مثنوی کی تعریف
اضاف سخن میں مثنوی نظم کی وہ شکل ہے جس کا ہرشعر باعتبار ردیف و قافیہ جدا گانہ اور باعتبار مضمون ایک دوسرے سے مربوط ہوتا ہے۔ عموماً مثنوی میں قافیہ ہی ہوتا ہے۔ اور یہ قافیہ بھی ہرشعر کے بعد بدلتا رہتا ہے۔ لیکن پوری مثنوی ایک ہی بحر میں ہوتی ہے ۔ دو ہم قافیہ الفاظ کے التزام کی وجہ سے اس کا نام مثنوی قرار پایا اس لئے مثنوی کے معنی " دو دو کیا گیا" کے ہیں۔ اشعار میں تسلسل کا ہونا ضروری ہے اشعار کا یہ باہمی ربط وتسلسل مثنوی کی بنیادی خصوصیت ہے۔ مثنوی قصیدے کے بر عکس نہ صرف اشعار کی تعداد کی پابندی سے بالا تر ہے بلکہ غزل کی طرح ہر شعر میں ردیف و قافیہ کی قید سے مبرا ہے۔ بقول نواب امداد امام اثر
" ممکن ہے کہ چار شعر کی مثنوی ہو یا چار لاکھ کی " مضامین کے لحاظ سے جس طرح غزل ، مرثیہ، قصیدہ، واسوخت، ریختی ایک دوسرے سے امتیاز رکھتے ہیں اس طرح بہ لحاظ موضوع مثنوی میں بھی امتیاز پایا جاتا ہے۔ قدما کے نزدیک مثنوی کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جس میں خارجی یا بیانیہ اور اُس کے متعلقات کی مرقع کشی کی جائے اور دوسری وہ جس میں داخلی غنائی یا جذبے کی شاعری ہو جہاں خارجی یا بیانیہ شاعری کے لئے مثنوی کا جامہ پسند کیا گیا ہے وہاں غنائی شاعری کیلئے غزل کا شبنمی پردہ بہترین سمجھا گیا ہے۔ دراصل مثنوی نہ صرف مناظر قدرت کی تصویر کشی پر اکتفا کرتی ہے اور نہ واقعات کے ربط و تسلسل پر قانع ہے۔ بلکہ کیفیات و جذبات اور احساسات کی ترجمانی کر کے غزل کے دائرے میں داخلہوتی نظر آتی ہے۔ احسن مارہروی کا فرمانا ہے :-
" جذبات انسانی، مناظر قدرت تاریخی واقعات جس خوش اسلوبی اور روانی سے مثنوی میں سما سکتے ہیں اُن کی اتنی گنجائش کسی صنف سخن میں نہیں۔" زندگی کے تمام سوانح رزمیہ ہوں یا تاریخی، عشقیہ ہوں یا اخلاقی، فلسفیا نہ ہوں یا افسانہ غرض کہ تخیل کی کھپت مثنوی میں ہوتی ہے۔
اور ڈاکٹر گیان چند جین کا بھی قول ہے :-
اگر کسی مثنوی میں محض خارجی واقعات ہوں تو وہ منظوم تاریخ یار پورتاژ سے زیادہ وقیح نہ ہوگی اگر وہ محض شدت جذبات کی بارانی کرے تو وہ ایک طویل غزل بن کر رہ جائے گی اچھی مثنوی میں کم و بیش دونوں پہلو ہوتے ہیں ۔ مثنوی کی فوقیت اس امر میں ہے
یہی وجہ ہے کہ ان تمام چیزوں کے سمونے کے لئے مثنوی کے علاوہ اور کوئی دوسری صنعت سخن ان معاملات کا احاطہ نہیں کر سکتی اور فارسی شاعری کو مغرب کی شاعری پر اس لحاظ سے فوقیت دی گئی ہے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں