قصیدے کی اجزائے ترکیبی

 یہ بات دھیان دینے کی ہے کہ قصیدے کے اجزائے ترکیبی کا تعلق بھی دراصل قصیدے کے فن سے ہے۔ لیکن یہ اجزا چونکہ الگ سے اپنی خاص اہمیت رکھتے ہیں، اور ان کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کر ناضروری ہے اس لیے انہیں یہاں بیان کیا جاتا ہے۔ قصیدے کی ہیئت کا تعلق بنیادی طور پر قصیدے میں قافیے کے نظام اور قصیدے کی خارجی صورت سے ہے۔ لیکن جب ہم قصیدے کی فارسی اور اردو کی طویل روایت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں قصیدوں میں کچھ ایسی خصوصیات نظر آتی ہیں جن سے اس صنف کی خاص پہچان قائم ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری روایت میں فارسی اور اردو کے قصیدوں میں عام طور سے پابندی کی جاتی رہی ہیں کہ ہماری روایت میں قصیدے کے لیے کچھ مخصوص اجزا متعین کیے گئے ہیں ۔ یہ اجزا قصیدے سے اس طرح وابستہ ہوئے کہ انہیں صنف قصیدہ کی پہچان سمجھا گیا۔ چونکہ قصیدہ انہیں اجزا سے مرکب ہوتا ہے اس لیے انہیں اجزائے ترکیبی کہا جاتا ہے۔ قصیدے کے اجزائے ترکیبی حسب ذیل ہیں :

-

 تشبیب -

 گریز

 مدح

 دعا


 تشبیب قصیدے کا پہلا جز ہے جہاں سے قصیدہ شروع ہوتا ہے تشبیب کو نسیب بھی کہتے ہیں۔ فارسی اور اردو کے زیادہ تر قصیدے ، خواہ کسی کی مدح میں کہے گئے ہوں وہ تشبیب سے شروع ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ہمارے علم میں ہے ، قصیدہ ایسی صنف شاعری ہے جس کے کچھ اصول مقرر ہیں ، اور ان اصولوں کی پابندی کو عام طور سے لازمی سمجھا گیا ہے۔ انہیں اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ قصیدے میں مدوح کی تعریف کے بیان سے پہلے یعنی قصیدے کی ابتدا میں ایسے اشعار کہے جاتے ہیں جن کا ممدوح کی تعریف سے کوئی لازمی تعلق نہیں ہوتا۔ گویا ان اشعار کی حیثیت قصیدے میں مدح کی تمہید کی ہوتی ہے۔ لیکن اس تمہید کا متن سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا ، یعنی عموماً اس کا موضوع مدح سے غیر متعلق نہیں ہوتا ۔ ہے۔ تشبیب کو عام طور سے قصیدے کا سب سے زور دار حصہ کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حصے میں شاعر کو اپنی قوت متخیلہ اور زور بیان کے مظاہرے کی پوری آزادی حاصل ہوتی ہے۔

جہاں تک تشبیب کے موضوع کا تعلق ہے تو فارسی اور اردو میں قصیدے کی طویل روایت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شعرا تشبیب کے لیے متعدد موضوعات اختیار کی ہے۔ لیکن ان میں جن موضوعات کو زیادہ اپنایا ہے وہ ہیں عشقیہ ، حکیمانہ ، فلسفیانہ ، وغیرہ کبھی کبھی موسم بہارکے موضوع کو فارسی اور اردو قصیدوں میں اپنایا گیا اسے بہار یہ تشبیب سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس کی کئی مثالیں ہمیں نظر آتی ہیں۔ موسم بہارکے موضوع کے بیان میں شعرا نے ہمارے تعلق رکھنے والے بہت سے پہلوؤں کو مضمون کی صورت میں بیان کیا ہے مثلا باغ کی رنگینی گلوں کی تازگی سبزہ اور ابر و باد و باراں وغیرہ۔ ان چیزوں سے متعلق مضامین کے بیان میں شعرا نے اکثر غیر معمولی خلاقی اور جودت طبع کا مظاہرہ کیا ہے۔ بہار یہ تقریب کے چند اشعار بطور مثال دیکھیے:


اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستاں سے عمل 

تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل 

سجدہ شکر میں ہے شاخ عمر دار ہر ایک

 دیکھ کر باغ جہاں میں کرم عز و جل 

قوت نامیہ لیتی ہے نباتات کا عرض

 ڈال سے بات تلک پھول سے لے کرتا پھل

(منقبت حضرت علی ، سودا)


زہے نشاط اگر کیجیے اسے تحریر 

عیاں ہو خامے سے تحریر نغمہ جاے صریر

 زبان سے ذکر اگر چھیڑیے تو پیدا ہو

 نفس کے تار سے آواز خوشتر از ہم وزیر 

ہوا یہ باغ جہاں میں شگفتگی کا جوش

 کلید قفل دل تنگ خاطر دلگیر 

کرے ہے وا لب نونچہ در ہزار سخن

 چمن میں موج تبسم کی کھول کر زنجیر

( ذوق ، در مدح بهادر شاہ ظفر )


تشبیب میں حکمت وفلسفہ کو موضوع بنا کر بھی شاعروں نے اپنی شاعرانہ قوت اور فکر وخیال کی بلندی کا ثبوت دیا ہے کبھی کبھی تو حکیمانہ مسائل سے متعلق نہایت دقیق خیالات اور باریک نکات کو بڑی فنکاری کے ساتھ شعر کا جامہ پہنایا گیا ہے۔ اس موضوع پر غالب کے اس قصیدے کی تقریب بہت مشہور ہے جو حضرت علی کی مدح میں کہا گیا ہے۔ حکیمانہ موضوع کو انسان کے وجودی پہلو سے وابستہ کر کے غالب نے اس تقریب میں نہایت بلند پا یا شعار کہے ہیں۔ بطور مثال کچھ اشعار دیکھیے :


دہر جز جلوہ یکتائی معشوق نہیں

ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں

 بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق 

بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں

ہرزہ ہے نغمہ زیر و بم بستی و عدم 

لغو ہے آئینہ فرق جنون و تمکیں

( غالب، در منقبت حضرت علی )

گریز 

قصیدے میں تشبیب کے بعد دوسرا جزو "گریز" کہلاتا ہے۔ جیسا کہ آپ کو بتایا گیا، قصیدے میں فنی تقاضے کی رو سے تشبیب کے اشعار کا مدرح سے عموماً کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس لیے شاعر تشبیب کے بعد جب مدح کی طرف رجوع کرتا ہے تو مدح کے آغاز سے پہلے چند ایسے اشعار کہتا ہے جو تقریب کے سلسلہ کلام کو مدح کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ گویا ان اشعار کے ذریعے شاعر ریب سے گریز کر کے باقاعد مدح کی ابتدا کرتا ہے۔ اس لیے ان اشعار کو گریز سے موسوم کیا گیا ہے۔ گریز کی کامیابی اور خوبی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ شاعر اپنے تخیل سے کوئی ایسی بات پیدا کرتا ہے جو تقریب کے غیر متعلق موضوع کو مدح سے ہم رشتہ کر دیتی ہے، اور یہ رشتہ کسی نہ کسی شاعرانہ دلیل پر قائم ہوتا ہے۔ گریز میں اشعار کا کم سے کم ہونا عام طور سے اس کی خوبی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گریز کی ایک یہ مثال دیکھیے :


سمجھ اے نا قباحت فہم کب تک یہ بیاں ہوگا

 ادائے چین پیشانی و لطف زلف طولانی 

خدا کے واسطے باز آہ اب ملنے سے خوباں کے 

نہیں ہے ان سے ہرگز فائدہ غیر از پشیمانی

 نظر رکھنے سے حاصل ان کی چشم و زلف کے اوپر

 مگر بیمار ہو دے صعب یا کھینچے پریشانی

نکال اس کفر کو دل سے کہ اب وہ وقت آیا ہے

 برہمن کو صنم کرتا ہے تکلیف مسلمانی

( سودا، قصیده در نعت )


خیال رہے کہ یہ قصیدہ نعتیہ ہے۔ یہاں گریز کے چار اشعار سے پہلے ایک غزل ہے جس کے آخری شعر یعنی مقطع کو گریز سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ پھر گریز کے درج بالا آخری شعر کے بعد باقائدہ نعت درج ذیل شعر سے شروع کی گئی ہے: 


رہے دین محمد پیروی میں اس کی جو ہویں

رہے خاک قدم سے ان کی چشم عرش نورانی


مدح  

جیسا کہ اس لفظ سے ظاہر ہے، مدح قصیدے کا بیحد اہم جزو ہے۔ چونکہ قصیدے اکثر کسی نہ کسی قابل کریستی کی مدح میں لکھے گئے ہیں ، اس لیے قصیدے میں مدح کا حصہ ایک لحاظ سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جو قصیدے مذہبی ہستیوں کی مدح میں ہیں، ان میں ممدوح کی ذات اور مرتبے کے لحاظ سے مدح بیان کی گئی ہے، اور دنیوی بادشاہ اور امر و نوابان کی مدح میں بھی ان کے منصب و رتبہ کا خیال رکھا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود قصیدے میں زیادہ تر مدح کا بیان رسومیاتی ہے۔ رسومیاتی بیان سے مراد یہ ہے کہ بادشاہ وغیرہ کی مدح میں عام طور پر ان کے منصب کی بنیادی صفات اور اس سے متعلق لوازمات کو بھی مدح کا حصہ بنایا گیا ہے، مثلاً گھوڑے اور تلوار و غیرہ کی تعریف میں اشعار کہنا مدح کی رسومیات کا تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ مدح کے جزو سے چند اشعار بطور مثال دیکھیے :


سائے میں دست کرم کے ترے ہر صبح و مسا 

دولت ہر دو جہاں سے ہو غنی عبد اقل

 دین و دنیا کی ہے اشیا سے کہیں وہ اعلیٰ

 ہوے جو شے تری اشیا میں سکھوں سے اسفل 

جو گدا ہے یہ جہاں تیرے گلاے در کا 

اس کے در کا وہ گدا کیسے جسے اہل دول

( سودا، در منقبت حضرت علی)



منتخب نسخه وحدت کا یہ تھا روز ازل

کہ نہ احمد کا ہے ثانی نہ احد کا اول

دور خورشید کی بھی حشر میں ہو جائے گی صبح

تا ابد دور محمد کا ہے روز اول

سجدہ شکر میں ہے ناصیہ عرش بریں

خاک سے پاے مقدس کی لگا کر صندل

(محسن کاکوروی، مدیح خیر المرسلین)


دعا  

یہ قصیدے کے اجزائے ترکیبی میں آخری جزو ہے۔ فارسی اور اردو کے عام قصیدوں میں شاعر مدح کے بعد اپنے محمدوح کے حق میں دعائیہ

اشعار کہتا ہے جس میں ممدوح کی طوالت عمر، اقبال مندی اور دونوں جہاں میں کامیابی وغیرہ کی دعا کی جاتی ہے۔ کبھی کبھی شاعر ممدوح کے محبوب کے

حق میں بھی دعا کرتا ہے۔ خیال رہے کہ دعائیہ اشعار کی یہ کیفیت عام طور سے ان ممدوحین کے لیے ہوتی ہے جو دنیا میں بادشاہ اور امیرو نواب وغیرہ

کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ لیکن جن قصیدوں میں مذہبی ہستیوں کی مدح کی جاتی ہے، ان میں شاعر ممدوح کے صدقے اور طفیل میں عموما اپنے لیے

دعا کرتا ہے۔ دعا کی یہ کیفیت عام طور سے نعت اور منقبت پر بنی قصیدوں میں نظر آتی ہے۔ دعائیہ اشعار کی کچھ مثالیں دیکھیے : 


تاسمی رہے یہ نظم باب البحت

 جب تلک اس سے بر آوے مری امید و امل

 نخل امید سے اپنے ہوں برومند محب 

ہو محبت نہ تری جن کو نہ پاویں وہ پھل

( سودا، در منقبت حضرت علی)


عطا کرے تجھے عالم میں قادر قیوم 

بجاه و دولت و اقبال و عزت و توقیر

 تن قوی و مزاج صحیح و عمر طویل 

سپاه وافر و ملک وسیع و گنج خطیر

(ذوق، در مدح بهادر شاہ ظفر )


یہاں آپ کو یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ کبھی کبھی شعرا نے کسی خاص غرض اور مقصد کے حصول کے لیے بھی قصیدے کہے ہیں ۔ ایسے قصیدوں میں مدح کے بعد اور دعا سے پہلے شاعر اپنا مطلب و مدعا بیان کرتا ہے۔ چنانچہ اس حصے کو عرض مطلب یا مدعا کہتے ہیں۔ عام طور سے یہ حصہ زیادہ طویل نہیں ہوتا ۔ خیال رہے کہ مدعا بیان کرتے ہوئے بھی شاعروں نے اکثر فنی مہارت اور طباعی و غیرہ کا خوب مظاہرہ کیا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام