صرف مستعارلہ کا ذکر کیا جائے اور مستعار منہ محذوف ہو تو ایسی صورت کو استعارہ بالکنا یہ کہا جاتا ہے، لیکن اس عمل کے لیے کوئی قاعدہ اختیار کیا جانا ضروری ہے۔ اور وہ قاعدہ یہ ہے کہ مستعار منہ کے مناسبات ولوازمات کو برتا جائے جنہیں استعارہ تخیلہ کہا جاتا ہے۔ ایک مثال ملا حظہ ہو


نرگس کی کھلی نہ آنکھ ایک چند

 سوسن کی زباں خدانے کی بند


مندرجہ بالا شعر میں نرگس کو دیکھنے والے شخص سے اور سوسن کو بولنے والے شخص سے استعارہ کیا ہے۔ آنکھ اور زبان دونوں کے لوازم مستعار لۂ

کے لیے بیان کیے ہیں اور یہی استعارہ بالکنا یہ تخیلہ ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام