مرزا دبیر کی حالات زندگی
مرزا سلامت علی نام اور دبیر تخلص ، مرزا غلام حسین کے بیٹے تھے۔ 1803 میں دلی میں پیداہوئے لیکن دلی کے نامساعد حالات کی وجہ سے دہلی سے لکھنو اپنے والد کے ساتھ چلے آئے۔ والد نے تحصیل علم کا معقول انتظام کیا۔ عربی و فارسی زبان پرمکمل دسترس حاصل کی۔ علوم مروجہ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ مزاج میں شاعری سے قربت تھی۔ بارہ سال کی عمرمیں اشعار موزوں کرنے شروع کر دیے۔ والد نے اس وقت کے مقبول و معروف استاد میر ضمیر سے شاگردی کی گزارش کی اور دبیر کی صلاحیتوں کو پرکھنے کے بعد میر ضمیر نے حامی بھر لی۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق مرزادبیر نے شروع میں غزلیں موزوں کیں اور تین دیوان مرتب کر لیے لیکن جب ایک رقاصہ کو اپنے ہنر کے لیے استعمال کرتے دیکھا تو آپ نے غزل گوئی سے تو بہ کر لی اور اپنے دیوانین کو نذرآتش کر دیا۔ ( ڈاکٹر یا سر عباس، مرزاد دبیر کی فارسی شاعری ، نقد تفہیم ہیں- 8)
مرزا دبیر کے ہوش سنبھالنے کے دور میں لکھنو میں غزل کا عام رواج تھا۔ کچھ ہی شعرا تھے جو مرثیہنگاری کی طرف مائل تھے ۔ ان میں خود
دبیر کے استاد میر ضمیر اور میرانیس کے والد میر خلیق سر فہرست تھے۔ مرزاد بیر نے اس دور کی روش کے برخلاف دنیاوی کلام سے اجتناب کیا اور صرف حمد، نعت ، منقبت، یعنی خدا، رسول اور آل رسول کی مدح
و ثنا کو اپنا موضوع سخن قرار دیتے ہوئے تقریباً تمام اصناف قصیده، مرثیه، رباعی، قطعه، ترکیب بند، تضمین بند نظمیں وغیرہ میں اس موضوع پر طبع آزمائی کی۔ یہاں تک کہ غزل کی بیت میں بھی اس مذہبی شاعری کو موضوع سخن بناتے ہوئے سلام کو معراج عطا کی۔
عنفوانِ شباب میں صرف و نحو، منطق و حکمت کی تعلیم مولوی غلام ضامن سے حاصل کی اور مرزا کاظم علی سے مذہب ، حدیث تفسیر اور فقہ کی کتابیں پڑھیں۔ ملا مہدی، مجتہد مازندولی اور فدا علی کے آگے زانوے ادب تہ کیا۔ بارہ سال کی عمر میں میر ضمیر کی شاگردی اختیار کی اور انہیں کے کہنے پر دبیر تخلص اختیار کیا۔ غیر معمولی قوت حافظہ کے مالک تھے۔ نہایت ذہین وفطین تھے۔ معاشی اعتبار سے نہایت آسودہ حال تھے۔ نصیر الدین حیدر کی ملکہ لاکھوں روپے سالانہ دیا کرتیں اس کے علاوہ نواب علن صاحب بھی دبیر کو سرفراز کرتے رہتے تھے۔ دبیر نہایت سختی تھے۔ غریبوں، عزیزوں، ناداروں اور محتاجوں سے سلوک کیا کرتے تھے۔ صالح عادات و اطوار کے مالک تھے۔ خود دار اور با اصول آدمی تھے۔ سلام ، رباعی، میں بھی بہت کچھ اضافہ کیا۔ مثنوی بھی ملتی ہے۔ مختصراً تقریبا تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ۔
آخر عمر میں ہے درپے صدموں سے دوبار ہوئے ۔ نوجوان بیٹے بھائی اور خود میر انیس کے انتقال نے دبیر کو بہت متاثر کیا انیس کے انتقال کے چند ماہ بعد محرم 1875 میں وفات پائی اور اپنے گھر ہی میں دفن ہوئے ۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں