جمالیاتی تنقید
اگر جمالیات کا فقط لغوی معنی پیش نظر ہو تو معاملہ زیادہ دشوار نہیں ہے اور اکثر نقادوں کے یہاں اس کی نشان دہی کی جاسکتی ہے لیکن مخصوص شعبہ علم کی حیثیت سے اگر ” جمالیات کی تعریف پیش نظر ہواور اس دبستان کی فکری بنیادیں بھی محلوظ ہوں تو اردوکی
حد تک اس تنقیدی طریقہ کار سے ہمارے بہت کم نقادوں نے کام لیا ہے۔
جمالیات کی اصل جمال کا فلسفہ یا علم ہے۔ یعنی حسن کی تلاش اور اس کی نشان دہی اس طریقہ تنقید کی اصل ہے، اس اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مطالعہ متن کے اس طریقہ کار کو جس میں حسن کی تلاش اورحسن کے متعلقات کو مرکزی اہمیت حاصل ہو،
جمالیاتی تنقید کہا جائے گا۔ یعنی متن کے تشکیلی عناصر ، اس کے سماجی محرکات، یا فن کار کے شعوری اور لاشعوری نہاں خانوں تک رسائی ، اس طریقہ تنقید کا مقصود ہر گز نہیں ہوتا ۔ یہ طریقہ تنقید فن پارے کی اخلاقی اور افادی قدروں سے بھی سروکار نہیں رکھتا۔ بلکہ تنقید کے اس ابستان کا تنہا مقصود، حسن کی تلاش اور اس کے متعلقات کا تجزیہ ہوتا ہے۔ اور اسی بنیاد پر فن پارہ اچھا یا یہ اقرار پاتا ہے۔ یہاں تک تو
بات سادہ اور آسان تھی لیکن جب ہم جمالیات کو ایک نظام فکر اور علم کے ایک مستقل شعبے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں تو ہمیں ایسے بہت
سے سوالات کا سامنا کرنا ہوتا ہے جن کا جواب اتنا سہل اور سادہ نہیں ہے۔ مثلاً مطالعہ حسن کا نام اگر جمالیات ہے تو پھر :
حسن کی حقیقت کیا ہے؟
حسن مادی اور محسوس پیکر کا نام ہے یا فقط ایک مجرد تصور ہے؟
حسن اور حسین کیا الگ تصورات ہیں؟
حسن کا سر چشمہ کہاں ہے؟ معروضی یعنی حسین شے میں یا اس کا مشاہدہ کرنے والے شخص میں ۔
حق اور خیر سے حسن کا کیا رشتہ ہے؟
حسن سے وابستہ مسرت کی کیفیت کسی پر اسرارم سے جس کا تجربہ کرنے والے شخ کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے؟ 7- حسن مطلق ہے یا اضافی یعنی حسین نے کیا ہر جگہ اور ہر زمانے میں حسن ہی ہوگی؟ یا زماں ومکاں کی تبدیلی سے حسن کی قدر تبدیل ہو جاتی ہے۔
اور اس سلسلے کا مشکل ترین سوال یہ کہ ۔ کیا ایسے اصولوں کی ترتیب اور ان کا کوئی مربوط نظام ممکن بھی ہے جو مصوری، موسیقی، مجسمہ سازی فن تعمیر، اور شعر ادب سبھی کے حسن کا احاطہ کر سکے؟ کیونکہ حسن و جملہ فنون لطیفہ کی یکساں طور پر مشترک قدر ہے اور ان کا بنیادی جو ہر ہے۔ جمالیاتی تنقید کوایک دبستان تسلیم کرنے کی صورت میں ان سوالوں کا جواب فراہم کرناضروری ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اردو کا کوئی تنقیدی نظام ان تمام سوالوں کا اطمینان بخش جواب نہیں دیتا۔
مشرق و مغرب میں جمالیات کا تصور
جمالیات کا انگریزی مترادف Aesthetics ہے۔ ایک مخصوص شعبہ علم کی حیثیت سے Aesthetics کا تصور مغرب میں بھی بہت بعد میں شروع ہوا۔ پہلا شخص جس نے Aesthetic کا لفظ فلسفہ حسن کے معنی میں استعمال کیا بام گارٹن ( A.G Baum garten) تھا۔ یہ جرمن مفکر تھا جس نے 1735ء میں اپنا تحقیقی مقالہ Aesthetica کے عنوان سے لکھا جو 1750ء میں شائع ہوا۔ اس مقالے میں بام گارٹن نے پہلی بار اس حقیقت کا احساس دلایا کہ فنون لطیفہ میں پایا جانے والا حسن مطالعے کا مستقل موضوع ہے۔ اور اس حسن سے وابستہ مسائل کا مطالعہ ایک مستقل علم کا تقاضا کرتا ہے۔ بام گارٹن یہ بھی صراحت کرتا ہے کہ حسن کے تجربے سے حاصل ہونے والی مسرت ، حصول علم کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ یہ تجربہ بھی ایک علم ہے جسے بام گارٹن Absence
Knowledge ( نیم روشن علم ) یا Knowledge in the form of feeling (احساس کی شکل میں حاصل ہونے والا علم )
کہتا ہے۔
بام گارٹن کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے فقط حسن اور اس کے متعلقات کو مطالعے کا موضوع بنایا اور اس کے لیے فلسفے کی ایک
مستقل شاخ Aesthetic کے نام سے وضع کی۔ اس اصطلاح کو اسی مخصوص معنی میں بعد کے تمام مفکرین نے تسلیم بھی کیا۔ جرمنی کے دوسرے مشہور مفکر ( Hegel) بیگل (170 ء - 1831 ) نے اس علم کے مباحث کو مزید جلا بخشی اور اپنی مشہور کتاب Philosophy of fine Arts (فنون لطیفہ کا فلسفہ ) میں جمالیات کے مسئلے پر نہایت تفصیل سے اور فلسفیانہ انداز میں گفتگو کی ۔ اس کتاب میں ہیگل کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ فطرت کے مظاہر اور انسانوں میں پایا جانے والا حسن اپنی ماہیت کے اعتبار سے فنون لطیفہ کے حسن سے مختلف ہے۔ اس لیے حسن کے یہ فطری مظاہر جمالیاتی مطالعے کا موضوع نہیں ہوتے ۔ فقط فنون لطیفہ کا حسن ہی
جس میں انسانی تخیل اور شعوری احساس فن کی کارفرمائی ہوتی ہے، جمالیات کا موضوع ہے ۔ انسانی ذہن اور روح کی تخلیقات ہیگل کی تفتیش و تحقیق کا اصل دائرہ کار تھا۔ بام گارٹن اور بینگل کے علاوہ اطالوی مفکر کروپے (Bendelto Croce) ( پیدائش 1866ء) نے بھی اس دبستان کے اصول مرتب کرنے میں اہم خدمت انجام دی ہے۔ اس کا مشہور فلسفہ نظریہ اظہاریت (Expressionism) کے نام سے معروف ہے۔
ہندوستانی زبانوں کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ یہاں کسی بھی زبان کے ادب میں جمالیاتی تنقید کے اصول نظام فکر کی صورت میں مرتب شکل میں موجود نہیں ہیں۔ اچھے شعر سن کر آہ یا واہ کردینے کی روایت تو ہر زبان کے ادب میں مل جاتی ہے۔ اور یہ صورت حال احساس حسن کی موجودگی کا پتہ بھی دیتی ہے لیکن علمی اور لسفیانہ سطح پر تجربے اور حاکے کا بدل ہر گز نہیں ہوسکتی ۔ سنسکرت ادبیات کے حوالے سے البتہ اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ تیسری صدی قبل مسیح میں اپنی شہرہ آفاق تصنیف ناٹیہ شاستر میں بھرت منی نے اس کا نظریہ پیش کیا جس میں نائک کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے فن سے حاصل ہونے والی سرت اور انبساط کورس کا نام دیا اور علمی سطح پر اس کی حقیقت نیز اس سے وابستہ مسائل کو گفتگو کا موضوع بنایا۔ بھرت منی کا یہ نظر یہ اتنا سطح
تجزیاتی اور اس کی بنیاد اس قدر مستحکم تھی کہ آج بھی شعر و ادب کے مطالعے میں اس سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
جمالیاتی تنقید کے بنیادی اصول
مشرق و مغرب کے علمائے جمالیات کی تصانیف کے پیش نظر جمالیاتی تنقید کے حسب ذیل اصول مرتب کیے جاسکتے ہیں:
جمالیاتی تنقید حسن اور اس کے متعلقات کو مطالعے کا موضوع بناتی ہے۔
جمالیاتی تجربے سے وابستہ ماورائی نشاط کی کیفیت ، جمالیاتی تنقید کا بنیادی سروکار ہے۔
جمالیاتی تنقید حسن کی شناخت پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ اس کے تشکیلی عناصر کا تجزیہ بھی کرتی ہے۔
جمالیات کا تعلق فقط شعر و ادب سے نہیں ہوتا بلکہ تمام فنون لطیفہ اور ان سب میں مشترک حسن کی قدر، جمالیاتی تنقید کاموضوع ہے۔
فنون لطیفہ کے علاوہ فطرت کے مظاہر میں پایا جانے والا حسن جمالیاتی مطالعے کے دائرے سے باہر ہے۔
جمالیاتی تنقید میں انسانی تخیل کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
جمالیاتی تنقید کے اصول فقط شعر وادب کے بجائے تمام فنون لطیفہ کو پیش نظر رکھ کر وضع کیے جاتے ہیں۔
اُردو میں جمالیاتی تنقید
جمالیاتی تنقید کے مثالی نمونے اُردو میں کم یاب ہیں۔ سید عابد علی عابد کی بعض تحریروں خصوصا ان کی کتاب " اسلوب" اپنے مشمولات کے پیش نظر جمالیاتی تقید کا نمونہ کہی جاسکتی ہے۔ ہمارے زمانے میں پروفیسرشکیل الرحمان نے میر، غالب اور اقبال کی
جمالیات سے متعلق جو کچھ لکھا ہے اُسے اس سمت میں اچھی کوشش کہا جا سکتا ہے۔ مہدی افادی اور نیاز فتح پوری کی تحریروں میں ظاہر حسن کے تئیں جو رویہ ملتا ہے وہ حسن پرستی سے آگے نہیں بڑھتا۔ اسے جمالیاتی تنقید کی علمی اور فلسفیانہ سطح کے طور پر پیش کرن
ا اس دبستان کے بنیادی اصولوں سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں