اشاعتیں

مارچ, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غزل کا فن

  غزل کافن ایجاز واختصار کا فن ہے۔ غزل کے ایک شعر کے دو مصرعوں میں ہی ایک مکمل اور بڑے سے بڑا خیال پیش کر دیا جاتا ہے۔ جو خیال کئی صفحات پر مشتل نظم میں پیش کی جائے وہی بات غزل کے دو مصروں میں پیش کر دی جاتی ہے۔ اس لیے غزل کے فن کو ایجاز واختصار کافن کہتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ قادر الکام شاعری غزل کے ساتھ انصاف کرسکتا ہے۔ دو مصروں میں عمل بات کہنے کے لیے غزل کا شاعر علامتوں ، کنایوں، استعاروں، تشبیہات اور صنائع و بدائع کا اپنے اشعار میں کثرت سے استعمال کرتا ہے۔ کیوں کہ شعر کے دونوں مصرعوں کا آپس میں گتھا ہونا ضروری ہے۔ ایک الزام یہ ہے کہ غزل میں کسی مسلسل خیال کا بار اٹھانے کی طاقت نہیں ہے۔ اس حوالے سے شمیم احمد لکھتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ غزل تسلسل خیال کا عموماً بار نہیں اٹھاتی لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ غزل کی صنف میں تسلسل خیال بالکل شئے ممنوعہ ہو۔ یہ درست ہے کہ نظم اور مسلسل غزل میں بہت باریک اور نازک فرق ہے۔ ایک پھوہڑ اور بے مغز شاعر تو ضرور موضوعی تسلسل کی وجہ سے غزل کو نظم کے دائرے میں لے آ سکتا ہے۔ لیکن ایک سچا اور قادر الکلام شاعر ، جو جذبہ و احساس کو خالص داخلی اظ...

اسلوبیاتی تنقید کی مختصر تعریف

 لسانیات کی روشنی میں ادبی فن پارے کے مطالعے اور تجزیے کو اسلوبیات (Stylistics) کا نام دیا گیا ہے۔ لسانیات زبانوں کے سائنسی مطالعے کا نسبتا ایک جدید علم ہے۔ اس شعبہ علم کا اپنا مخصوص طریق کار ہے جسے بروئے عمل لاتے ہوئے یہ زبانوں کے مطالعے اور تجزیے کا کام انجام دیتا ہے۔ لسانیاتی طریق کار کا اطلاق جب ادب کے مطالعے میں کیا جاتا ہے تو یہ مطالعہ اسلوبیات کہلاتا ہے۔ اسے اسلوبیاتی تنقید بھی کہتے ہیں۔ اسلوبیات کے سائنسی مطالعے کا بھی نام ہے۔ چوں کہ ادب کا ذریعہ اظہار زبان ہے، اس لیے اسلوب کی تشکیل و تعمیر زبان کے اشتراک کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی لیے اسلوب کو ادبی فن پارے کی ان لسانی خصوصیات سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اسے انفرادیت بخشتی ہیں اور جن کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ فلاں مصنف کی تصنیف یا تخلیق ہے۔ زبان کا بنیادی ڈھانچا اگر چہ ایک ہوتا ہے، لیکن زبان کے استعمال کی نوعیت ہر شاعر اور ادیب کے یہاں جدا گانہ ہوتی ہے۔ اس لیے ہر ادبی فن کار کا اسلوب بھی جدا گا نہ ہوتا ہے، اور جب اس کا اسلوب اس درجہ مخصوص ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی پہچان یا شناخت بن جائے تو اسے صاحب اسلوب کہا جانے لگتا ہے۔