میر انیس کے مرثیوں میں منظر نگاری



نامعلوم: انیس نے زندگی کے ہر پہلو کو سمجھا، ان کا کلام انسان کے رنج و مسرت، کش مکش و اضطراب، جوش و ولوله غم و غصه عشق و محبت ، وفاداری و جاں نثاری ، بے بسی و مظلومی ، ہجر و وصال کی ایسی کیفیتوں کا آئینہ دار ہے جو کسی ایک شاعر کے کلام میں مشکل سے نظر آتی ہیں ۔ انیس کے کلام سے ہم ایک منظر کا انتخاب کرلیں یا کسی ایک کردار کا، دونوں صورتوں میں ہمیں انسانی نفسیات کے مدو جزر نظر آئیں گے۔ یہ انیس کی قادر الکلامی کی  ضمانت نہیں بلکہ ان کی گہری وجدانی آگہی کے بھی آئینہ دار ہیں۔ اس بیان کی وضاحت کے لیے انیس کے مرثیے فرزند پیمبر کا مد ینے سے سفر ہے " کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ مرثیہ جیسا کہ خود مصرعہ سے ظاہر ہے، مدینہ سے امام حسین کے سفر کی تیاری ہورہی ہے۔ کنبے کے بیشتر افراد ان کے ہمراہ عازم سفر ہیں۔ عزیزوں میں صرف ایک بیٹی فاطمہ صغریٰ کو گھر میں چھوڑ کر جارہے ہیں جو بیمار ہیں۔ موسم گرمی کا ہے اور سفر ریگستان کا گھر میں محلے اور خاندان کی خواتین رخصت کرنے آئی ہیں۔ ان کے تاثرات دیکھیے :


گرمی کے یہ دن اور پیاروں کا سفر آہ 

ان چھوٹے سے بچوں کا نگہبان ہے اللہ

رستے کی مشقت سے کہاں ہیں ابھی آگاہ

ان کو تو نہ لے جائیں سفر میں شہ ذی جاہ

قطرہ بھی دم تشنہ دہانی نہیں ملتا 

کوسوں تلک اس راہ میں پانی نہیں ملتا



منھ دیکھ کے اصغر کے چلا آتا ہے رونا

لکھا تھا اسی سن میں مسافر انہیں ہوتا

کیا ہو گا جو میداں میں ہوا گرم چلے گی

یہ پھول سے کمھلائیں گے ماں ہاتھ ملے گی


   یہ ان موہوم کیفیتوں کا اظہار ہے جن کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا صرف محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ پھر حضرت زینب کا جواب سنیے کیسے کیسے جذبات کی آمیزش ہے۔ بھائی بہن کی محبت اور ماں کی وصیت کا پاس ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ رنج و مصیبت میں بزرگوں کی یاد سے تقویت پاتا ہے اور اپنے لیے ہدایت بھی تلاش کرتا ہے:


ان بیبیوں سے کہتی تھی یہ شاہ کی ہمشیر

اس شہر میں رہنا نہیں ملتا کسی تدبیر

بہنو! ہمیں یثرب سے لیے جاتی ہے تقدیر

یہ خط پر خط آئے ہیں کہ مجبور ہیں شبیر

مجھ کو ہے رنج ایسا کہ کچھ کہہ نہیں سکتی

بھائی سے جدا ہو کے مگر رہ نہیں سکتی


اماں کی لحد چھوڑ کے میں یاں سے نہ جاتی

بھائی کے طرف دیکھ کے شق ہوتی ہے چھاتی

فاقے بھی اگر ہوتے تو غم اس کا نہ کھاتی

بے جائے مجھے بات کوئی بن نہیں آتی

ظاہر میں تو مابین لحد سوتی ہیں اماں

میں خواب میں جب دیکھتی ہوں روتی ہیں اماں


    خواب لاشعور کا نگار خانہ ہے۔ کش مکش کے وقت ماں کو خواب میں دیکھنے کا بیان انسانی فطرت کےادراک کا بھر پور اظہار ہے۔ انیس کی جذبات نگاری کے بارے میں پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب فرماتے ہیں: 

        "جذبات کے اظہار میں بھی انیس کو بڑی قدرت حاصل ہے۔ جذبات کے مختلف مدارج ہوتے ہیں کوئی عمل انتہائی خوشی ہم حیرت کے غصے وغیرہ کا ہوتا ہے۔ کسی محل پر جذبات بالکل خفیف سے پیدا ہوتے ہیں۔ انتہائی شدت اور انتہائی خفت کے درمیان بے شمار درجے ہوتے ہیں۔ جذبات کے ان مدارج کوملحوظ رکھنا اور ان کا اظہار کر لینا انیس کا وہ امتیاز ہے جس میں شاید ہی کوئی اور اردو کا دوسرا شاعر ان کا شریک ہو سکے۔ جن حالات میں وہ جذبات پیدا ہونا چاہیے اور جس حد تک پیدا ہونا چاہیے۔ انہیں انہیں جذبات کو اسی حدود کے اندر دکھاتے ہیں۔

( مسعود حسن رضوی ادیب، انیسیات ص 112-113) 


  میرانیس کے پاس گرمی کا سماں صبح عاشور کی تصویر کشی، حضرت علی اکبر کی اذان فجر ، پھولوں کے کھلنے ، ب

طیور کے چھپانے، اوس کے قطروں کے رکھنے، باد نسیم کے چلنے ، مناظر صبح کے حمدیہ انداز ، فوجوں کی آمد ، دھول کا اُڑنا ، جنگی باجوں کا شور، آداب جنگ اور بھی مختلف اور متعدد مناظر ملتے ہیں۔ ان بے شمر مناظر میں حقیقت تصور تخیل، پیغام اسلام، زندگی اور موت اور بھی بہت کچھ بہ شماررنگ و آہنگ کا عکاس بن کر شامل ہے۔ ایک مختصر سے

مضمون میں ان تمام رنگوں کی تصویر کشی ممکن نہیں۔ صرف صبح عاشور کی ابتدا جوکہ علی اکبر جو بہ مشکل پیمبر تھے ، اس اذان کی فرمائش خود امام حسین نے کی تھی۔ اس کے پس پردہ رسول اکرم کی یاد اور ان کے پیام کی تجدید بھی کہی جاسکتی ہے۔ یہ اتمام حجت ہے یزیدی فوج کے لیے۔ یہ درس ہدایت ہے، ہوئے سبق کی یا دو ہانی ہے۔ انیسں لکھتے ہیں :


فرمایا سحر قتل کی ظاہر ہوئی بیٹا

اواٹھ کے اذاں دو کہ شب آخر ہوئی بیٹا


اور پھر ہم شکل پیمبر نے صوت حسن سے اذاں دی تو :- 

چپ تھے طیور جھومتے تھے وجد میں شجر

تسبیح خواں تھے برگ و گل و غنچه و ثمر

محوِ ثنا کلوخ و نباتات و دشت و در

پانی سے منہ نکالے تھے دریا کے جانور

اعجاز تھا کہ دلبر شبیر کی صدا

ہر خشک و تر سے آتی تھی تکبیر کی صدا


  یہ اذان صرف اس دن کی اذان فجر نہیں بلکہ خواب خرگوش میں مبتلا نفوس کو جھنجھوڑ کر بیدار کرنے کا ایک ذریعہ کہی جاسکتی ہے۔ خیر اثر کی وضاحت کا ایک عمل ہے۔ اسلام اور کفر کی علامتی عکاسی ہے۔ نباتات ، حیوانات ، بے جان اشیا اس سے متاثر ہیں لیکن بے ضمیر یزیدی نشر خواب غفلت میں گرفتار ، حقانیت سے نا آشنا، مادی زندگی کی چکا چوند میں ڈوبا ، بے ثبات دنیا کے کاروبار میں سرگرداں نظر آتا ہے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام