قصیدہ کی تعریف اور اس کا فن

 قصیدہ اصل میں عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی مغز غلیظ و سطبر کے ہیں، یعنی ایسا گودا جو گاڑھا اور دل دار ہو لیکن اصطلاح میں قصیدہ اس مسلسل اور نسبتاً طویل نظم کو کہتے ہیں ، جس میں کسی کی مدح یا ہجو بیان کی گئی ہو۔ قصیدے میں وعظ ونصیحت کے علاوہ دنیا اور زمانے کی شکایت وغیرہ کے مضامین بھی بیان کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن ان موضوعات کے باوجود قصیدے کی عام شناخت مدحیہ شاعری کی حیثیت سے قائم اور مشہور ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہماری زبان میں جب کسی شخص کی بہت بڑھا چڑھا کر تعریف و توصیف کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس شخص کا قصیدہ پڑھا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے قصیدے کو عام طور پر مدحیہ شاعری کی ایک مشہور صنف کی حیثیت سے ہی جانا اور پہچانا جاتا ہے۔


:قصیدے کا فن 


خارجی ہیئت کے لحاظ سے قصیدہ اور غزل میں بڑی حد تک یکسانیت ہے۔ جس طرح غزل کے پہلے شعر یعنی مطلع کے دونوں مصرعے اور بعد کے تمام اشعار کے دوسرے مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، بالکل وہی صورت قصیدے میں بھی ہوتی ہے۔ البتہ قافیے کے لحاظ سے قصیدے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے درمیان میں بھی مزید مطلعے لائے جاسکتے ہیں، جب کہ غزل کی صنف میں ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، غزل میں پہلے مطلعے کے فورا بعد دوسرا مطلع یا تواتر سے کئی مطلعے شامل کیے جاسکتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ پہلے مطلعے کے بعد کچھ شعر ہوں، اور ان کے بعد غزل کے بیچ میں پھر سے ایک یا ایک سے زیادہ مطلعے کہے جاسکیں۔ اس کے برعکس قصیدے کے درمیان میں ایک سے زیادہ مطلع کہنے کا خاصا رواج رہا ہے۔ مثلاً غالب کی غزل کے یہ مطلعے دیکھیے  شروع میں ایک ساتھ لائے گئے ہیں


ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا 

وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاق نسیاں کا 

بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگاں کا

کہ ہر یک قطرہ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا


واضح رہے کہ غالب کی غزل میں یہ دونوں مطلعے پہلے اور دوسرے شعر کے طور پر شامل ہیں۔ اس کے بعد غزل کے بیچ میں کوئی مطلع نہیں ہے، کیوں کہ غزل کی ہیئت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ اوپر کہا گیا ، قصیدے کے بیچ میں ایک یا ایک سے زیادہ مطلع کہنا مروج رہا ہے۔ ایک قصیدے سے اس کی مثال ملاحظہ کریں۔ سودا کا ایک مشہور قصیدہ جو حضرت علی کی مدح میں ہے، درج ذیل مطلعے سے شروع ہوتا ہے:


اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستاں سے عمل

تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل


اس کے کئی شعروں کے بعد اسی قصیدے میں دوسرا مطلع کہا گیا ہے، جو درج ذیل ہے: 


دید تیرا به دوئی حق سے نگہ کا ہے خلل

ایک شے دو نظر آتی ہے بہ چشم احول



خیال رہے کہ شعرا قصیدے کے بیچ میں کبھی کبھی غزل بھی شامل کر دیتے ہیں، اور اس غزل کو بھی حسب معمول مطلعے سے شروع کرتے ہیں۔ اس طرح وہ مطلع بھی قصیدے کے درمیان میں آنے والے مطلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ سودا کے مذکورہ بالا قصیدے میں بھی ایک غزل شامل ہے، جس کا مطلع حسب ذیل ہے:


داد کو کس کی فلک پہنچے کہ از روز ازل 

صبح خورشید جو نکلے ہے تو لے کر مشعل


اس طرح آپ نے دیکھا کہ سودا کے اس قصیدے میں کل تین مطلعے ہیں، جس میں پہلے مطلعے کے بعد مطلع ثانی اور مطلع ثالث قصیدے کے میں لائے گئے ہیں۔


قصیدے میں اگر چہ اشعار کی تعداد متعین نہیں لیکن قصیدے عام طور سے طویل غزلوں سے بھی زیادہ اشعار پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس لیے تمحیدے کو طویل صنف شاعری سمجھا جاتا ہے مختصر قصیدوں میں بھی کم و بیش چالیس پچاس اشعار ہوتے ہیں ، جب کہ طویل قصیدے عموماً ڈیڑھ دوسو اشعار پر مشتمل رہے ہیں۔



قصیدہ بطور مدحیہ شاعری


جیسا کہ شروع میں کہا گیا ، قصیدہ ایسی صنف شاعری ہے جس میں کسی شخص کی مدح وذم کے علاوہ پند و نصائح ، حکایات اور شکایت زمانہ و غیرہ کو موضوع بنایا جاتا رہا ہے۔ لیکن چونکہ فارسی اور اردو میں اکثر قصیدے اشخاص کی مدح میں لکھے گئے ، اس لیے قصیدے کو عام طور سے مدحیہ صنف شاعری کی حیثیت سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ قصیدے میں عام طور سے نہایت بلند مرتبہ اشخاص کی مدح کو موضوع بنایا گیا ہے، جن میں بادشاہ، امرا اور نوابین وغیرہ خاص طور سے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ خدا کی حمد وثنا اور بلند پایہ مذہبی شخصیات کی مدح کو بھی قصیدے میں کثرت سے بیان کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ حمد، نعت اور منقبت وغیر ہ قصیدے کے نہایت اہم موضوعات میں شامل رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اردو کی دیگر اصناف شاعری مثلاً غزل، مثنوی اور مرثیہ و غیرہ کی طرح قصیدہ بھی بڑی حد تک تصورات پر مبنی شاعری ہے۔ تصورات سے مراد یہ ہے کہ ہماری شعری تہذیب میں کچھ باتیں بہت پہلے سے مسلم اصول کی حیثیت سے رائج ہیں، جن کی پابندی شعرا کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ قصیدے میں اشخاص کی جو مدح بیان کی جاتی ہے ، وہ حقیقی مدح کی بجائے بڑی حد تک تصورات پر مبنی مدح ہوتی ہے۔ یعنی یہاں ممدوح کی جو بھی تعریف و توصیف کی جاتی ہے، وہ کم و بیش تصوراتی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قصیدے میں ممدوح جو عام طور سے بادشاہ یا حاکم ہوتا ہے، اس کی اصل شخصی صفات کی مدح قصیدے میں مقصود نہیں ہوتی ، بلکہ اس مرتبے اور منصب کی مدح مقصود شاعر ہوتی ہے


جس پر محمدون فائز ہوتا ہے۔ ہماری مشرقی تہذیب میں بادشاہ یا حاکم وقت کی شخصیت میں چار بنیادی صفات کی نشاندہی کی گئی ہے: ذہانت ، عدالت مساوت اور شجاعت ۔ ظاہر ہے، یہ ایسی صفات ہیں جن کے بغیر کسی حاکم کی کامیاب حکومت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان چاروں صفات میں وہ تمام خوبیاں جمع ہوگئی ہیں جو کسی بھی حاکم وقت کی مثالی شخصیت کی ضامن بھی بن جاتی ہیں۔ کیوں کہ اگر حاکم ذہین نہیں ہے تو وہ غلط فیصلے کرے گا، اگر عادل اور انصاف پسند نہیں ہے تو اس کی حکومت میں ظلم و نا انصافی اور فتنہ وفساد پھیلے گا، اگرسخی نہیں ہے تو اس کی رعایا خوشحال نہیں ہوگی ، اور اگر حاکم دلیر اور بہادر نہیں ہے تو وہ دشمن اور مخالف قوتوں سے مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہوگا۔ اس طرح یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حاکم اور بادشاہ کے منصب - صفات مثالی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ مثالی صفات ہماری تہذیب میں بادشاہ کے منصب سے وابستہ ایک اصول اور تصور کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ فارسی اور اردو کے قصیدوں میں جب شعرا نے بادشاہ اور امرا کی مدح کو موضوع بنایا تو ان کے منصب سے وابستہ اکثر انہیں چاروں صفات پر مبنی مضامین کا اشعار میں بیان کیا ۔ چونکہ قصیدے میں ممدوح کی شخصیت کی اصل اور حقیقی مدح شاعر کا مقصود نہیں ہوتی ، بلکہ اس منصب کی مدح مقصود ہوتی ہے اس لیے کچھ لوگوں کا اعتراض بے بنیاد ٹھہرتا ہے کہ قصدہ گو شعر میں بادشاہوں اور امرا کی مدح میں وہ باتیں کہتے ہیں جو ان ممدوحین میں نہیں پائی جاتیں۔ لہذا اگر ہم اس بات کو اپنے سامنے رکھیں کہ قصیدے میں ممدوح کی حقیقی مدح نہیں بلکہ تصوراتی مدح بیان کی جاتی ہے تو مذکورہ بالا اعتراض خود بخود رفع ہو جاتا ہے


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام