میر انیس کے مرثیوں میں کردار نگاری
انیس کی مرثیہ نگاری پیکر تراشی، منظر نگاری، اثر آفرینی ، نفسیاتی آگہی ، جذبات نگاری اور زبان و بیان کے بر موقع اور برمحل استعمال کی وجہ سے اپنا جواب نہیں رکھتی۔ لفظوں کا انتخاب ، فضا بندی، واقعہ کی فن کارانہ تصویر کشی اور محاکاتی بصیرت کے ساتھ جذبے، عقیدے اور ذہنی وابستگی نے اسے اثر آفرینی اور فن کارانہ انفرادیت عطا کی ہے۔
کردار نگاری
انیس نے اپنے مرثیوں میں کردار نگاری کے بہترین مرقع پیش کیے ہیں۔ ان میں ہر عمر اور ہر صنف کے کردار اپنی تمام خوبصورتی اور دلکشی کے ساتھ موجود ہیں۔ عمر رسیدہ اشخاص اپنے تجربے کی روشنی میں نوجوان نسل کو بلند کرداری کی تعلیم دیتے اور نصیحت کرتے ہیں۔ نوجوان تیزی اور سرکشی کے باوجود اپنی طبیعت پر قابور رکھتے ہیں ۔ ضبط نفس کی بہترین مثال ، نہر فرات کے کنارے سے خیموں کے ہٹا لینے کی روایت کے بیان میں نظر آتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی تمام ساتھیوں نے حضرت امام حسین کے فرمان کا احترام کیا اور جیسے دوسری طرف ایستادہ کر لیے۔ حضرت عباس کی جذباتی کیفیت اور اطاعت شعاری کا بیان میر انیس نے اس طرح کیا ہے۔
آقا نے دی جو اپنے سر پاک کی قسم
بس تھر تھرا کے رہ گیا وہ صاحب کرم
پر تھکی شکن جبیں پہ نہ ہوتا تھا غیض کم
چپ ہو گئے قریب جو آئے شہ اسم
گردن جھکا دی تا نہ ادب میں خلل پڑے
قطرے لہو کے آنکھوں سے لیکن نکل پڑے
واقعہ کربلا میں مرکزی حیثیت ، مرکزی کردار امام حسین کا ہے۔ دوسرے تمام کردار اسی مرکزی کردار کے عکس پر تو اور متعلقین ہیں۔ یہ کردار ایک طرف اپنے اہم ترین خانوادہ کا ترجمان ہے۔ اس کردار کی اساس پیغمبر خدا کے کردار پر ہے۔ یہ نبی آخر کی شخصیت ، سیرت تعلیمات کا عکاس ہے۔ یہ وہ ہیں جن کے بارے میں فرمان رسالت مآب ہے کہ "حسین مجھ سے ہے میں حسین سے ہوں" ، یہ وہ ہیں جن کے لیے رسول اللہ نے اپنے صاحبزادے کو قربان کر دیا۔ اسے کردار کی پیش کشی کی بھی انسان کے لیے آسان نہیں ہے۔ یہ ذہن کی تخلیق نہیں بلکہ تاریخ کی حقیق اور زندہ شخصیت ہے۔ واقعات کا حقیقت سے تعلق ہے۔ واقعات کی خود تخلیق کرنے والے کو اپی فن کاری کے اظہار کے لیے پوری آزادی ہوتی ہے۔ ایسی شخصیت کی پیکر تراشی کے لیے مذہب عقیدے، روایات ، واقعات کا پورا علم لازمی ہے۔ یہاں تخیل کی ذرہ برابر آزادی بھی شاعر کے لیے ممکن نہیں۔ اس نے اپنے مراثی میں واقعات روایات، عقیدہ علم و فن کارانہ استمال سے پوری کوش کی ہے کہ دل بند رسول کے کردار کی ایک روشن مکمل اور تابناک تصویر پیش کریں۔
اسلامی تعلیمات، اقدار، اخلاقی اقدار، شجاعت، شرافت، سخاوت، عفو درگزر، خوف خدا، مرضی رب کے آگے سر تسلیم خم کرنے کا جذبہ ، اس راہ میں پیش آنے والی دشواریوں کا بھر پور بیان، ان کی وہی عظمت ، خدا کے حضور میں ان کی اطاعت اور خدا اور رسول خدا سے ان کی قربت سب کچھ انیس نے بڑے ہی فن کارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی ان سے جڑی شخصیات کی عظمت اور حرمت بھی انہوں نے بڑے ہی پر اثر انداز میں اجاگر کی ہے۔ زبان وادب کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ادب کے وسیع ذخیرے میں خواتین کے کرداروں کا اتنا تنوع کہیں اور نظر نہیں آتا جتنا مراثی انیس میں ملتا ہے۔ ہزاروں اشعار پر مشتمل مثنویوں میں خواتین مرکزی کردار تقریباً ایک جیسے ملتے ہیں۔ شہزادیاں ، وزیر زادیاں یا کچھ عوامی طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین لیکن مراثی انیس میں سیدۃ النساءالعالمین ، زینب کبری ، ام کلثوم ، شہر بانو، ام فرده، رباب، زوجہ حضرت عباس، فاطمه صغری، فاطمه کبری ، شہزادی سکینہ بی بی فاطمہ کی جنتی کنیز فضہ، شیریں ، ام حبیبہ، ہند ، زوجہ حارث، ام المومنین ام سلمہ، ام البنین اور بھی بے شمار نسوانی کردار اور یہ تمام کردار نہ تو ایک جیسے ہیں اور نہ ہی ایک عمر کے ہیں بلکہ مختلف عمر نسل، طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بنیادی خصوصیت ان کی نیک طبیعتی ہے۔ یہ سب حق پرست ، حق گو، اہلبیت رسول سے والہانہ محبت کی حامل اور ان کی دیدگا مشتاق ہیں۔ خانوادہ رسالت کی خواتین اعلیٰ اخلاقی اقدار سے مزین ہیں ۔ مشکل ترین حالات میں صبر شکر ، ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتی نظر آنی ہیں اور امام حسین انہیں وقت آخر تک صبر و رضا کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ واقعہ کربلا کے بعد مشکل ترین حالات میں وارثوں، گود کے پالوں کو ھونے اور سخت صعوبتوں کا سامنا کرنے کے باوجود یہ نہ صرف اپنے آپ پرقابو رکھتی ہیں بلکہ خیروشر کے اس واقعہ کو یہ قریہ قریہ اجاگرکرتی ہے ۔حق کو عوام تک پہچانے کی سعی کرتی ہیں۔ حضرت زینب بھائیو بھتیجوں، بیوں کی شہادت کے بعد یے قافلے کی قافلہ سالار ، بیمار بھتیجے کی محافظ ، مقصد حسینی کی علم بردار کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کے خطابات، بازاروں میں ہی نہیں درباروں میں بھی انقلاب برپا کر دیتے ہیں ۔ شام کا دربار ، کوفہ کا بازار، کوفہ کا دربار ان کی حق گوئی ، بیباکی اور شاندار خطاب سے لرز اٹھتا ہے۔ ہزاروں بندوں پر مشتمل کلام انیس میں اس کی ایسی تصویریں ملتی ہیں کہ ان کا مطالعہ اور ان کی انفرادیت نہ صرف صدیوں قبل کی صورت حال کو اجاگر کرتی نظر آتی ہیں بلکہ آج بھی قلب و جگر کو متاثر کرتی ہیں
خاتون جنت سیدۃ النسا العالمین کی آفاقی شخصیت کے بیان میں صرف ان کی عفت و عصمت کا بیان نہیں ہے بلکہ جگر گوشہ رسول محنت کش زندگی اور عسرت اور ان کے کردار کے مثبت پہلوؤں کو بھی پر اثر انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر چند تصویریں پیش کی جارہی ہیں ۔
۔ چند بند پیش ہیں:
مہر سپہر عز و شرافت ہے فاطمہ
شرح کتاب عصمت و عفت ہے فاطمہ
مفتاح باب گلشن جنت ہے فاطمہ
نور خدا و ابرِ رحمت ہے فاطمہ
رتبے میں وہ زنان دو عالم کا فخر ہے
حوا کا افتخار ہے، مریم کا فخر ہے
اب زہد و فقر فاطمہ کا کچھ سناؤں حال
فاقے پر فاقے کرتی تھی اکثر وہ پر ملال
لاتے جو مزد آب کشی شیر ذوالجلال
تب جو منگا کے پیستی تھی وہ نکو فعال
دولت سے کچھ غرض تھی نہ حشمت سے کام تھا
آٹھوں پہر خدا کی عبادت سے کام تھا
عسرت وفاقہ کشی میں سخاوت اُس گھر کا شعار تھا ابوتراب ہوں یا خواتین جنت کی سردار یا حسین ، روزے پر روزے بغیر افطار رکھتے مگر یتیم مسکین و اسیر کا پیٹ بھرتے ۔ مساوات پر اس طرح سے عامل کہ
پاس اپنے سدا فضہ کو بٹھلاتی تھیں زہرا
جب اس کو کھلا لیتی تھیں جب کھاتی تھیں زہرا
خود زبان سیدہ سے انیس نے اس روایت کا اظہار اس طرح کروایا:
اک دن تو فضہ کرتی ہے سب گھر کا کاروبار
اور کی ہے میں نے محنت یک روز اختیار
گو میں محمد عربی کی عزیز ہوں
حق کی کنیز وہ بھی ہے میں بھی کنیز ہوں
اس وقت تک مغرب کے صنعتی انقلاب کے تصور سے انیسں واقف نہ تھے لیکن صدیوں پہلے اسلام کی تعلیمات میں کسب حلال، مساوات ، لقمہ حلال کی عملی تصویر جو اہلبیت اطہار نے پیش کی ، ہمدردی، سخاوت کا جو مظاہرہ کیا اس کو اجاگر کیا۔ ماں اور اس کی عظمت ، محبت، شفقت، اس کے جذبات، احساسات ، تڑپ، اثر آفریں انداز میں پیش کیے ۔ وفات کا علم ہو جانے کے بعد بچوں کے کپڑے دھونا نہلانا ، ان کے لیے روٹی پکانا، انہیں گلے لگانا ، جدائی کے خیال سے آنسو بہانا، حضرت علی سے بچوں کے بارے میں وصیتیں کرنا ، رفیق زندگی سے گفتگو
پڑھنے والوں کو اس گھر کی تصوراتی فضا سے منسلک کر دیتا ہے۔
انیس کا انداز بیان ملاحظہ کیجیے:
اے شیر حق بتو ل کی رخصت کا وقت ہے
دن وصل کے گزر گئے فرقت کا وقت ہے
دے صبر میرے ہجر میں حضرت کو کبریا
خدمت کا حق جو تھا وہ نہ مجھے سے ہوا ادا
بولے علی لگا کے یہ چھاتی سے اس کا سر
یہ کیا کلام کرتی ہو زہرا کے نامور
مجھ کو ہمیشہ شاد رکھا اے نکو سیر
فاقوں میں صبر وشکر سے اوقات کی بسر
میں جس سے شاد ہوں، وہی تم نے سدا کیا
فا قے کیے مگر نہ زباں سے گلہ کیا
فاطمہ زہرا کے بیان میں جنہیں رسول ﷺ نے " بضعتہ منی " کہا تھا۔ نسبی شرافت ، عظمت، شرف کے ساتھ ان کے تقوی سادگی محنت اور فقر وفاقے کو پیش کرتے ہوئے انیسں نے معاشرتی توازن کی جانب متوجہ کرا۔شکر صبر کے جذبہ کی عظمت کو اجا گر کرنے کی کوشش کی۔ جناب سیدہ کے ساتھ انیس نے جابجا ان کی حبشبی کنیز فضہ کا ذکر بھی کیا ہے۔ فضہ کی علمیت ، عبادت جناب سیدہ کی وفات کے بعد واقعہ کر بالا کے ہر دشوار مرحلے اور دوراسیری کی آزمائشوں میں ان کی اطاعت حق پسندی، بے با کی شجاعت اور وفاداری کا ذکر بکثرت کیا ہے۔ ان کی نسلی کمتر یا کنیز کا احساس انکی عظمت کو ہدھم نہیں ہونے دیتا۔ یہ ا سلام کی واضح ترین عملی مثال کےطور پر سامنے لائی گی ہے نسلی ا
نسبی امتیاز یہاں دور دور تک نظر نہیں آتا۔ سفر امام حسین کے ضمن میں فرزند پیمبر کا مدینہ سے سفر ہے. سفر کی تیاری ، رخصت وغیرہ کے ساتھ ساتھ امام حسین کی صاحب زادی فاطمہ صغری جنہیں ساتھ نہیں لے جایا گیا، مشیت ایزدی سے یا بخار یا بیماری کی وجہ سے، اس مرثیہ میں بیمار فاطمہ صغری کی تڑپ ، بے چینی ، بے قراری ، گریہ وزاری، التجاء والد سے التجا بھری گفتگو، حقیقت اور تخیل کی ایسی آمیزش کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے کہ اس دردناک بیان سے کلیجہ منہ کو آتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ انیس رقم طراز ہیں:
صغری نے کہا کھانے سے خود ہے مجھے انکار
پانی جو کہیں راہ میں مانگوں تو گنہ گار
کچھ بھوک کا شکوہ نہیں کرنے کی یہ بیمار
تبرید فقط آپ کا ہے شربت دیدار
گرمی میں بھی راحت سے گزر جائے گی بابا
آئے گا پسینہ تپ اُتر جائے گی بابا
ایک اور بند کے بعد والد سے رقت انگیز التجا:
وہ بات نہ ہوگی کہ جو بے چین ہوں مادر
ہرصبح میں پی لوں گی دوا آپ بنا کر
لونڈی ہوں سکینہ کی نہ سمجھو مجھے دختر
دن بھر میری گودی میں رہیں گے علی اصغر
میں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دو
بابا مجھے فضہ کی سواری میں بیٹھادو
خاندان رسالت کی ان تمام عورتوں میں جو حادثہ کربلا کے وقت موجود تھیں، حضرت زینب کا کردار مرکزیت کا حامل نظر آتا ہے۔ سفر مدینہ سے لے کر واپسی اہل حرم تک پہلے رعب و داب ، اہمیت و احترام اور بعد شہادت یہی زینب صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے اپنے امتیازات کی حفاظت اور بھائی کے مقصد شہادت کی ترویج و اشاعت کرتی نظر آتی ہیں ۔ سب کو سنبھالتی ہیں۔ بیمار بھتیجے کی حفاظت کرتی ہیں ۔ یتیموں کی خبر گیری کرتی ہیں ۔ خود کا اور اپنے قافلے کا حوصلہ قائم رکھتی ہیں ۔ جلال و جمال کا پیکر یہ نسوانی کردار ماں ، بہن ، بیٹی، پھوپی ، خاندان رسالت کی تعلیمات کی نقیب غرض مختلف پہلوؤں کو اپنے جلوے میں سمیٹے ایک ممتاز اور منفرد کردار کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ اردو شاعری ان کرداروں کے گلدستہ سے عالمی زبانوں کی صف میں اپنا مقام بنانے کے قابل حیثیت کی حامل ہوگئی ۔ اسلامی، اخلاقی، آفاقی قدریں اپنی پوری قدرت اور توانائی کے ساتھ مختلف اور متعد نسوانی کرداروں کے توسط سے اجاگر کی گئی ہیں ۔ سب کا بیان ممکن نہیں صرف
چند ایک کے ذکر کے ساتھ ایک جھلک پیش کی گئی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں