تاثراتی تنقید

 تنقید کے اس دبستان میں مرکزی حیثیت قاری، نقاد کو حاصل ہوتی ہے۔نقاد بھی اصلا ایک قاری ہے۔ باشعور اور صاحب ذوق قاری ۔ وہ فن پارے کو پڑھ کر فقط لطف اندوزی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ فن پارے کے اسرار کوکھولتا اور لطف اندوزی کا تجزیہ کرتا ہے۔ وہفن پارے میں خیال افروزی کی تہہ تک پہنچتا ہے۔ تنقید نگارفن پارے کو فقط اچھا یا خراب کہنے کے بجائے، چند اصولوں کی روشنی میں اس کے اسباب پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ اس طرح تنقید، قاری کی ذہنی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیتی ہے۔ اس کے ذوق کو نکھارتی اور ادبی بصیرت کو فروغ دیتی ہے۔ تنقید فن پارے اور قاری کے درمیان ایک خوشگوار با معنی رابطہ ہے۔  

         لیکن جیسا کہ مذکور ہوا، کوئی بھی تنقیدی دبستان فن پارے کے مختلف پہلوؤں میں سے کسی ایک پر اصرار کرتا ہے۔ چنا نچہ تاثراتی تنقید بھی فن پارے کا تجزیہ کرنے ، قاری کے لیے اس کی تفہیم کی سطح کو بلند کرنے یا اس کی تہوں کو کھولنے کے بجائے نقاد کے ذاتی تاثرات پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہ تنقید قاری کے تاثرات کو زبان و بیان کے ذریعے دوبارہ تخلیق کرتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، نقاد اصل فن پارے کے متوازی ایک ایسا متن تخلیق کرتا ہے جو دوبارہ وہی کیفیت یا اس سے ملتی جلتی کیفیت تخلیق کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ اس طرح تاثراتی تنقید نہ تو معروضی (Objective) انداز میں فن پارے کا تجزیہ کرتی ہے، نہ ہی اپنی جانبداریوں سے دست بردار ہو کر فن پارے کا علمی محاکمہ کرتی ہے۔ اسی طریقہ کار کے سبب مغرب میں اس دبستان کے بنیادگزاروں نے اسے تخلیقی تنقید (Creative criticism) کا بھی نام دیا ہے۔ گویا تاثراتی تنقید کسی فن پارے کے رد عمل میں ایک اور فن پارہ تخلیق کر دینے سے عبارت ہے۔ 


بنیادی تصور


اس دبستان تنقید کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ ادبی تخلیقات سے کوئی اخلاقی ، سماجی یا افادی مقصد وابستہ کرنا ، اس کے حسن کو غارت کر دینے کے مترادف ہے۔ فن آپ اپنا انعام ہے۔ یہ ایک منفرد جمالیاتی تجربہ ہے جس کا نہ تو تجزیہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی علمی موشگافیوں سے مسرت کے اس لازوال رشتے تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ لطف اندوزی اور سرشاری ہی ادب کی غایت ہے۔ اس لیے سچی تنقید کو بھی ان انبساط کی اس کیفیت کو پارہ پارہ کرنے کے بجائے سے دو بار خلق کرنا چاہئے۔ یہی سچی اورمنصفانہ تقید ہے۔


خامیاں


اس تنقیدی دبستان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ شخصی رد عمل پر انحصار کرنے کے سبب یہ موضوعی (Subjective) بیانات سے آگے نہیں بڑھتی


یہ تنقید فن پارے کے بارے میں ہماری بصیرت میں کوئی اضافہ نہیں کرتی ۔


اس دبستان میں فکری نظریاتی اساس کی کمی کا شدید احساس ہوتا ہے۔


قاری کا ردعمل شخصی اور اضافی ہونے کے سب تاثراتی تنقید بہت دور تک ساتھ نہیں دیتی فن پارے کے تئیں ہر شخص کا ردعمل یکساں نہیں ہوتا بلکہ ایک ہی شخص کے تاثرات بھی وقت جگہ یا سیاق وسباق کی تبدیلی سے مختلف ہو جاتے ہیں۔


فن پارے میں بیان ہونے والے خیالات و افکار نیز تعمیر متن کے طریقوں سے صرف نظر کرنے کے سبب یہ تنقیدی دبستان یک رخا اور نامکمل ہے۔


نمائندہ نقاد


اُردو تنقید کے بیشتر دبستانوں کے نمائندہ نقادوں کی ایسی فہرست مرتب کرنا بہت دشوار ہے جو دیگر دبستانوں سے یکسر علاحدہ ہوں ۔ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے بیشتر نقاد بیک وقت مختلف دبستانوں سے استفادہ کرتے ہیں بالخصوص، تاثراتی ، رومانی اور جمالیاتی تنقید کے دبستان سے وابستہ نقادوں کی فہرست تو تقریباً یکساں ہے۔ اس لیےایک ہی نام ایک سے زائد دبستانوں میں آپ کو مشترک نظرآئے گا۔ اُردو کے نمائندہ تاثراتی نقاد حسب ذیل ہے


محمد حسین آزاد (آب حیات)

  مہدی افادی (افادات مهدی)

نیاز فتح پوری (انتقادیات)

فراق گورکھپوری (اندازے)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام