مثنوی کی تنقید

 دیگر اصناف سخن کے مقابلے میں اردو مثنوی کی عمر خاصی طویل ہے مگر اس پر نظریاتی یا اصولی تنقید بہت کم ہوئی ہے ۔ اس پر تنقیدی نظر اس وقت سے پڑنے لگی تھی جب یہ اپنے عروج کی بلندیوں کو چھونے کے بعد مائل بہ انحطاط یا رویہ زوال تھی۔ اس وقت تنقید کے دو نظر ہے تھے۔ ایک نظریاتی دوسرا اصولی، ایک مثنویوں کے ظاہر اور باطنی حسن کا شیدائی تھا اور اس کے عیوب سے نظریں چراتا تھا ۔ دوسرا ان عیوب کی نشاندہی کر کے خوش ہوتا تھا پہلے نظریہ شبلی کا تھا جو قدیم قدروں کے پرستار تھے۔ دوسرا حالی کا تھا جو قدیم شاعری کی فرسودگی کے مخالف یا ناقہ تھے۔ حالی اصولی تنقید کے موجد ہیں " مقدمہ شعر و شاعری میں جہاں انہوں نے غزل مرثیہ، قصیدہ وغیرہ کے پرکھنے کے لیئے اصول بنائے ہیں وہاں مثنوی کے لئے چند اصول متعین کئے ہیں ۔ حالی کے  بعد شبلی نے شعر العجم، جلد چہارم میں مثنوی دی پر تنقیدی نظر ڈالی ۔ ان ناقدین کے  بعد  طویل عرصہ تک مثنوی پر قلم اٹھانے والوں نے ان اصولوں کی پیروی کی شعر الہند میں مولانا عبد السلام ندوی نے حالی اور شبلی کے اصولوں کو سامنے رکھ کر اظہار خیال کیا مولوی جلال الدین نے شبلی کے بنائے ہوئے اصول تاریخ مثنویات اُردو میں پیش کئے۔ حالی نے اردو مثنوی پر تنقیدی نگاہ ڈالتے ہوئے درج ذیل اصول قائم کئے ہیں ۔

1) ربط کلام ہو جو کہ مثنوی اور ہر مسلسل نظم کی جان ہے 
2)جو قصہ مثنوی میں بیان کیا جائے اس کی بنیاد نا ممکن اور فوق العادت باتوں پر نہ رکھی جائے۔
3) انتہا درجہ کا مبالغہ بھی اس سے زیادہ نہیں ہونا چاہئیے کہ جو کسی چیز کی تعریف یا مدح یا ذم میں کہا جائے۔ گو وہ اس چیز کے حق میں صحیح نہ ہو مگر کسی نہ کسی چیز پر صادق آسکتا ہو، نہ یہ کہ دنیا میں کوئی چیز اس کی مصداق نہ ہو
4) مقتضائے حال کے مطابق کلام ایراد کرنا چاہیے خاص کر قصے کے بیان میں ایسا ضروری ہے ۔
5) جو حالت کسی شخص یا کسی چیز یا کسی مکان وغیرہ کی بیان کی جائے وہ لفظاً و معنا نیچر اور عادت کے موافق ایسی ہونی چاہئیے جیسی فی الواقع ہوا کرتی ہے۔ 
6)- قصہ میں ایسی بات کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ ایک بیان دوسرے بیان کی تکذیب نہ کر ے
7)  قصے کے ضمن میں کوئی بات ایسی بیان نہ کی جائے جو تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہو۔
8)قصے میں ان ضمنی باتوں کو جو صاف صاف کہنے کی نہیں ، رمزد کنایہ میں بیان کرنا ضروری ہے 
         حالی کے مندرجہ بالا آٹھ اصولوں کا غور سے مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں اول یہ کہ اصول مثنوی سے کہیں زیادہ قصہ نگاری کے اصولوں کی بشارت دیتے ہیں ۔ دوئم ان میں سے کچھ اصولوں کو مثنوی کے تنقیدی اصولوں میں جگہ نہیں دینی چاہیے مثلاً چھٹا اور آٹھواں اصول کیونکہ ان کا تعلق قصہ سے ہے صنف مثنوی سے نہیں ۔ سوئم اس میں کچھ اصول مثنوی سے کچھ زیادہ دوسری اصناف سخن کے لئے ہونے چاہئیں ۔ چہارم ان میں سے کچھ اصول بھرتی کے ہیں، مثلاً پانچوں اتنا جامع ہے کہ دوسرے تیسرے چوتھے اور ساتویں اصول کا بھی احاطہ کر لیتا ہے اس لئے ان کو علیحدہ ؟ لکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ باوجود ان خامیوں کے ہمہیں یہ نہیں بھولنا چا ہیے کہ حالی پہلے نقاد ہیں جنھوں نے مثنوی پر تنقیدی نگاہ ڈال کر مثنوی کی تنقید کے لئے نیا باب کھولا۔ حالی کے بعد شبلی نے مثنوی کو تنقیدی نظر سے دیکھا اور شعر الحجم جلد چہارم میںدرج ذیل اصول وضع کئے اے
1) حسن ترتیب 
2) کیریکٹر
3) کیریکٹر کا اتحاد
4) واقعہ نگاری
الف ۔  واقعہ نگاری کا کمال یہ ہے کہ جس چیز کا بیان کیا جائے کہ جس طرح ایک ماہر فن کرتا ہے ، یعنی اس کی تمام اصل خصوصیات و جزئیات بیان کی جائیں۔
ب -  واقعہ نگاری میں جزوی باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے ؟ 
ج ۔ واقعہ نگاری میں ایسی کوئی بات نہ آئے جس سے واقعہ ناممکن یا مشکوک ہو جائے 
شبلی نےمثنوی کے اصول نقد میں واقعہ نگاری کو تو جگہ دی مگر منظر نگاری اور جذبات نگاری کا ذکر نہیں کیا۔ کیریکٹر کا عنوان قائم کرنے کے بعد دوسرا عنوان کیریکٹر کا اتحاد قائم کرنا محل نظر ہے ۔
مثنوی کی زبان اور اسلوب بیان کا کیا معیار ہونا چاہئیے ، اس طرف شبلی نعمانی نے کوئی اشارہ نہیں کیا سب سے بڑھ کر قابل ذکر بات یہ ہے کہ شبلی نے اپنے متعین کئے اصولوں کو بھی کام میں نہیں لیا اور شاہنامہ کی تنقیدی بحث میں الگ سے عنوان قائم کئے شبلی کا مثنوی پر تنقیدی جائزہ ایک سرسری جائزہ ہے، حالی کی طرح شبلی نے تفصیل سے کام نہیں لیا ۔ حالی اور شبلی نے مثنوی کی تنقید کے لئے اس وقت اصول مقرر کئے تھے جس وقت مثنوی نہ صرف لکھی جا رہی تھی بلکہ اس کے بعد بھی لکھی جاتی رہی ۔ ان اصولوں ہے پر اس وقت عمل کرنا تو بڑی حد تک لازمی تھا ۔ مگر آج کل جب مثنوی کا دور ختم ہو چکا ہے ہمیں ایسے پیمانے تیار کرنے ہوں گے جو یہ نہ بتائیں کہ مثنوی میں کیا ہونا چاہئیے بلکہ یہ بتائیں کہ مثنوی میں کیا ہے اور کہاں تک مثنوی نگار نے واقعہ نگاری یا اپنے ماحول کی عکاسی کی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام