شمالی ہند میں جدید اردو مثنوی نگاری
جدید مثنوی کے ذیل میں ان مثنوی نگار شعرا کا شمار ہوتا ہے جنہوں نے اردو شاعری میں ایک نئے تخلیقی رجحان کی داغ بیل ڈالی تھی۔ ان شعرا میں حالی ، آزاد اور شبلی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اردو کا نشاۃ الثانیہ جن شاعروں کی اصلاحی کوششوں سے عبارت ہے ان میں آزاد، حالی اور شبلی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے شاعری کو انسانی زندگی سے قریب تر کرنے کی شعوری کوشش کی اور شعر و شاعری میں لذت کوشی اور عیش پرستی کے بجائے زندگی کے ان حقائق و مسائل کی ترجمانی کوترجیح دی جن سے انسانی زندگی مختلف سطحوں پر دو چارتھی ۔ ڈاکٹر گیان چند جین نے جدید مثنوی کا نقش اول حالی کی 1876 کی اس تخلیق کو قرار دیا ہے جو انگریزی سے ماخوذ تھی اور اس کا عنوان جواں مردی کا کام تھا۔ جدید مثنوی کے تحت آزاد، حالی اور شبلی کی مثنوی نگاری پر گفتگو آئندہ سطور میں پیش کی جاتی ہے۔
الطاف حسین حالی
مولانا الطاف حسین حالی کا شمار اردو کے صف اول کے نظم نگار شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے غزلیں بھی لکھی ہیں لیکن ان کی شہرت کی اصل وجہ ان کی وہ نظمیں ہیں جن کے ذریعہ انہوں نے اخلاقی، تمدنی اور تہذیبی مسائل کو پیش کیا۔ حالی جدت پسند طبیعت کے مالک تھے اس لیے روایتی شاعری پر قانع ہونے کے بجائے ان مضامین کو شعری پیکر میں ڈھالنے کی شعوری کوشش کی جن کا تعلق حقیقی زندگی سے ہوتا ہے۔ ان کا یہ تخلیقی رجحان ان کی مثنویوں میں بھی نظر آتا ہے۔ حالی سے جو مثنویاں منسوب کی جاتی ہیں ان کے عنوانات ہی ان کی سماجی افادیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان مثنویوں کے عنوانات نشاط امید، برکھارت، مناظره رحم وانصاف ، حب وطن، مناجات بیوہ تعصب وانصاف وغیرہ ہیں ۔ حالی نے ان میں سے بیشتر مثنویاں انجمن پنجاب کے مشاعروں میں پیش کی تھیں جن کی خاطر خواہ پذیرائی ہوئی۔ جب وطن میں حالی کی وطن پرستی اپنے عروج پر نظر آتی ہے اور وہ ملک کی فلاح وترقی کے آگے دیگر مسائل کو غیر اہم تصور کرتے ہیں۔ یہ مثنوی 215 راشعار پر مشتمل ہے۔ نشاط امید یاس ومحرومی کے عالم میں دل کو افسردہ اور رنجیدہ ہونے کے بجائے امید اور حوصلہ سے پر رکھنے کے موضوع پر بنی ہے۔ مناجات بیوہ حالی کی ایک اور مشہور مثنوی ہے ۔ یہ 447 را شعار پر مشتمل ہے ۔ جدید مثنوی نگاروں میں حالی کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔
محمد حسین آزاد؛
مولا نا محمد حسین آزاد اردو کے ایک بلند پایہ شاعر اور ادیب گزرے ہیں۔ انہوں نے شاعری و نثر میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یادگار زمانہ تصانیف سے اردو کے سرمایہ ادب کو ثروت مند بنایا۔ ان کے شعری مجموعے نظم آزاد میں کئی مثنویاں شامل ہیں جن میں سے چند کے عنوانات شب قدر ، حب الوطن ، داد انصاف ، صبح امید ، گنج قناعت ، ابر کرم، مصدر تہذیب، خواب امن ، داع انصاف ہیں۔ آزاد نے اپنی بیشتر مثنویاں انجمن پنجاب کے مشاعروں میں پڑھی تھیں ۔ آزاد کی مثنویوں میں موضوعات کا تنوع ملتا ہے۔ انہوں نے مناظر فطرت کو بھی موضوع بنایا اور اس قبیل کی مثنویوں میں ان کے بیان کردہ مناظر بالکل حقیقی رنگ میں نظر آتے ہیں۔
شبلی نعمانی
شبلی نعمانی کئی اعتبار سے اردو کی ادبی تاریخ میں قابل ذکر ہیں۔ وہ ایک مستند ادیب ، مورخ محقق اور نقاد کے ساتھ ہی شاعر کے طور پر بھی مشہور ہوئے ۔ شبلی کے کلام میں ایک مثنوی بعنوان صبح امید ملتی ہے جو 1884 کی تخلیق ہے۔ اس مثنوی میں 385 اشعار ہیں۔ اس کا بنیادی موضوع اسلام کی عظمت رفتہ اور امت مسلمہ کے عصری حالات و مسائل کا بیان ہے۔ اسلام کے شاندار ماضی کا بیان کر کے شبلی مسلمانوں کے اندر یہ تحریک پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جہد مسلسل کو اپنی زندگی کا شیوہ بنائیں تا کہ یہ قوم ایک بار پھر کامیابی وکامرانی کے منازل طے کر سکے۔ اس مثنوی کو انہوں نے پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر حصے کے آغاز میں ایک فارسی شعر بطور عنوان درج کیا ہے۔ یہ مثنوی پند و نصائح کے جذبات سے مملو ہے اور شبلی نے شعوری طور پر یہ کوشش کی ہے کہ خواب غفلت میں محو توم کو بیداری کا پیغام دے کر انہیں عمل کی راہ پر لگائیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں