میر انیس کے مرثیوں میں جذبات نگاری

 جذبات کی مختلف اقسام پر وہی شاعر وفنکار قادر ہو سکتا ہے جس نے نفسیاتی گرہوں کو کھول لیا ہو۔ یوں تو سب ہی کے لیے نفسیات کا مسئلہ پیچیدہ اور دشوار گزار ہے لیکن بچوں کی نفسیات سے واقفیت سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ میر انیس نے ایسے مرقعے بھی مہارت اور فنکاری سے پیش کیے ہیں۔ ایک مریثے میں وہ حضرت امام حسن اور امام حسین کی کم سنی کا واقعہ رقم کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول کا ئنات مسجد میں تشریف فرما ہیں ۔ دونوں نواسے کھیلتے ہوئے نانا جان کی خدمت میں آتے ہیں۔ رسول اکرم فرط محبت سے  امام حسن کے بوسے لیتے ہیں۔ امام حسین کی نفسیات ملاحظہ فرمائیے:


شبیر چاہتے تھے کہ چومیں مرے بھی لب

پر کچھ گلے کے بوسوں کا کھلتا نہ تھا سبب

نانا کے منہ کے پاس یہ لائے تھے منہ کو جب

جھک جھک کے چومتے تھے گلا سید عرب

بھائی کو دیکھ کر جو حسن مسکراتے تھے

غیرت سے ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے


نانا نے لبوں کا بوسہ نہیں لیا تو امام حسین رنجیدہ ہو گئے۔ خفگی کے جذبات امڈ پڑے اور عجیب کیفیت طاری ہوگئی


اٹھے حسین زانوے نانا نے سے خشمگیں 

غصے سے رنگ زرد اور آنکھوں پہ آستیں


رخ پر پسینہ جسم میں رعشہ جبیں پہ چیں

پوچھا کدھر چلے تو یہ بولے کہیں نہیں

گھر میں اکیلے تیوری چڑھائے چلے گئے

دیکھا نہ پھر کے سر کو جھکائے چلے گئے


اب اس خفگی کا اظہار و بیان جب اپنی ماں فاطمہ زہرا سے کرتے ہیں تو اس وقت کی نفسیات ملاحظہ کیجیے:


تم اماں جان منہ کو تو سونگھو مرے ذرا 

کچھ ہوئے ناگوار ہے میرے ذہن میں کیا

بھائی کے لب سے اپنے لبوں کو ملاتے ہیں

اب ہم نہ جائیں گے ہمیں نانا رلاتے ہیں


پانچ ، چھ برس کے بچے کا خشکی کے عالم میں اشک بار ہو جانا ، آستینوں سے آنسوؤں کا پونچھنا ، ماں کے اصرار پر کوئی جواب نہ دینا

بچے کی فطرت کی بھر پور تر جمانی ہے۔ یہاں تک تو انہوں نے بچے کی نفسیات اور جذبات کی عکاسی کی ہے ۔ اس کے ساتھ بچے کی ان کیفیات پر ان کا اظہار انیس کے پاس دیکھیے کہ جناب فاطمہ نے امام حسین کو رنجیدہ دیکھ تو بے قرار ہوکرفرماتے ہیں : 

ہے ہے حسین کیا ہوا تو کیوں ہے اشکبار

یا

تجھ کو رولا کے غم میں مجھے مبتلا کیا 

قربان ہو گئی تجھے کسی نے خفا کیا

یا

گھر سے گئے تھے ساتھ جدا ہو کے آئے ہو 

سمجھی میں کچھ حسن سے خفا ہو کے آئے ہو


انیس پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ان کی کردار نگاری حقیقت سے بہت دور ہے۔ امام حسین انیس کے مرثیوں میں ایک ہندوستانی شخص نظر آتے ہیں اور ان کے متعلقین جیسے حضرت زینب ، حضرت سکینہ، ہندوستانی خواتین معلوم ہوتی ہیں ۔ امام حسین کے قتل پر حضرت زینب کا تڑپ کر بین کرنا خاندان نبوت کی بلند حوصلہ خاتون کے کردار سے بعید ہے۔ جس گھرانے کے بچے، بڑے سبھوں نے ہی بنسے بنسے اپنی زندگی کی قربانی دی ۔ وہاں کی صدر خاندان اتنی کمزور نہیں ہو سکتی ۔ اس کے جواز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ انیس نے اپنے مرثیے ہندوستانی معاشرے کے لیے لکھے اور اس کا مقصد واقعے کربلا کے بیان سے اہل محفل کو متاثر کرنا اور  رلانا تھا اس لیے انیس نے ہندوستانی معاشرہ اور ہندوستانی ماحول میں ان عظیم کرداروں کو پیش کیا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام