رومانی تنقید

 اردو زبان میں رومانیت کی تحریک اتنی باضابطہ اورمنصوبہ بند طریقے سے نہیں شروع ہوئی جیسی جرمنی اور فرانس میں ہوئی ۔ اس لیے اُردو کی حد تک تنقید کے اس دبستان کے اصول بہت مستحکم نہیں ہیں۔ چنانچہ شعر و ادب کی طرح تنقید میں بھی رومانیت کے عناصر تو ضرور ملتے ہیں لیکن کسی نقاد کو خالص رومانی نقاد کہنا بہت دشوار ہے ۔ دوسری وجہ اس صورت حال کی یہ بھی ہے کہ اُردو کے نقادوں نے کسی بھی نظام فکر کی پابندی اس شدت سے نہیں کی کہ دوسرے نظام فکر یا دبستان سے خود کو یکسر علاحدہ رکھیں ۔ چنانچہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایک نقاد کی مختلف تحریروں میں، سماجی، تاریخی، نفسیاتی اور بیتی تنقید کے عناصر بیک وقت ساتھ ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بالخصوص تاثراتی رومانی اور جمالیاتی تنقید کے نمائندہ نقاد تو تقریبا ایک ہی قبیلے کے لوگ ہیں۔ تنقید کے ان تینوں دبستانوں کی حدیں کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے بہت قریب آجاتی ہیں ۔ جذباتی کیفیت اور حسن پرستی کے عناصر ان تینوں دبستانوں کو ایک ہی رشتے میں پرو دیتے ہیں۔ اکثر نقادوں کے نام بھی ان تینوں دبستانوں میں مشترک نظر آتے ہیں۔ عبد الرحمن بجنوری، مہدی افادی، مجنوں گورکھپوری ( تنقیدی حاشیے کی روشنی میں ) اور فراق گورکھپوری اگر تاثراتی نقاد ہیں تو ساتھ ہی رومانی نقاد بھی سمجھے جاتے ہیں۔


رومانی تنقید کی خصوصیات



فن کے اصولوں کے بجائے شخصی رویوں پر اصرار


 اجتماعیت کے بجائے انفرادیت پر زور


 حسن ( نسوانی و فطرت ) کو مسرت کا سر چشمہ تصور کرنا


جذباتی انتہا پسندی اور والہانہ پن کی روشنی میں فن پارے کا مطالعہ


افکار و خیالات کے بجائے تخیل کو معیار سمجھنا


تجزیے اور محاکے کے بجائے فقط جمالیاتی کیف کی تصویر کشی 

نظام کائنات کو اندھی مشیت کے تابع سمجھنا اور معاشرے کو فرد کا دشمن تصور کرنا

آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ لغوی معنی میں تنقید کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنے کا نام ہے۔ کسی فن پارے کی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی کسی متن کی اس طرح چھان پھٹک کہ اس کے محاسن اور معائب دونوں ہی واضح ہو جائیں تنقید کا بنیادی وظیفہ ہے۔ تاثراتی تنقید میں مرکزی حیثیت قاری انتقاد کو حاصل ہوتی ہے۔ نقاد بھی اصلاً ایک قاری ہے۔ باشعور اور صاحب ذوق قاری۔ دو فن پارے کو پڑھ کر فقط لطف اندوزی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ فن پارے کے اسرار کو کھولتا اور لطف اندوزی کا تجزیہ کرتا ہے۔ وہ فن پارے میں خیال افروزی کی تہہ تک پہو نچھتا ہے۔ تاثراتی تنقید فن پارے کا تجزیہ کرنے، قاری کے لیے اس کی تفہیم کی سطح کو بلند کرنے یا اس کی تہوں کو کھولنے کے بجائے نقاد کے ذاتی تاثرات پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہ تنقید قاری کے تاثرات کو زبان و بیان کے ذریعے دوبارہ تخلیق کرتی ہے۔ اُردو کے نمائندہ تاثراتی نقادوں میں محمد حسین آزاد ( آب حیات ) نیاز فتح پوری (انتقادیات ) ' مہدی افادی ( افادات

مہدی) اور فراق گورکھپوری (اندازے) شامل ہیں۔ اُردو میں جمالیاتی تنقید کا با قاعدہ دبستان موجود نہیں ہے اور نہ ہی دوسرے دبستانوں کی طرح اس تنقید کا کوئی مستحکم فکری نظام ہی اُردو میں نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر سماجی یا ترقی پسند تنقید، نفسیاتی تنقید یا بیتی تنقید ایسے دبستان ہیں جن کا با قاعدہ ایک فکری نظام ہے اور مطالعہ متن کے کچھ اصول ہیں جن کی روشنی میں ادبی تخلیقات کا محاکمہ کیا جاتا ہے۔ یہ صورت جمالیاتی تنقید کے سلسلے میں دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ جمالیاتی تنقید کے مثالی نمونے اُردو میں کم یاب ہیں ۔ سید عابد علی عابد کی بعض تحریروں خصوصاً ان کی کتاب " اسلوب اپنے مشمولات کے پیش نظر جمالیاتی تنقید کا نمونہ کہی جاسکتی ہے۔ ہمارے زمانے میں پروفیسر شکیل الرحمان نے میر، غالب اور اقبال کی جمالیات سے متعلق جو کچھ لکھا ہے اُسے اس سمت میں اچھی کوشش کہا جا سکتا ہے ۔ مہدی افادی اور نیاز فتح پوری کی تحریروں میں مظاہر حسن کے تئیں جو رویہ ملتا ہے وہ حسن پرستی سے آگے نہیں بڑھتا۔ اسے جمالیاتی تنقید کی علمی اور فلسفیانہ سطح کے طور پر پیش کرنا اس دبستان کے بنیادی اصولوں سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ تنقید کے رومانی دبستان کی تفہیم رومانیت کے بنیادی افکار کے پس منظر میں ہی ممکن ہے۔ مغرب میں رومانیت کی ابتدا ایک فلسفے اور نظام فکر کی حیثیت سے ہوئی جس کے اثرات ادبی تصورات پر بھی نظر آتے ہیں۔ انہیں ادبی تصورات کی روشنی میں خصوص تنقیدی رویے نے دبستان کی شکل اختیار کی۔ اس نظام فکر کی روشنی میں ادبی متون کا مطالعہ، ان کی تحسین، اور تعین قدر، رومانی تنقید کہلاتی ہے۔ اردو زبان میں رومانیت کی تحریک اتنی باضابطہ اور منصوبہ بند طریقے سے نہیں شروع ہوئی جیسی جرمنی اور فرانس میں ہوئی۔ اس لیے اُردو کی حد تک تنقید کے اس دبستان کے اصول بہت مستحکم نہیں ہیں ۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایک نقاد کی مختلف تحریروں میں ، سماجی، تاریخی ، نفسیاتی اور ہیتی تنقید کے عناصر بیک وقت ساتھ ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بالخصوص تاثراتی رومانی اور جمالیاتی تنقید کے نمائندہ نقاد تو تقریبا ایک ہی قبیلے کے لوگ ہیں۔ تنقید کے ان تینوں دبستانوں کی حدیں کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے بہت قریب آجاتی ہیں۔ جذباتی کیفیت اور حسن پرستی کے عناصر ان تینوں دبستانوں کو ایک ہی رشتے میں پرو دیتے ہیں۔ اکثر نقادوں کے نام بھی ان تینوں دبستانوں میں مشترک نظر آتے ہیں۔ عبدالرحمن بجنوری، مہدی افادی، مجنوں گورکھپوری ( تنقیدی حاشیے کی روشنی میں ) اور فراق گوورکھپوری اگر تاثراتی نقاد ہیں تو ساتھ ہی رومانی نقاد بھی سمجھے جاتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام