یادوں کے دریچے (احتشام حسین کی یاد میں ایک تحریر ) از ظ انصاری

 احتشام صاحب! آپ تو بڑے بے مروت نکلے یوں ہر ایک کے ساتھ ، دوست دشمن ۔ کے ساتھ اتنی مروت دکھایا کرتے تھے ، برتاؤ میں بھی تنقید میں بھی ۔ اور منھ پھیرا تو زمانے کی ناقدری کا ایک لمحے میں منھ توڑ جواب دے دیا۔ آپ نے اس سے پہلے کبھی شکایتِ زمانہ تک نہ کی ۔ شکایت بھی بر سبیل حکایت ہوتی تھی ذرا مسکرا کر یاد ہے آپ نے ایک بار کہا تھا؟


بھئی میں تو سوچ کر لکھتا ہوں کہ رسالہ پڑھنے والے شروع فہرست میں ہی میرے مضمون کے صفحے گن لیتے ہوں گے اور اندرا تنے ہی ورق الٹ دیتے ہوں گے بغیر پڑھے۔ کہ اسے پھر کبھی دیکھ لیں گے ۔ کاش ایک بار آپ اُٹھ کر دیکھ لیتے کہ ۲۵ - ۳۰ برس میں ہماری غریب الوطن زبان کے کسی اہل قلم کا ایسا سوگ نہیں منایا گیا جتنا آپ کا ۔۔۔۔۔کوئی رسالہ کوئی جلسہ، کوئی علمی یا ادبی محفل آپ کے ذکر سے خالی نہیں ہے احتشام صاحب ! پچھلے سال پروفیسر چیلا شیف اپنے ممدوح سمترانندن پتے سے ملنے الہ آباد بھی گئے تھے۔


جب واپس ماسکو آئے تو میں نے پوچھا: ” اور کس کس سے ملے ؟ کہنے لگے ۔ ایک ہی دن الہ آباد ٹھہرا لیکن جب شہر میں احتشام حسین جیسا آدمی موجود ہو تو ۔۔۔۔ آپ جانئے ادبی جرم ہے ان کے درشن نہ کرنا ۔ اس قدر متوازن رائے رکھتے ہیں وہ کہ ان کی رائے سن کر معاملات کی تہہ تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔ پھر آپ کی خوبیوں کا تذکرہ تا دیر رہا اور سوچا جانے لگا کہ کچھ عرصے کے لیے آپ کو زحمت دی جائے اور جب ایک بار آپ ماسکو آ جائیں تو بس پکڑ لیں ۔ گھیراؤ کر کے سال دو سال کے لئے روک لیں ۔ آپ کو کیا خبر احتشام صاحب ! ہندوستانی ادبیات کا مطالعہ کرنے والے روسیوں کے دل میں آپ کا کتنا احترام ہے ۔ درجنوں مضامین آپ کے چراغ سے چراغ جلا کر لکھے گئے ہیں۔ آپ کا ایک ایک لفظ پڑھا اور سمجھا گیا ہے ۔ جان بیمز کے لسانیاتی مطالعے پر جو دیباچہ آپ نے لکھا تھا ، وہ مستقل تصنیف کا مقام رکھتا ہے ۔ حالی پر آپ کے مضامین ،  ، حالی کے نکتہ چینوں کے لیے ایک مسکت جواب ہیں ۔ جابجا حوالے دئے جاتے ہیں۔ ہندی میں آپ نے تاریخ ادب اُردو تصنیف کی اور ملک کے گوشے گوشے میں وہ کتاب پہنچی ۔ غالب پر آپ کا وہ مقالہ جو میرے اصرار پر ماسکو بھیجا تھا، مستعد تصنیف  معنویت رکھتا ہے ؟ اُردو ہندی کے مسئلے پر آپ کی مدلل اور کھری تحریریں، تقریر میں اہل فکر کو سوچنے پر اپنی رائے کی نظر ثانی پر مجبور کر دیتی تھیں ۔ کون سا ایسا ادبی مسئلہ گزشتہ تیسں برس میں اٹھا ، قابل ذکر ادبی تصنیف ایسی نکلی جس پر آپ نے وسعت نظر ، سکون قلب ، گہرے مطالعے اور منطقی ربط کے ساتھ اپنی مفصل رائے نہ دی ہو۔ آپ ٹال جانے والے آدمی نہ تھےبس ایک بار اس بار تو ٹال جاتے ۔ احتشام صاحب، بظاہر تو آپ خط مستقیم کے نقاد تھے۔ ایسے شخص کے لئے سارے مسئلے طئے شدہ ہوتے ہیں۔ ہر بات کا دوٹوک جواب اس کی جیب میں دھرا رہتا ہے، مگر آپ کی سادہ ہی شیروانی کے بٹنوں تلے کیا کوئی خلفشار برپا تھا؟ کیا نتیجوں پر پہنچتے سے آپ بھی پیچ در پیچ  ، دیکھی  ان دیکھی ، جانی  ان جان کشمش سے دوچار ہوا کرتے تھے؟ ضرور ہوتے ہوں گے۔ آپ کے ایمان کے صراط مستقیم کی راہ میں  کتنے گوکھر بیچھے تھے۔ یہ وہی لوگ جانتے ہیں جو " نزدیکان بے بصر " میں نہیں بلکہ  ان باخبر میں سے ہیں ۔ آپ کے خطوط نے مجھے یہ شرف بخشا تھا اور کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا جب آپ پر رشک نہ آیا ہو۔ سرور صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ  ننا بچہ  کھیلتے کھیلتے  آپ کے سامنے آ یا تو آپ نے پوچھا، کیا بات ہے؟ کیا چاہئے؟ اس نے کہا ابا جان ، الجھن ہو رہی ہے، کچھ نہیں چاہیے ۔ آپ بے اختیار ہنسں پڑے کہ دیکھو اتنا سا بچہ اسے بھی الجھن ہو رہی ہے۔ ہو نہ ہو اس نے یہ انتظا مجھی سے سیکھا ہے۔ میں ہر وقت الجھن کا لفظ دہرانے لگا ہوں۔


احتشام صاحب، یہ الجھن بڑی مبارک ہے۔ یہ تفکر سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ وہی تفکر ہے جس کے لیے فرمایا کہ گھنٹے بھر کی سوچ سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے ۔ جن لوگوں نے کسی دین یا ازم کی عبادت کو ہی نجات کا راستہ سمجھ رکھا ہے وہ اس الجھن سے پاک رہتے ہیں ۔ ان کے ماتھے پر سجدوں کا داغ اور ہتھیلی میں ایک گھونسہ محفوظ رہتا ہے ، پیٹ کے اوپر کتاب کا وہ نشان نہیں ہوا کرتا جو آپ کی بنیائن کے نیچے چھپا ہوا تھا۔ نیم دراز ہو کر اگر آدمی سینے کی ہڈیوں کے نیچے بھاری کتاب کھول کر گھنٹوں پڑھتا چلا جائے اور چالیس برس اسی پوز میں بسر کر دے تو اسے یہ یدِ بیضا نہیں نصیب ہوتا یہیں نشان امتیاز عطا ہوتا ہے فطرت کی بارگاہ ہے ۔ احتشام صاحب، آپ نے کسب معاش کا جو وسیلہ اختیار کیا ، اس کے ساتھ ایسا انصاف کر گئے کہ باید و شاید ۔ ہمارے حلقے میں تو لوگ اس پر فخر کرتے مر جاتے ہیں کہ پیشہ ایک ہے، کام دوسرا کرتے ہیں ۔


پیشہ ادب کا محویت فلم کی ، پیشہ معلمی کام لیڈری ، پیشہ صحافت ، نام ادب میں پیشہ کم ٹیکس یا

طبابت یونانی اور ریشہ دوانی شاعری یا تنقید میں، پیشہ وزارت ، قدم صحافت و ادب میں ، یا یوں ایک سے دوسرے کو غذا پہنچاتے ہیں ۔ آپ آدمی بڑے سیدھے سمجھاؤ کے تھے جو ظا ہر وہی باطن ، جو کام چنا اس کی عمارت چن ڈالی ۔ موٹی موٹی کتابوں سے ہم بے بضاعت لوگوں پر رعب ڈالنے کی نہ کوشش کی نہ تمنا  ۔ بہت ہوا تو ایک جامع سا مضمون لکھ دیا۔ جائزہ لے لیا تمام ادبیات کا ، اور  تحریکوں اور تحریروں کا۔ وہی لیکچر وہی مقالہ ۔ ارے آپ نے تو بارہ مجمو عے تنقید کے دیے اور لگے ہاتھوں پی۔ ایچ۔ ڈی.  تک نہ لیا ۔ کتنوں نے آپ کے آگے زانوے ادب تہہ کیا اور ڈاکٹریٹ لے کر اٹھے۔ تالیف کی اور ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ لے لیا۔ روس والوں کا نہروایوارڈ پایا۔ مگر آپ ؟ زندگی بھر ضرورت مند رہے اور ہمیشہ بانٹ ونٹ کر خوش ہو لیے ۔ احتشام صاحب ہاتھ جھٹک کر مجھے خاموش مت کیجئے۔ میں آپ کی شیروانی کی آستین تھام لوں گا۔ دیکھیے ، یہ بھی بھلا کوئی بات ہے؟ مجھے سب خبر ہے کہ آپ کیسے قاش قاش ہو کر ہے ہیں



منم آن میوه، ارزنده به بستان کمال

که بدست و دمن ذا الله ارزان هستم


ہوتے رہے ہیں ۔۔۔۔۔ پھر بھی آپ نے جتنا اور جیسا اور جس قدر مغز پاشی سے لکھا اُس

 سے کہیں کم یارلوگوں کو ابھی مندن گرنتھ نذر کئے گئے ہیں ۔ مالائے مروارید چیغہ اور سات پارچے کے خلعت ملے ہیں ۔ ذرا دیکھوں تو کہیں اس اجلے کفن میں کوئی خلعت چھپا ہوا ہو۔ دکھاتے جائیے۔

کیا "عیار طبع خریدار "سے اس قدر بدظن تھے آپ؟


تازیانہ ہے غیرت مندوں کو یہ آپ کی بدظنی اور خاموشی ۔ عجب نہیں کہ علمی اور ادبی تمغوں کا راتب ( راشن ) بانٹنے والوں میں سے کسی کی رگ حمیت زندہ ہو جائے آپ کی اس مرگ ناگہاں سے 


      

    احتشام صاحب، آپ نے جس سماجی اور انفرادی تہذیب میں سانس لیا و وزندہ درگور ہے۔


آپ نے ان بڑوں کی آنکھیں دیکھی تھیں جو نہ مشرق سے بیزار تھے، نہ مغرب سے حذر کرتے تھے۔


ان کے بہ نفس کی آمد و شد میں ہر شب کو سحر کر" کا درود گونجا ہوا تھا۔ ڈی۔ پی ۔ مکر جی سے جو کچھ آپ

کے جو بہ قابل نے پایا ہوگا اس کا اندازہ آپ کے بعد کے مضامین سے ہوتا ہے جو شش اُردو یا فارسی ادبیات کے مطالعے پر تکیہ کر کے نہیں لکھے گئے ۔ ان کے پس پشت نفسیات ، فلسفہ، تاریخ، لسانیات اور معاشیات کا وسیع اور تازہ مطالعہ بھی ہے۔ حق یہ ہے کہ اس کے بغیر محض موزونی طبع اور محدود ورق گردانی کی بدولت ، ادبی تنقید پر قلم اٹھانا بار ثبوت اپنے سر لینا ہے اور ڈاکٹر اعجاز حسین کی صحبت لطیفه طرازی ، خوش گوئی نکتہ سنجی اور رواداری یہ آپ کے مزاج میں نشست و برخاست میں چھن کر آئی ۔ جدلیاتی مادیت اور تاریخی مادیت فلسفہ ادق اور موٹی کتابوں میں نہیں ، پانی کے اس لوٹے میں رہا ہوگا جس سے آپ قلب و نظر کا وضو کرتے ہوں گے ۔ مغرب کی علمی جستجو نے آپ کو آگاہی اور علمی کاوش بخشی ، طلباء کو اٹھانے اور ابھارنے کی نیک خواہش نے آپ کی نیک نفسی کو بردباری اور سائی کا درس دیا : شرق کے نہایت ہی مہذب ملکوں سے آپ نے مجلسی آداب پائے ۔ اپنے بد نصیب رفیقوں سے محبت کرنا سیکھا ، اپنانا سیکھا اردو اور فارسی کے کلاسیکی ادب نے طبیعت میں گہرائی ، لہجے میں نرمی ، بات میں رچاؤ اور کردار میں لوچ بھر دیا۔ یوں آپ لدے پھندے جارہے تھے کہ اچانک بار امانت سر سے گرادیا۔ کچھ خبر ہے احتشام صاحب، یہ بار امانت آپ نے گرایا کسی زمین پر؟ اس زمین پر جہاں پر  ایک لاولد قبیلہ بستا ہے۔ خاکم بدہن بالکل لاولد ۔ پرانے رئیسوں میں آپ نے لاولد بزرگ دیکھے ہوں گے۔ پورب کے قصبوں میں ( جنہیں شاہ جہاں "شیرازماست" کہتا تھا ) کتنے ذی علم ، ذی جاہ خاندان ناپید ہو گئے اور اُن کے کتب خانے تل کر بکے ۔ یہاں تو اُردو کے اشراف کا اور اگر زبان سے تہذیبوں کی نشان دہی ہو سکے تو اردو تہذیب کے وارثوں کا پورا قبیلہ لاولد ہوتا جا رہا ہے ۔ بچے آپ سے جس زبان میں بات کرتے ہیں، اس زبان کی تہہ داری سے نابلد ہیں ، رسم خط سے بے گانہ ہیں اور نہیں جانتے کہ میراث پدر میں کیا کچھ غارت ہونے والا ہے۔ اب جبکہ ذرا ظہور زرخیزی کے آثار نظر آئے تھے تو آپ بھی چل دیے ۔ آپ کو تو اتنی پشتینی مراد ملی تھی۔ ذرا ٹھہرتے ۔ یہ تو دیکھ لیتے کہ علمی اکادمی میں آپ کی جگہ کس نام سے بھری جاتی ہے۔ املا اور ہجے درست کرا دیتے بعد والوں کا !


یاد ہے احتشام صاحب !


آپ نے جب امریکہ سے واپسی پر اپنا سفر نامہ’ ساحل اور سمندر“ لکھا۔ ابھی وہ چھپا نہ تھا کہ انصار حسین نے پڑھنے کو مجھے دیا۔ میں نے ایک طنز یہ خط بھیجا۔ خوب جلی کٹی سنائی کہ صاحب امریکہ جانا کون سا ایسا گناہ ہے کہ ساتھ صفحوں میں اس کی صفائی دی جارہی ہے؟ کیا مارکسزم کوئی مذہب ہے کہ اس میں فرقہ نجات پانے والا، باقی جہنمی ؟ کون سا ایسا انقلابی کمیونسٹ ہے جسے امریکہ سے بھی سیاحت کا دعوت نامہ آئے اور وہ منہ پھلا کر بیٹھ رہے یا اپنی نیت کی پاکیزگی کا ثبوت دیتا پھرے۔


مجھے تو حسرت رہ گئی کہ آپ تلخ سا، جلا کٹا جواب دیں ۔ آپ پی گئے ۔ ملے تو بس اتنا کہا کہ بھئی اور لوگوں نے جو مجھے پسند نہیں کرتے ، ایک یہی کتاب پسند کی۔ آپ کو غصہ دلانے میں ناکام ہو کر میں خود ہی پچھتایا ۔ آپ کی برد باری میں جو پیغمبرانہ شان تھی اس کے آگے ادب سے جھک کر رہ گیا ۔ آپ میں جو شیعیت تھی و دساری کی ساری اس ایک خلق اور سلوک میں سما گئی تھی جو "بے جا" سے مصلحت بھی نہیں کرتا اور بجا مصلحت سے منھ بھی نہیں موڑتا۔ بعض منھ پھٹ جدیدیوں سے جو مناظرہ آپ نے کیا اس نے آپ کے سلوک کا یہ پہلو بھی دکھا دیا۔


احتشام صاحب، آپ تو دیباچہ لکھنے والے تھے روسی شاعری کے منظوم ترجموں پر ۔ اب میں یہ شبوں کی محنت کسے بھیجوں ؟ کون اس پر آنکھیں ٹپکائے گا؟ اور کیوں ٹپکائے گا ؟ اور بہت ایک سے ایک بہتر لکھنے والے پڑے ہیں جن کی شبوں کی دیدہ ریزی اور شمع سوزی مسودوں میں محفوظ ہے، چھپائی کی مشین تک سے نہیں گذری ___یہ بھی ایک الجھن چھیلتی ہو گی آپ کو ۔

  آپ جانتے ہیں میں آج کل کیا کر رہا ہوں؟ تقریریں ! ان میں صرف مائیکروفون اور ایک ہال در کار ہوتا ہے ۔ کاغذ ، روشنائی ، چھاپا، جلد بندی اور پھر تقسیم کا دردسر مول نہیں لینا پڑتا ۔ آپ کو بھی تو ہم ایک تقریری سلسلے میں بمبئی بلانے والے تھے ، اُدھر جانے کے بجائے ادھر آ جاتے ۔ جابجا آپ کے نام کے جلسے ہو رہے ہیں ۔ یہاں پڑھنے اور سننے والوں کو تو فرصت مل بھی جاتی ہے، لکھنے والے عدیم الفرصت ہیں۔ تو کیا آپ نہیں آئیں گے؟ ایسے سنگ دل؟ ایسے بے مروت؟


مصائب اور تھے ، پر دل کا جانا

عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام