امتحان کی کہانی از رابعہ شیخ
یہ اس زمانے کی بات ہے جب امتحان، امتحان گاہ میں جا کر دیئے جاتے تھے ۔ امتحان کی تاریخیں جیسے ہی عام ہوت ایک الگ سماں ہو جاتا۔ ماحول پر ایک الگ ہی سنجید گی طاری ہو جایا کرتی۔ کبھی نہ پڑھنے والے طلبا بھی فکرمند ہو جایا کرتے اور پڑھائی کرنے والے طلباء تو کتا بیں چھوڑ اہی نہ کر تے تھے۔ کچھ طلبا ایسے بھی ہوتے جنہیں پڑھنا ایک دن پہلے ہی ہوتا لیکن فکر روز اول سے ہی ہوتی اور جو بے فکرا دکھائی دیتا اس پر سب کا ایمان ہوتا تھا کہ اس نے یا تو پڑھائی کر لی ہے یا پھر چھٹیوں کی نقل مکانی کرے گا۔
اور اس درجہ بندی میں ہمارا شمار ان میں ہوتا جو فکر اسی دن سے کرتے لیکن انہیں پڑھنا ایک دن پہلے ہی ہوتا ہے پرچہ چاہے جتنے مشکل مضمون کا ہو۔ ہماری پڑھائی کا طریقہ یہ ہوتا کہ جیسے ہی تاریخوں کا اعلان ہوتا ہم سارے مضامین کا نصاب اپنے سامنے پھیلا لیا کرتے۔ پھر جس مضمون کی جس اکائی کا مواد پڑھنے کے لیے نہ ہوتا اس کی فراہمی کا انتظام ایک سے دو دن میں کر لیا کرتے۔ جب سارا انتظام ہو جا تا تو پھر سے ایک دن دفتر کھلتا اور اس دن یہ فیصلہ ہوتا کہ کس عنوان کو پڑھنے کے لیے کتنا وقت درکار ہے اور کن کن اسباق کے موضوع ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ یا ایک بڑا جواب پڑھنے سے اس میں کتنے چھوٹے جواب لکھے جا سکتے ہیں۔ یا ایک جواب یاد کر کے کتنے سوال حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس سارے حساب کتاب اور ا ندازے میں ایک دن کا وقت صرف ہوتا۔
اس کے بعد اطمینان سے کتابیں سنبھال کر رکھ دیتے۔ پھر امتحان کے ایک دن پہلے تک باقی ہم جماعتوں کے چہرے پڑھا کرتے۔ چلتے پھرتے کئی جواب کانوں میں پڑا کرتے اور ہماری آنکھیں حیرت سے پھیل جاتیں۔ حیرت اس بات پر ہوتی کہ۔۔۔اچھا!۔۔۔ یہ ہمارے ہی پرچے کی بات ہورہی ہے کیا؟۔۔۔ کیا واقعی؟؟۔۔۔ اوہ!!!۔۔۔ لیکن یہ کس اکائی میں ہے؟۔۔۔ ہمیں تو آج تک نظر نہیں آیا۔۔۔ اوہ!!۔۔۔ صحیح۔۔۔۔ اور اس طرح وہ دن آن پہنچتا جس دن امتحان کی تیاری کرنی ہوتی۔
اس دن کی صبح بڑی بوجھل ہوا کرتی۔ فضا خاموش اور ٹھہری ہوئی ہوا کرتی۔ ماحول پر ایک عجیب قسم کی افسردگی چھائی ہوئی ہوتی۔ خیر۔۔۔ ہم اس دن پوری طرح سے تیار ہوتے امتحان کی تیاری کے لیے۔ پر ہمیں پڑھنا چاہے جتنا ہو، پڑھائی ناشتے کے بعد ہی شروع ہوتی۔ پھر وہ گھڑی بھی آ جاتی جس کا آپ بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں یعنی کتاب ہمارے ہاتھوں میں ہوتی اور پھر شروع ہوتی گھمسان کی لکھائی۔ کیونکہ ہمارے پڑھنے کا طریقہ یہ ہوتا کہ ایک بار میں سارے نوٹس اور اسباق کے مطالعے کے بعد اس کے اہم نکات لکھ لیا کرتے۔ کتابیں پھر احتیاط سے اپنی جگہ پر پہنچ جاتیں اور پھر ان نکات کو مزید۲ سے ۳ بارلکھا کرتے اور پورا دن اسی طرح لکھائی میں بیت جا تا۔
اور وہ صبح بھی آ جاتی جس کا باقی سب کو انتظار ہوتا، ہم سے تو ویسے ہی کسی چیز کا انتظار نہیں ہوتا تو امتحان کا تو خاک ہوگا ۔ کمرہ امتحان میں جانے سے پہلے سب کی یہی کوشش ہوتی کہ آخری لمحے تک پڑھا جائے۔ جب کہ ہماری یہ کوشش ہوتی کہ بھر پیٹ کھا پی کے، منہ پہ پانی کے چھینٹے مارنے کے بجاۓ دریا بہا کے اور تھوڑی چہل قدمی کر کے جائیں۔ کیونکہ ہمیں یہ خدشہ ہوتا کہ کہیں بھوک نہ لگ جاۓ یا کہیں نیند نہ آ جائے کیونکہ اکثر و بیشتر امتحان کے اوقات دوپہر کے ہوا کرتے جو دن کا سست ترین حصہ ہوتا ہے ہمارے لیے اس لیے سارے انتظام سے جایا کرتے۔ امتحان گاہ میں کھانے پینے کے لوازمات کے نام پر چاکلیٹس رکھنا نہ بھولتے، شناختی کارڈ کے ساتھ پینسل، پین وغیرہ اور پانی کی بوتل لے کر داخل ہوتے۔ باقی طلبا عموماً وقت سے پہلے ہی چلے جایا کرتے اپنی نشستوں پر جب کہ ہم یہ سوچ کر تاخیر سے جایا کرتے کہ جب سب اپنی نشستیں سنبھال لیں گے تو ہمیں ہماری نشست آسانی سے مل جاۓ گی اور ہم ڈھونڈنے کی زحمت سے بچ جائیں گے۔ پھر جیسے ہی کمرے میں داخل ہوتے سب کے اترے ہوئے چہرے دیکھنے کو ملتے۔۔۔ سارا سال چہکنے والوں کی چہکار ایسے بند ہوتی جیسے کبھی چہکے ہی نہ ہوں۔ اس دوران ہم بھی اپنی نشست سنبھال لیتے۔ اس پورے منظر نامے میں جو نا قابل فراموش ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے وہ طالب علم جس کے ساتھ امتحان دینا ہوتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ہمیں اس بات سے بہت فرق پڑتا ہے۔
ہم نشست ساتھی کبھی وبال جان ثابت ہوا کرتے ہیں اور کبھی زندہ دل مل جایا کرتے ہیں۔ ہر ایک کا دھیان اپنے آگے پیچھے بیٹھنے والے ہم جماعتوں پر ہوتا ہے لیکن ہمارا بغل میں بیٹھنے والے پر ہوتا ہے۔ ہمیں بہت اچھے سے اندازہ ہے کہ آگے پیچھے توجہ دینے سے کچھ حاصل نہیں۔ اگر وہ ٹاپر ہوۓ تو ویسے ہی گھاس نہیں ڈالنے والے اور کند ذہن ہوۓ تو ہم نہیں پوچھنے والے، اس لیے لا حاصل کے پیچھے بھا گا نہیں کرتے۔ دوران امتحان ہی ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوتا کہ جس طالب علم نے اپنی بینچ پر جوابات لکھے تھے وہ کس طرح نقل کر رہا ہے اور جس نے چٹھیوں کامنی دفتر ساتھ لایا تھا، وہ کس طرح سے نقل کر رہا۔ اور وہ صرف خود ہی نقل کر رہا یا آس پڑوس کے لوگ بھی فیضیاب ہور ہے ہیں۔ اکثر و بیشتر یہ بھی ہوا کہ کلاس میں نگرانی کے لیے آنے والے استاد کی صورت دیکھتے ہی ان طلباء کے پریشان کن چہرے نظر میں پھر گئے اور کابھی ان کی قسمت پر رشک آنے لگا۔۔
اس کے ساتھ ہی ہم اپنے پرچے پر توجہ دینے کی بھی بھر پور کوشش کرتے۔ ان تازہ نکات کو یاد کرنے کی کوشش کرتے جسے بس ایک ہی دن پہلے پڑھنے کے ساتھ لکھے بھی تھے اور جو کچھ دن پہلے بھی نظر سے گذرے تھے۔ اس استاد کی یادآتی جس نے یہ موضوع پڑھایا تھا۔ ان طلباء کی بھی یاد آتی جنہوں نے اس سے متعلق سوال پوچھے تھے اور پھر ٹیچر نے ان کے جوابات دیئے تھے۔ وہ سارے سوال جواب بھی اول تا آخر یاد آ جاتے۔ بس وہی یادنہیں آ تا جوسوالیہ پرچے میں پوچھے گئے سوال کا اصل جواب تھا۔
اب ان سب کے بعد جو ہمیں واحد فکر ہوتی وہ نیند کی ہوتی۔ ٹینشن میں لوگوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں، بھوک ختم ہو جاتی ہے جب کہ ہمارے ساتھ ایسا کوئی معاملہ کبھی رہا ہی نہیں۔ وقت پر بھوک لگنے کے ساتھ موقع بے موقع نیند کے جھونکے آنا معمول رہا ہے اور امتحان گاہ میں نیند آنا ہماری بے فکر طبیعت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ خدا خدا کر کے اس جنجال سے نجات ملتی ہے اور نجات ملتے ہی ہم کافی چاک و چو بند ہو جاتے ہیں۔ نیند تو گویا اڑن چھو ہو جاتی ہے۔ کمرہ امتحان سے نکل کر سب سے پہلے ہم کینٹین کی راہ لیتے ہیں اور وہاں حاضری دینے کے بعد اس راہ کا انتخاب کرتے ہیں جو ہمیں کالج کے بیرونی دروازے تک لے جاتی ہے۔ امتحان دے کر باہر آنے کے بعد سوال جواب پر بحث کرنا طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ جوابات درست نہ ہوۓ تو باہر آتے ہی ۵ سے ۷ نمبرات تو ایسے ہی ضائع ہو جاتے ہیں جس کے چلتے مارک شیٹ کے آنے سے پہلے ہی موڈ بگڑ جاتا ہے اس لیے ہم ایسی چیزوں سے اجتناب ہی کیا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی شکار ہوہی جایا کرتے ہیں جس کا کوئی حل نہیں ہمارے پاس۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں