سر سید کا اصل کام از مولوی عبد الحق
لوگ کہتے ہیں کہ سرسید نے کالج بنایا ۔ کالج نہیں ، اس نے۔ قوم بنائی ۔ قومیت کا تصور پیدا کیا ۔ مردہ دلوں میں روح پھونکی اور زندگی کے ہر شعبے کو بنایا اور سنوارا تعلیم علم و ادب، زبان، سیاست، صحافت، مذہب سب کو جدید نظر سے دیکھا ، وقت کے تقاضے کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ اوہام باطلہ اور خیالات فاسدہ کا قلع قمع کیا اور ہم قوموں کی عقلیت اور تحقیق کی طرف رہنمائی کی جسے وہ بے جا تقلید کی فرمانبرداری میں بھول چکے تھے۔ اس زمانے میں مسلمان اس وقت کے حالات اور حکومت سے مطلق مطمئن نہیں تھے۔ بلکہ سخت ناراض تھے۔ بہت سے انگریزوں سے اس لئے نا خوش اور متنفر تھے کہ انہوں نے حکومت مسلمانوں سے غصب کی تھی۔ بہت سے مذہبی تعصب کی بناء پر انگریزوں کو نجس اور ان کی حکومت کو نا قابل برداشت خیال کرتے تھے۔ بہت سے اپنی گری ہوئی خستہ حالت سے نالاں تھے اور سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کیا جاوے۔ قدیم خیال کے علماء کو چھوڑیے، جدید فکر کے روشن خیال عالم جنہوں نے علم و عقل سے قوم کی خدمت کی ہے اور اصلاح قوم اور اسلامی تاریخ کی تحقیق میں بڑا کام کیا ہے۔ ان کو بھی ہم نے بڑے فخر سے یہ کہتے سنا ہے، کہ ہمیں آگے جانے کی ضرورت نہیں، ہمیں تو تیرہ سو سال پیچھے جانے کی ضرورت ہے۔ گویا پیچھے جانا ایسا آسان اور ممکن ہے۔ ان کی سمجھ میں یہ معمولی سی بات نہیں آتی کہ تیرہ صدی پہلے کا ماحول ہم اس زمانے میں کیسے لا سکتے ہیں یا پیدا کر سکتے ہیں اور وہ ماحول اس زمانے کے چوکھٹے میں کیسے ٹھیک بیٹھے گا۔
سرسید کی نظر مستقبل کی طرف تھی ۔ قوم کو پیچھے. کی. طرف نہیں آگے کی طرف لے جانا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے ہم قوموں کو جدید علوم اور کمالات سے روشناس کرانے کی کوشش کی جن کی بدولت اقوام مغرب کو قابل رشک فضیلت حاصل ہے۔ جیسا کہ میں اپنے ایک مضمون میں لکھ چکا ہوں دور گزشتہ میں ایسی عظیم ہستی اس سے پہلے کبھی نہیں تھی نہ اس کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔ اس کا زبردست عزم و استقلال، بے لوث خدمت ، انہماک ، ایثار، اصابت رائے ، خلوص ایسی خوبیاں تھیں جو ایک فرد واحد میں مشکل سے جمع ہوتی ہیں ۔ اس نے شکست خوردہ ، افسردہ دل قوم میں بیداری پیدا کی ، ان کے بجھے ہوئے دلوں میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا۔ اپنی مدد آپ کرنا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا سکھایا۔ خودداری کا سبق دیا اور حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے قومیت کا خیال اس نے دلایا اور ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک الگ قوم کی حیثیت سے پیش کیا اس کے لیے اسے بڑی بڑی مصیبتیں اور اذیتیں جھیلنی پڑیں اور دو زبردست عیار قوموں سے مقابلہ کرنا پڑا جو مل کر مسلمانوں کو پیس رہی تھیں اس نے اپنی دانشمندی اور صداقت - کے زور سے اس متحدہ محاذ کو توڑکر مسلمانوں کی فلاح و بہبودی کا راستہ نکالا ۔
جن افراد یا قوموں میں تخلیقی قوت اور کام کرنے کی صلاحت اور ولولہ نہیں رہتا تو وہ اسلام کے گن گا کر اور ان کے کارناموں کو پڑھ پڑھ کے یا سن سن کر فخر کرتے اور اپنے دل کو خوش کرتے ہیں یہ قوموں کے زوال کی علامت ہوتی ہے۔ وہ رفتہ رفتہ گرتی چلی جاتی ہیں ۔ مرتی تو نہیں لیکن زندگی کے تمام آثار مٹنے شروع ہو جاتے ہیں۔ مذہب کی جگہ اوہام لے لیتے ہیں۔ ایقان کی جگہ تعصب اور مہر و آشتی کی جگہ حسد و نفرت کا رفرما ہونے لگتے ہیں جن لوگوں کے پیش نظر کوئی خاص مقصد ہوتا ہے اور بڑے کاموں کا عزم رکھتے ہیں ، انہیں فضول باتوں اور فخر و تعلی کی فرصت ہوتی ہے نہ شہرت وناموری کی تمنا۔ ان کے کاموں کی قدر ان کی زندگی میں نہیں ہوتی کیونکہ زوال آمادہ قوم کو ان عظیم کاموں کے سمجھنے اور قدرکرنے کے لیے بہت وقت در کار ہوتا ہے ۔ سرسید ایسی ہی عظیم اور برگزیدہ ہستی تھے۔ پاکستان کو سید احمد خانی ہمت و عزم اور دردو خلوص کی ضرورت ہے ۔ یہ بیڑا ایسےبھی نا خداؤں کی ہمت سے پار ہوگا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں