غزل کا فن
غزل کافن ایجاز واختصار کا فن ہے۔ غزل کے ایک شعر کے دو مصرعوں میں ہی ایک مکمل اور بڑے سے بڑا خیال پیش کر دیا جاتا ہے۔ جو خیال کئی صفحات پر مشتل نظم میں پیش کی جائے وہی بات غزل کے دو مصروں میں پیش کر دی جاتی ہے۔ اس لیے غزل کے فن کو ایجاز واختصار کافن کہتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ قادر الکام شاعری غزل کے ساتھ انصاف کرسکتا ہے۔ دو مصروں میں عمل بات کہنے کے لیے غزل کا شاعر علامتوں ، کنایوں، استعاروں، تشبیہات اور صنائع و بدائع کا اپنے اشعار میں کثرت سے استعمال کرتا ہے۔ کیوں کہ شعر کے دونوں مصرعوں کا آپس میں گتھا ہونا ضروری ہے۔ ایک الزام یہ ہے کہ غزل میں کسی مسلسل خیال کا بار اٹھانے کی طاقت نہیں ہے۔ اس حوالے سے شمیم احمد لکھتے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ غزل تسلسل خیال کا عموماً بار نہیں اٹھاتی لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ غزل کی صنف میں تسلسل خیال بالکل شئے ممنوعہ ہو۔ یہ درست ہے کہ نظم اور مسلسل غزل میں بہت باریک اور نازک فرق ہے۔ ایک پھوہڑ اور بے مغز شاعر تو ضرور موضوعی تسلسل کی وجہ سے غزل کو نظم کے دائرے میں لے آ سکتا ہے۔ لیکن ایک سچا اور قادر الکلام شاعر ، جو جذبہ و احساس کو خالص داخلی اظہار دے سکتا ہے وہ فکر و خیال کے تسلسل کے باوجود اپنی تخلیق کو غزل کے مخصوص دائرے سے باہر نہیں آنے دیتا، چنانچہ اردو میں اس نوع کی چند عمدہ مسلسل غزلیں بھی موجود ہیں ۔ (شمیم احمد: درس بلاغت ، ص 138)
غزل کے فن پر بات کرتے ہوئے ریختی اور ہزل کی اصطلاحیں بھی سامنے آتی ہیں۔ یعنی غزل میں جب عامیانہ خیالات کا اظہار ہوا اور اس میں مزاح کی چاشنی ہو تو ایسی غزل کو ہزل کہتے ہیں۔ اسی طرح جو غزلیں عورتوں کی زبان میں ہوں ، عورتوں کے لب و لہجے میں عورتوں کی جانب سے خطاب کیا گیا ہو تو ایسی غزلوں کو ریختی، کہتے ہیں۔ درس بلاغت کی تحریر کے مطابق ریختی ایک ایسی صنف ہے جو صرف اردو شاعری میں ملتی ہے۔ اردو زبان کا ایک نام ریختہ بھی رہا ہے۔ اس کی مناسبت سے جو غزلیں عورتوں کی زبان، عورتوں کے الفاظ ، عورتوں کے لب و لہجے اور عورتوں کی طرف سے خطاب کے انداز میں کہی گئیں ، انہیں اصطلاحاً ریختی کہا گیا۔ اور یوں بجاطور پر یہ شعری اصطلاح ، ریختہ کی تانیث ہے۔ اسی طرح ہزل کے تعلق سے شمیم احمد کی تحریر کا مندرجہ ذیل اقتباس قابل غور ہے :
غزل کی ہیئت میں ریختی کے علاوہ ایک اور اسلوب اردو شاعری میں مروج رہا، جسے اصطلاحاً ”ہزل“کہا جاتا ہے۔ موضوع ، خیالات ، جذبات اور محسوسات کے لحاظ سے غزل لطافت و طہارت اور متانت و فطانت کی علمبردار ہے ، جبکہ ہزل غزل کی ہیئت میں سوقیانہ، عامیانہ اور مبتذل خیالات و افکار کے اظہار کا نام ہے۔ ہزل میں مزاح کی چاشنی ہوتی ضرور ہے لیکن اس سے کوئی لطیف احساس نہیں پیدا ہوتا، ایک طرح سے دیکھا جائے تو ہزل کا مزاح کثیف ہے۔ ریختی اور ہزل میں بس یہی ایک فرق ہےکہ ریختی کا لب ولہجہ اور انداز تخاطب زنانہ ہے جبکہ ہنزل کا لہجہ غزل کی طرح مردانہ ہے۔“
( شمیم احمد : درس با اغت ، ص 139 )
غزل کی ایک خاص خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں درون بینی پائی جاتی ہے۔ غزل کا شاعر جو کچھ کہتا ہے اس میں ڈوب کر کہتا ہے ۔ وہ غزل کہتے ہوئے باہر کی دنیا کی سیر کرنے کے بجائے اپنے اندرون کی سیر کرتا ہے۔ اسے خارجی حالات کا تجربہ ومشاہدہ کرنے کی فرصت اور چاہت نہیں ہوتی ۔ وہ اپنے دل کی دنیا کی سیر میں منہمک ہوتا ہے ۔ وہ اپنی تخیل سے ایسے حسین پیکرتراشتا ہے کہ اسے باہر کی دنیا میں تاک جھانک کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ہے۔ غزل گو شاعر کے نزدیک تخیل ہی اصل حقیقت ہے ۔ درون بینی کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنے آپ سے گفتگو کرے۔ غزل کا شعر اندرونی تجربے کا اظہار ہوتا ہے اس لیے وہ دوسرے اصناف سخن کے مقابلے زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ غزل کے فن پہ گفتگو کرتے ہوئے تخیل ، تغزل اور رمز کا ذکر بھی ناگزیر ہے۔ جب بھی غزل کے فن پہ بات ہوگی تو غزل کے اجزائے ترکیبی کا ذکر بھی ہوگا اور دروں بینی تخیل ، تغزل اور رمز کی بات بھی ہوگی ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں