سودا کی حالات زندگی

 اٹھارہویں صدی میں میر تقی میر کے جن معاصرین کو اردو شاعری کے میدان میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے، ان میں مرزا محمد رفیع سودا کا نام سب سے نمایاں اور بلند ہے۔ سودا کے اس بلند مرتبے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ کئی تذکرہ نگاروں نے میر اور سودا کو ہم پلہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر غزل اور مثنوی میں میر کو سودا پر فوقیت ہے تو قصیدہ اور ہجو کے میدان میں سودا میر سے بہت آگے ہیں۔ بہر حال اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سودا کا شاعرانہ مرتبہ اتنا بن

لند ہے کہ انہیں اردو شاعری کی روایت میں بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔


سودا کا نام مرزامحمد رفیع اور تخلص سودا تھا۔ وہ 1713 میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ سودا کے والد مرزا محمد شفیع دہلی کے باشندے تھے اور تجارت ان کا پیشہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سودا کے اجداد کا تعلق کابل سے تھا جو سپہ گری کے پیشے سے وابستہ تھے۔ سودا کے والد تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے اور دہلی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ سودا نے جب آنکھ کھولی تو اس وقت دہلی مختلف علوم وفنون کا ایسا مرکز تھا جہاں نہ صرف ملک کے دوسرے شہروں سے اہل ذوق آتے رہے تھے، بلکہ بیرون ملک سے بھی علم وفن سے تعلق رکھنے والوں کی آمد کا سلسلہ قائم تھا۔ شعر وادب کا یہاں ایسا دور دورہ تھاجو شعرا اس فن میں نئی نئی منزلیں سر کرنے پر آمادہ کر رہاتھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت شمالی ہندوستان بالخصوص دہلی میں فارسی شاعری اپنے عروج پرتھی، اور فارسی شعر گوئی کو لوگ اپنے لیے باعث افتخار سمجتے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اٹھارویں صدی کے ابتدائی چند برسوں میں اردو شاعری کی طرف لوگوں کی دلچسپی بڑھنی شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اردو شاعری نے فارسی شاعری کی جگہ لے لی۔


ان حالات میں سودا نے جب شعور کی آنکھیں کھولیں تو ان کی تعلیم وتربیت اس نہج پر ہوئی کہ ان کے اندر قدرت کی طرف سے شاعری کی جو صلاحیت و دیعت ہوئی تھی، اسے پروان چڑھنے کا خوب موقع ملا۔ سودا نے رسم زمانہ کے مطابق پہلے فارسی میں شاعری کی لیکن جلد ہی ریختہ یعنی اردو شاعری کی طرف مائل ہو گئے ۔ انہیں قدرت نے شعر گوئی کی غیر معمولی صلاحیت سے نوازاتھا۔ سودا نے پہلے سلیمان قلی خاں و داد سے مشورہ سخن کیا، پھر شاہ حاتم کی شاگردی اختیار کی۔ شاہ حاتم سودا کے استاد ہونے پر فخر کرتے تھے۔ محمد حسین آزاد نے اپنی مشہور کتاب " آب حیات میں لکھا ہے

" شاہ موصوف ( شاہ حاتم نے بھی اپنے دیوان کے دیباچے میں جو شاگردوں کی فہرست لکھی ہے، اس میں مرزا کا نام اس طرح لکھا ہے جس سے فخر کی خوشبو آتی ہے۔ خوشا نصیب اس استاذ کے جس کے گود میں ایسا شاگرد پل کر بڑا ہو ۔ 

( آب حیات محمد حسین آزاد، ص 142) 


اس زمانے کی دہلی میں سراج الدین علی خان آرزو (1756-1689) جو میر تقی میر کے سوتیلے ماموں تھے، ان کی علمی حیثیت اتنی بلندتھی جس کا شہرہ ہندوستان سے باہر ایران تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ فارسی شعر و ادب کے نہایت بلند پایہ محقق ، شاعر اور زبان داں تھے۔ سودا نے فارسی شعر گوئی

میں خان آرزو سے اصلاح لی اور کہا جاتا ہے کہ خان آرزو نے ہی سودا کو ریختہ میں شعر گوئی کی طرف آمادہ کیا۔ چونکہ سودا کے والد تاجر تھے، اس لیے سودا کے ابتدائی ایام بہت آسودگی اور فارغ البالی میں گذرے۔ والد کے انتقال کے بعد جو کچھ انہیں ترکے میں ملا تھا، سودا نے اسے پس انداز کر کے نہ رکھا، بلکہ عیش وعشرت کے ساتھ بسر کرنے میں مال و دولت صرف کر دی۔ اس کے بعد انہوں نے ملازمت کا پیشہ اختیار کیا اور امرا اور رؤسا کی مصاحبت میں رہے۔ کچھ عرصے کے بعد سودا نے فرخ آباد کا سفرکیا اور وہاں کے نواب احمد بخش خاں بنگش کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ نواب کے دیوان اعلیٰ مہربان خان رند نہ صرف خود شاعر تھے بلکہ شعر و سخن اور علم و ہنر کی قدردانی ان کے مزاج کا حصہ تھی۔ عمران خان دن کے فرخ آبادی مرزا سود کی غیر معمولی قدردانی کی اورانکے شاگر بھی ہوگئے۔ اس طرح فرخ آباد میں  نہایت عیش و آرام کے ساتھ چند برس گزارے۔ لیکن جب 1185ھ میں نواب احمد خاں بنگش کا انتقال ہو گیا تو ایسے حالات میں سودا کو وہاں مزید قیام کرنا مشکل معلوم ہوا۔ چنانچہ سودا نے فرخ آباد سے فیض آباد کا عزم سفر کیا اور وہاں کے نواب شجاع الدولہ (وفات 1775) کے مصاحبین میں شامل ہو گئے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دہلی کے قیام کے دوران جب سودا کی شاعری کی شہرت دور دور تک پھیلنے گ

لگ گئ تھی تو اس وقت نواب شجاع الدولہ نے قدر دانی اور عزت افزائی کی غرض سے سودا کو خاص طور پر فیض آباد بلوایا تھا لیکن اس وقت سودا چونکہ دہلی کی سکوت پر قانع اور مطمئن تھے۔ اس لیے انہوں نے نواب کی دعوت قبول نہ کی اور جواب میں درج ذیل رباعی لکھ کر بھیج دی تھی:


سودا پئے دنیا تو بہر سو کب تک

آوارہ ازیں کوچہ باں کو کب تک

حاصل یہی اس سے نہ کہ دنیا ہووے

بالفرض ہوا یوں بھی تو پھر تو کب تک


لیکن اب شاید حالات ایسے تھے کہ سودا کو نواب شجاع الدولہ کے دربار سے وابستگی میں کوئی عذر مانع نہ ہوا۔ نواب کو بھی سودا جیسے نہایت بلند مرتبہ شاعر کی سر پرستی اور قدردانی کا اشتیاق پہلے سے تھا۔ چنانچہ فیض آباد میں نواب شجاع الدولہ کی مصاحبت میں سودا کو حسب توقع غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ نواب کے انتقال کے بعد جب نواب آصف الدولہ صوبہ اودھ کے حکمراں مقرر ہوئے تو انہوں نے اودھ کے پایہ تخت کو فیض آباد سے لکھنو منتقل کر دیا۔ چنانچہ جوشعرا وادبا دربار سے وابستہ تھے وہ بھی نواب کے ساتھ لکھنو منتقل ہو گئے ۔ اس طرح لکھنو شعر و ادب کا ایسا نیا مرکز بن گیا جہاں اس عہد کے بہت بڑے شاعر اور ادیب بیک وقت جمع ہو گئے تھے اور یہ سلسلہ بعد میں طویل مدت تک قائم رہا۔ نواب آصف الدولہ خود بھی اچھے شاعر تھے اور شعرا اور اہل فن کی قدردانی ان کی فطرت ثانیہ میں داخل تھی۔ ایسے ماحول میں مرزا سودا کی دربار سے وابستگی اور نواب کی مصاحبت اس ادبی معاشرے کے لیے نیک فال سے کم نہ تھی۔ اس عہد کے لکھنو میں شعر و شاعری کا ہر طرف چر چا تھا اور دہلی ومضافات سے تعلق رکھنے والے شعرا میں مصحفی اور قمر الدین منت وغیرہ وہاں موجود تھے لکھنو میں قیام کے دوران مرزا سودا کی شاعرانہ شخصیت کو مزید چمکنے کا موقع ملا کیونکہ اس وقت وہاں ادبی ماحول تازہ تازه سازگار ہوا تھا اور اردو فارسی شعر و ادب سے تعلق رکھنے والوں کی ایک قابل ذکر جماعت اس ماحول سازی میں شریک تھی۔ لکھنو میں نواب آصف الدولہ کے دور حکومت میں ہی 1781 میں مرزا محمد رفیع سودا کا انتقال ہوا۔ سودا کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف میر تقی میر نے اپنے تذکرے میں یہ کہ کر کیا ہے کہ سودا کو ریختہ کی ملک الشعرای زیب دیتی ہے۔ ظاہر ہے،

میر کا یہ اعتراف اس لیے بیحد معنی خیز ہے کہ میر نے عام طور سے اپنے معاصرین میں کسی کے لیے اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ محمد حسین آزاد نے مرزا سودا کے بارے میں عمومی رائے ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے:


انکل اہل فن کا اتفاق ہے کہ مرزا اس فن میں استاد مسلم الثبوت تھے۔ وہ ایسی طبیعت لے کر آئے تھے جو شعر اور فن انشاہی کے واسطے پیدا ہوئی تھی۔ میر صاحب نے بھی انہیں پورا شاعر مانا ہے۔ ان کا کلام کہتا ہے کہ دل کا کنول ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ اس پر سب رنگوں میں رنگ اور ہر رنگ میں اپنی ترنگ۔ جب دیکھو، طبیعت شورش سے بھری اور جوش و خروش سے لبریز

آب حیات محمد حسین آزاد ص( 150-149)


آزاد کے اس اقتباس سے نہ صرف سودا کی غیر معمولی استادی کا پتہ چلتا ہے بلکہ سودا کے شاعرانہ مزاج اور فطری میلان کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ سودا کی طبیعت کی تیزی  کا اکثر ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس صفت کا نمایاں احساس ان کے کلام بالخصوص قصیدوںاور ہجووں سے ہوتا ہے۔ ہماری قدیم شعری روایت میں استادی شاگردی کا ایک طویل اور محکم سلسلہ رہا ہے۔ اس زمانے میں کسی شاعر کے استاذ ہونے کا مطلب ہی یہ ہوتا تھا کہ فن شعر کے میدان میں بہت سے شعرا اس کے حلقے تلامذہ میں شامل ہیں ۔ بات یہ ہے کہ کبھی بھی کسی شاعر کی استادی کے مرتبے کا انداز اس کے شاگردوں کی تعداد بھی لگایا جاتا تھا۔ جیسا کہ اوپر آپ دیکھ چکے ہیں، خدائے سخن میر نے سودا کو نہ صرف مسلم الثبوت استاد کہا بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر سودا کو ملک الشعرا یعنی شاعروں کا بادشاہ کہا جائے تو انہیں زیبا ہے  کہ اس عہد میں سودا کے شاگردوں کی خاصی تعداد تھی ۔ سودا کی غیر معمولی استادی کا اندازہ اس سے  بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی آفتاب نے سودا کی شاگردی اختیار کی۔ علاوہ ازیں اٹھارویں صدی کے ایک نہایت اہم شاعر اور تذکرہ نگار قائم چاند پوری (1793-1722) بھی مرزا سودا کے مشہور شاگردوں میں شامل تھے۔ سودا بہت بھر پور تخلیقی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے مزاج میں بلا کی تیزی تھی۔ غالبا یہی سبب ہے کہ اپنے چند معاصرین کے ساتھ سودا کے معرکے بھی ہوئے ۔ چونکہ ہجو کے میدان میں سودا کو غیر معمولی مہارت حاصل تھی اس لیے وہ جو یہ اشعار کہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ میرضاحک جو سحر البیان کے مصنف میر حسن کے والد تھے، ان کے ساتھ سودا کی چشمک کے بہت سے واقعات محمد حسین آزاد نے نقل کیے ہیں ۔ سودا کو اپنی قصیدہ گوئی اور ہجو گوئی دونوں پر اس قدر ناز تھا کہ ایک شعر میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:


مری یہ فکر سخن صفحہ زمانہ پر کرے ہے

مدح وندمت میں جوہر ارزانی


لکھنو میں مرزا سودا کے ایک معاصر مرزا فاخر مکین تھے۔ انہوں نے ایک تذکرے میں مقبول فارسی کے مشہور شعرا کے منتخب اشعار پر نہایت سخت اعتراض کیے، جگہ جگہ ان پر خط کھینچ دیے اور بہت سے اشعار میں ترمیم واصلاح کر دی۔ سودا نے ان اعتراضات کا مدلل انداز میں جواب لکھا اور اس رسالے کا نام عبرت الغافلین رکھا۔ یہ رسالہ فارسی میں ہے اور پانچ فصلوں پر مشتمل ہے۔ فاخر مکین کے اکثر اعتراض فن شعر کے بنیادی اصولوں مثال استعمال الفاظ اور مناسبت مضمون وغیرہ سے متعلق ہیں۔ سودا نے ان اعتراضات کے جواب میں جو باتیں بیان کی ہیں اور فن شعر کے جو نکات واضح کیے ہیں ان سے جہاں ایک طرف شاعری کی فنی باریکیوں کاعلم ہوا ہے، وہیں   سودا کی غیر معولی صلاحیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ سودا کو اپنے زمانے کے متداولہ علم وفنون سے سے گہرا شغف تھا۔ تذکرہ نگاروں نے فن موسیقی میں سودا کی مہارت کا خاص طور سے ذکر کیا ہے۔ ان کے یہاں خاص کر قصائد میں مختلف علم وفن کی اصطلاحات کا جس خوبی سے استعمال ہوا ہے، اس سے بھی اس بات کا ثبوت ملتا ہے۔


سودا نے اردو شاعری کی تمام قابل ذکر اصناف میں طبع آزمائی کی اور حقیقت یہ ہے کہ ہر صنف میں پی قادر الکلامی اور کا ہنرمندی کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ ان کا دیوانِ غزلیات ان تمام خوبیوں سے مملو ہے جس کی بنا پر وہ اپنے عہد کے ممتازترین نزل کویوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ایک دیوان فارسی بھی ہے جس میں 66 غزلوں کے ساتھ ایک قصیدہ اور کچھ قطعات شامل ہیں۔ جہاں تک سودا کے مکمل اردو کام کا تعلق ہے تو ان کے کلیات میں غزلوں کے علاوہ قصائد ، ہجویات مثنویات رباعیات و قطعات تضمین، مرثیہ وسلام اور متفرقات میں واسوخت اور مناظر فطرت سے متعلق کلام سب کچھ شامل ہے۔ اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ سودا کی طبیعت کسی صنف میں بندبی تھی۔ شاعری کی مختلف ہیتوں خاص طور سے 

ترجیع بند  میں بھی سودا نے اپنی قادر الکلامی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزا سودا کی پوری شاعری ایسا نگار خانہ ہے جس میں رنگ رنگ کے جلوے بیک وقت نظر آتے ہیں



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام