مارکسی تنقید
اردو میں مارکسی تنقید
ترقی پسند تنقید کا پہلا دور
دوسرے تنقیدی نقطہ نظر کی طرح جدید تنقیدی رحجانات میں مارکسی تنقید کو بھی بہت اہمیت دی گئی۔ خاص طور پر وہ ناقدین جوترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے مارکسزم کو سیاسی اور اقتصادی حل کے طور پر مانتے تھے ۔ ۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں مارکسی نقطہ نظر کے تحت ادبی اقدار کے تعین کی کوشش کی۔ ان میں بعض ناقدین ایک زمانے میں انتہا پسندی کا شکار بھی ہوئے اور قدیم و کلا سیکی ادب کی تفہیم یا ادب میں پائے جانے والے تہذیبی رویوں پر انہوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ جسے نہ عام لوگوں نے پسند کیا اور نہ خود مارکسی حلقوں میں پذیرائی ہوئی۔ بلکہ سخت گیر رویے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ان نظریات کی بار بار وضاحت کی گئی اور اس کے بہتر ملی گوشوں کو واضح کر کے اس کی صحیح شکل کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
اُردو ناقدین میں عام طور پر جن ناقدین کا نام مارکسی تنقید کے سلسلے میں زیادہ نمایاں ہے یا انہیں ایک نظریہ ساز کی اہمیت حاصل ہے اس میں اختر حسین رائے پوری، سجاد ظہیر ڈاکٹر عبدالعلیم، مجنوں گورکھپوری اور احتشام حسین کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ یہ فہرست اس سے طویل بھی ہو سکتی ہے لیکن یہاں پر کسی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے اس لیے صرف بنیادی نام ہی لیے گئے ہیں۔
اختر حسین رائے پوری اُردو کے پہلے مارکسی نقاد مانے جاتے ہیں اس لیے کہ ادب کے اقتصادی اور معاشی رشتے پر انہوں نے اس وقت زور دیا جب اُردو میں ترقی پسند تحریک کی ابتدا بھی نہیں ہوئی تھی ۔ 1932 ء میں ان کی کتاب ادب اور انقلاب کی اشاعت سے پہلے اس موضوع پران کا مضمون شائع ہو چکا تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے مارکس کے اقتصادی و معاشی نظریات اور طبقاتی کش پرا کے تحت ادب کا مطالعہ کیا۔ مارکس نے ادبی سیاسی ارتقا کا انحصار معاشی ارتقا اور ذرائع پیداوار پر رکھا تھالیکن ساتھ ہی اس نے تبدیلی کے دوسرے محرکات کا بھی اعتراف کیا تھا۔ لیکن اختر حسین رائے پوری نے مارکسی نظریات کو ادب پر منطبق کرتے وقت اقتصادی و معاشی اثرات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جس کی وجہ سے ان کے یہاں ایک قسم کا انتہاپسندانہ مارکس نظر یہ اتا ہے جس طرح کا ظریہ انگریزی کے ایک مرسی مفاد کرسٹوف کا ویل کے یہاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اختر حسن رائے پوری کی تقید میں اوبا AIR TONI TO SILVER
اصولوں کے بجائے سماجی ضرورتوں پر زیادہ زور نظر آتا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے:
ادب اور انسانیت کے مقاصد ایک ہیں۔ ادب زندگی کا ایک شعبہ ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ مادی سرزمین میں جذبات انسانی کی تشریح تعبیر کرتے ہوئے وہ روح القدس بنے اور عرش پر جا بیٹھنے کا دعوی کرے ادب ماضی حال اور مستقبل میں رشتہ جوڑتا ہے اور رنگ ونسل اور ملک و قوم کی بندشوں کو توڑ کر وہ بنی نوع انسان کو وحدت کا پیغام سناتا ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ اتنے اہم معاشی فریضے کو ایک فنکار اپنی ذاتی ملکیت سمجھے۔"
( ادب اور انقلاب اختر حسین رائے پوری ص 22-21)
اُردو میں دوسرے مارکسی ناقد کی حیثیت سے سجاد ظہیر کا نام لیا جاسکتا ہے۔ سجاد ظہیر ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کے بانیوں میں ہیں۔ وہ سیاسی اعتبار سے بھی مارکسی اور کمیونسٹ تھے۔ انہوں نے افسانے ناول اور تنقید ہر صنف کی طرف توجہ دی۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ترقی پسند تحریک اور اس کی تنظیم انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میری نگاہ میں ان کا اہم ترین کام نظریاتی اعتبار سے ترقی پسند تحریک کو مستحکم بنانا صحیح مارکسی نقطہ نظر کی وضاحت اور قدیم وجدید ادب کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ایک کمیونسٹ کی حیثیت سے وہ مارکس کی جدلیاتی مادیت پر پورا یقین رکھتے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ تمام فنون لطیفہ خصوصیت سے ادب و شاعری کو تمامانسانیت کی فلاح اور اسے حسین تر بنانے کا کام کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر عبدالعلیم نے تنقید کے بارے میں لکھا ہے لیکن وہ اُردو کے وہ دانشور ہیں جن کی تحریروں نے مارکسزم زندگی ادب اور تنقید کو سجنے میں مدد دی۔ وہ پڑھنے والے کے سامنے مہم اصطلاحات اور مغربی حوالوں کے بغیر واضح انداز میں اپنا نقطہ نظر پیش کر دیتے ہیں ۔ مارکسزم کے نظریے اور فن و ادب سے اس کے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ فن اور تہذیب کے بارے میں مارکسزم کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ مادی زندگی کا نظام پیداوار انسان کی سماجی سیاسی اور ذہنی کیفیات کا تعین کرتا ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ نظام پیداوار اور آرٹ میں براہ راست اور میکانکی تعلق ہے۔ آرٹ کی خالص معاشی توجیہہ اور تعبیر سے ہمیشہ احتراز کرنا چاہیے۔ مارکسزم کا ہرگز یہ دعوی نہیں کہ آرٹ معاشی ضروریات اور کیفیات کا مکس محض ہے۔
(مارکسی تنقید مشمولہ, مارکسزم اور ادب ص (62))
ڈاکٹر عبدالعلیم نے مارکسزم پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے اور خود اُردو کے ادبی حلقوں میں مارکسزم کے بارے میں لا علمی پر پھیلی ہوئی بدگمانیوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ مارکسزم اور ادب کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ مارکسی قدیم تہذیبی ورثے کی قدر نہیں کرتے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے لکھا کہ
سلسلے میں جو لوگ مارکسزم سے محض سطحی واقفیت رکھتے ہیں وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ مارکسزم ے ہیں وہ نادانی میں ہوسکتے انسانیت کے قدیم ورثے کی قدر نہیں کرتا ۔ مارکسزم کے مخالف اس پر اکثر یہ الزام لگاتے ہیں یہ الزام کس قدر بے بنیاد ہے۔ لینن نے ایک بار کہا تھا کہ ہمیں چاہیے کہ حسین چیزوں کو قائم رکھیں اور ان کو اپنے لیے مثال سمجھیں اور چاہے وہ پرانی ہی کیوں نہ ہوں انہیں نہ چھوڑیں"
مارکسی تنقید مشمولہ مارکسزم اور ادب ص (66)
اُردو کے مارکسی ناقدین میں مجنوں گورکھپوری اور احتشام حسین کا بھی شمار ہوتا ہے۔ مجنوں گورکھپوری نے مارکس کے نظریات کی تفہیم و تعبیر کا کام کیا اور مارکس کے جدلیاتی مادیت کے فلسفہ کی وضاحت کی۔ وہ اُردو کے ایک اہم ناقد ہیں اور ان کی تنقید میں مارکسی اثرات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ :
مارکس اور اینگلز کی جدلیاتی مادیت ( جس کا دوسرا نام تاریخی مادیت ہے ) کا اصل مبحث تو اقتصادی اور معاشرتی حدوث و ارتقا ہے لیکن اس سے لازمی طور پر فنکار کا نظریہ بھی متاثر ہوتا ہے ہر تخیلی اکتساب اپنے زمانے کی مادی دنیا کا تخلیقی تک ہوتا ہے ۔“
( جدلیاتی مادیت اور جمالیات ۔ مجنوں گورکھپوری بحوالہ جدید اردو تنقید - أصول و نظریات ص۔ 347)
سید احتشام حسین کی یہ اہمیت ہے کہ انہوں نے اپنی عملی تنقید کی بنیاد مارکسی نظریات پر رکھی ۔ مارکس سماج کو حرکت میں دیکھتا ہے اور سماجی رشتوں میں تغیر اس کے نزدیک اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح ایک طبقے کے تعلقات کا دوسرے طبقے کے تعلقات پر اثر انداز ہونا لازمی ہو جاتا ہے اور ان اثرات کا پورا جال سا بن جاتا ہے جس میں تہذیب، فن اور ادب سب مسلک ہوتے ہیں۔ یہ وہ قدریں ادب کی سماجی اہمیت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک ہم ادب کو باشعور نہ مانیں اس لیے اور جمالیاتی تقاضوں کے ساتھ پیش کرتا ہیں جن پر بنیادی مادی اور اقتصادی رشتوں سے کسی دور کے سماج کی بنیاد ہوتی ہے ۔ احتشام حسین نے لکھا ہے کہ:
ادب کا مادی تصور سب سے زیادہ اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ ادب انسانی شعور کی وہ تخلیق ہے کہ جس میں ادیب اپنے ذہن سے باہر کے مادی اور خارجی حقائق کا عکس مختلف شکلوں میں مختلف فنی قیود مارکسی تنقید کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر اس نے یہ تسلیم کیا کہ فنکار اپنے طبقے اور اپنے زمانے کا عکاس ہوتا ہے۔ اس کی تحریر جمالیاتی حسن کے ساتھ اپنے عہد کے معتقدات اور توہمات کی بھی تصویر ہوتی ہے۔ اس لیے کسی عہد کے ادب یا فن کو سمجھنے کے لیے اس عہد کی سماجی قوتوں پر نگاہ رکھنا ضروری ہے۔
ترقی پسند تنقید دوسرا دور
مارکسی تنقید اور ترقی پسند تنقید میں کوئی خاص فرق نہیں ہے اس لیے کہ ترقی پسند تنقید بھی مارکس کے جدلیاتی مادیت کے نظریے کو اہمیت دیتی ہے۔ اور ترقی پسند تنقید میں بھی انہیں ناقدین کے نام لیے جاتے ہیں جنہیں مارکسی ناقدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ مارکسی اور ترقی پسند تنقید میں اگر کوئی فرق ہے تو اتناہ کہ ترقی پسند تنقید کا دامن زیادہ وسیع ہے۔ مارکسی نظریات ایک سماجی فلسفے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ترقی پسند نقطہ نظر اپنے کو صرف سماجی فلسفے تک محدود نہیں رکھتا۔ ترقی پسند تنقید سے اُردو تنقید کا ایک نیا سفر شروع ہوا جہاں ذوق و وجدان کے بجائے سماجی شعور نفسیاتی تجزیے اور زندگی سے اس کے رشتے رہنما بنے۔ پروفیسر آل احمد سرور نے ترقی پسند تنقید کے بارے میں لکھا ہے کہ :
ترقی پسند تحریک نے لوگوں کو مطالعے کا شوق دلایا۔ اس نے تنقید کو محض لفظی یا صنعتی یا شعبدہ باز ہونے سے بچایا اس نے بتایا کہ تنقید محض گلستان میں کانٹوں کی تلاش نہیں ہے۔ یہ تنقید ذہنی صحت کا معیار قائم کرتی ہے اور تجربے کی قدر وحیثیت متعین کرتی ہے۔
ترقی پسند تحریک پر ایک نظر بحوالہ ترقی پسند ادب پچاس سالہ سفر مرتبہ قمر رئیس، صفحہ 548)
نہایت عمدہ اور سلیس انداز میں بات کو پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ بہتبہت مبارک جناب ۔
جواب دیںحذف کریں