مرزا دبیر کی شاعری میں روایتی پیش کش

 مرزا کو روایتیں نظم کرنے کا شوق تھا۔ چنانچہ جبیب ابن مظاہر کے حال والے مرثیے میں جو روایت نظم کی ہے اس کے       استعمال کی اولیت کا اظہار کیا ہے۔ بند ملاحظہ ہو:


ہر چند کہ بے حصہ ہے مضمون روایت

آگے نہ کسی کو ہوئی پر ایسی ہدایت

واللہ نہ ہے بجل نہ کینہ نہ شکایت 

منظور ہے پر زور طبیعت کی رعایت

کہتے ہیں کہ گنجائش احوال نہیں ہے

ہر ماہ اگر کہیے تو اشکال نہیں ہے


ہل اتیٰ ، لافتیٰ ، انم،قل کفٰی ، یہ چاروں لفظ حضرت علی کے فضائل کی تلمیحات ہیں۔ ان تلمیحات کا استعمال ایک بند میں مرزا صاحب کے پاس ملاحظہ کیجیے۔


اہل عطا میں تاج سربل اتیٰ ہیں

اغیار لاف زن ہیں، شہ لافتیٰ ہیں یہ

خورشید انور فلک انما میں یہ 

کافی ہے یہ شرف کہ شہ قل کفیٰ ہیں یہ

ممتاز کو خلیل رسولان دیں میں ہیں

کاشف ہے لو کشف یہ زیادہ یقیں میں ہیں


مرزاد بیر کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ طوالت کے دل دادہ ہیں لیکن جہاں ضرورت ہے وہاں اختصار بھی مہارت کے ساتھ ان کے کلام میں جگہ پاتا ہے۔ روز عاشور کے بیان میں حضرت علی اکبر کی صبح کی اذان سے امام حسین کی شہادت تک کا بیان مختصر ترین انداز میں صفا ذیل بند میں ملاحظہ کیجیے۔


اکبر نے اذاں دی ہوئے شہ محو عبادت 

اور بعد عبادت ہوئے ایک ایک سے رخصت 

میدان میں طالع ہوا خورشید امامت

اور پیاسوں کو آنے لگے پیغام شہادت

تو قیر شہادت کی بہتر پہ ہوئی ختم

آغاز ہوئی حر سے اور اصغر پر ہوئی ختم


مرزا دبیر نے شہر بانو کی کی کنیرز کے حالات بیان کرتے ہوئے بعد شہادت قلعہ شیریں پہنچنے کا حال جس طرح نظم کیا ہے اس کا معاہد دل کو دہلا دیتا ہے۔ جذبات کی فراوانی اس ماحول میں پہنچا دیتی ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم آج اس واقعے کو چشم تصور  سے دیکھ رہے بلکے یسا معلوم ہوتا ہے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ کنیز شیریں کی سید سجاد  اور علی اکبر سے قربت، شام پہچنے کے بعد اپنے آقائے نامدار کا انتظار اورآمد کی اطلاع ذریعہ خواب ، ان سب کے بعد اہل بیت اطہا کا پہنچنا شیریں زرو مال خرچ کر کے ماتم حسین برپا کرنا  ۔ دل کی واردات سب یکجان ہو کر اس مرثیہ کولاز وال مقبولیت عطا کرتے نظر آتے ہیں۔ ذیل میں چند بند بطور مثال پیش ہیں۔

پھر فوج کے سردار کو شیریں نے دیا ذر 

سرشہ کے عزیزوں کے بھی منگوا لیے یک سر 

اور لا کے ہر اک بی بی کو ایک ایک دیا سر

رو کر کہا زینب سے کہ اب چلیے مرے گھر

وہ بولی تو چل آگے ترا دحیان کدھر ہے

شیریں ترے ہاتھوں پہ نبی زادے کا سر ہے


شیریں کے گھر آئے حرم اس شان سے باہم 

گھر جاتے ہی شیریں نے بچھائی صف ماتم 

سجادے پر رکھا سر سلطان دو عالم 

گرد اس کے رکھے بیوؤں نے سر اور بھی اُس دم

زہرا کی صدا آنے لگی آل نبی کو

لو بیبیو اب روؤ حسین ابن علی کو


الفاظ کے انتخاب اور معنی کے حسن کا امتزاج شعر کی اصل خوبی ہے۔ مختصر سا مطالعہ مرزادبیر کے فن اور اس کے حسن کی ایک جھلک دکھلاتا ہے تفصیل مطالعہ مزید گہرائی اور گیرائی کے ساتھ فن کاری کو واضح کر سکتا ہے۔


خلاقِ ازل نے اس دنیائے آب وگل میں مختلف جلوے چاروں طرف بکھیر رکھے ہیں۔ ہر جلد مخصوص اور منفرد ہے اور اس کی اپنی اہمیت ہے۔ کہیں کوئی صلاحیت خوبی بن جاتی ہے اور کہیں اس کی متضاد صلاحیت اپنے حسن سے مسحور کر لیتی ہے۔ ایک ہی بات مختلف انداز سے بیان کی جاتی ہے۔ انداز بیان، اس میں نیاین، نیا انداز ، نیا حسن اور نئی کشش پیدا کر دیتا ہے۔ کسی کا اختصار دل کو لبھا جاتا ہے اور کہیں طوالت اپنے سحر میں گرفتار کر لیتی ہے۔ واقعہ کر بلا کا بیان سن ساٹھ ہجری سے ہو رہا ہے۔ مختلف شعرا نے اپنے اپنے طور پر اس کی جزئیات بیان کی ہیں ۔ سطور ذیل میں مرزادبیر کے حوالے سے اس واقعہ کی پیش کشی میں روایتوں کو نظم کرنے کی چند کامیاب کوششوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس میں مرزا نے واقعے کی عظمت اور شاعرانہ حسن دونوں کا خیال رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ امام حسین کی شہادت کے بیان میں ایک مرثیہ لکھتے ہوئے دبیر نے نظم کیا ہے کہ مظلوم کر بلانے عمر ( سپہ سالار یزیدی فوج ) کو اس کے والد کیا حب علی یاد دلانے کے بعد اس کے موجود  رویہ کی وجہ دریافت کی ۔ اس نے بے حیائی سے معجز نمائی کی خواہش کی۔ امام حسین نے اس کو کوٹر وسبیل دیکھائی ۔ سلیمان عصر کی رضا پا کر وحش و طیور ، شیر خدا کے شیر پر قربان ہونے کے لیے اجازت طلب کرنے لگے ۔ آہوئے خوش جمال جس نے بچپن میں حضرت کے ساتھ کھیلنے کی سعادت حاصل کی تھی طلب گار جنگ ہوا لیکن امام حسین نے سب کو اپنے پیاروں کی شہادت کا حال سنا کر منع کر دیا اور رخصت کیا۔ اتنا سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی جب اس بے حیا کو حیا نہ آئی تو  ذوالفقار میان سے نکالی اور اپنی تلوار زنی کے جوہر دکھائے ۔ حضرت کی شمشیر زنی نے یزیدی فوج  میں موت کا بازار گرم کردیا۔ موج ابن حوق نام سردار بھی طویل القامت جاں باز لڑائی  کے لیے آیا۔ اس کی اور حسین کی لڑائی کا حال ماہرانہ انداز میں پیش کرتے ہوئے مرزا نے بتایا ہے کہ وہ واصل جہنم ہوا۔ یہ تمام 58 بندوں میں بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد  ابن سعد کے حکم پر نو لاکھ نابکار ایک ساتھ حملہ آور ہوئے اور پھر شہادت حسین کا بیان ہے۔ ان بندوں کے مطالعے سے ایک طرف تو یہ بات واضح کے کہ امام حسین  فوق البشرتھے۔ ان کاہر عمل اعلیٰ نظام خالق اور فکر کا تابع تھا وہ کرار جرار بے مثام  شمشیرزن تھے۔ ان کو پسپا کرناکسی فراد واحد کے لیے ممکن نہ تھا۔ سیدہ کے لال نے اللہ تعالی کی میت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے افراد خاندان اور محبوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام