سودا کی مثنوی نگاری

 مرزا محمد رفیع سودا اردو کے ممتاز شاعر گزرے ہیں ۔ سودا 1710 میں دہلی میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال 1781 میں لکھنو میں ہوا۔ انہیں اردو قصیدہ نگاری میں عظیم مقام حاصل ہوا تاہم غزل مرثیہ اور مثنوی میں بھی ان کی تخلیقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سودا جس طرح کا شعری مذاق رکھتے تھے وہ قصیدے کے لیے بہت موزوں تھا۔ انہوں نے اس صنف میں اردو شاعری کو عربی و فارسی کے ممتاز قصیدہ نگاروں کے ہم پلہ بنانے کی سعی کی اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہے۔ سودا کے کلیات میں مثنویوں کا ذکر پروفیسر سید عقیل نے اپنے تحقیقی مقالے شمالی ہند میں اردو مثنوی کا ارتقا میں کیاہے۔ یہ مثنویاں موضوعاتی اعتبار سے کئی زمروں میں شمار ہوتی ہیں۔ چونکہ قصیدہ نگاری سے ان کو فطری رقبت تھی اس لیے مثنوی میں بھی انہوں نے مدحیہ اور ہجویہ موضوعات پر متعدد مثنویاں لکھیں۔ اس کے علاوہ دیگر متفرق موضوعات پر بھی انہوں نے مثنویاں لکھیں۔ ذیل میں سودا کی مختلف موضوعات کے تحت لکھی گئی مثنویوں کے عنوانات درج کیے جاتے ہیں۔


- مدحیہ مثنویاں  

تعریف شکار آصف الدوله، تعریف بادشاہ شاہ عالم وزیر آصف الدوله، تعریف چاہ مومن خاں ، تعریف اشعار مہربان خاں ۔

 ۔ ہجو یہ مثنویاں 

ہجو بیل راجہ نرپت سنگھ، ہجو میرضاحک ، ہجوشیدی فولاد خاں کو توال، ہجو امیر بخیل ، ہجو فدوی متوطن پنجاب که دراصل بقال بچه بود ،مثنوی در بجولفل صنائع روزگار لکڑی باز ، مثنوی در ہجو حکیم فوٹ، مثنوی در ہجو میرزا فیضو مثنوی بطور ساقی نامه در ہجومیاں فوقی ، ہنجودختر دای، حکایت ڈومنی۔


 اخلاقیات 

اس موضوع کے تحت صرف ایک مثنوی بعنوان مثنوی دربار زن وشوہر سودا کے کلیات میں شامل ہے۔


 مکتوبات خط در شکایت ، خط در اشتیاق 


 ادبی تنقید

معانی بیت مولا نا روم ، بیل ہدایت


موسمیات 

مثنوی در شکایت موسم گرما


 عشقیہ

قصہ پسر شیشہ گروز رگر


سودا کی مثنویوں میں موضوعات کا یہ تنوع ان کے ذہن رسا اور شاعری کے فن پر ان کی قدرت کا پتہ دیتا ہے۔ انہوں نے عشقیہ موضوع کے تحت جو مثنوی به عنوان قصہ پسر شیشہ گر لکھی وہ ان کی دیگر مثنویوں کی بہ نسبت قدرے طویل ہے۔ اس مثنوی میں پانچ سو اشعار ہیں ۔ اس مثنوی میں حمد نعت منقبت ، ساقی نامہ پھر اس کے بعد قصے کا آغاز اور پھر خاتمہ۔ اس مثنوی میں مرد سے مرد کا عشق بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ سودا بنیادی طور پر قصیدہ نگار شاعر تھے لہذا ان مثنویوں پر بھی رنگ قصیدہ کا تخلیقی پر تو نمایاں ہے۔ انہوں نے بعض مثنویوں میں مبالغہ آرائی سے اس قدر کام لیا ہے کہ بیان کی سادگی زائل ہو جاتی ہے۔ سودا کی شاعرانہ طبیعت کا اصل جو ہر ان کی ہجو یہ مثنویوں میں نمایاں ہوتا ہے۔ ہر چند کہ یہاں بھی وہ مبالغہ آرائی سے اپنا دامن نہ بچا سکے لیکن زور بیان اور موضوع کی دلچسپ انداز میں پیش کش نے ان مثنویوں کو بڑی مقبولیت عطا کی ۔ مثنوی در ہجو پیل راجہ نرپت سنگھ اور مثنوی در ہجوشیدی فولاد خاں کو توال میں سودا شخصیات کی ہجو سے بات شروع کرتے ہیں اور پھر اس میں زمانے کی کجروی کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کی اس دور کے انتشار آمیز سیاسی حالات کی تصویر سامنے آنے لگتی ہے 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام