علم بیان
علم بیان سے مراد وہ علم ہے جو ہم کو یہ سکھاتا ہے کہ ہم ایک ہی مضمون اور مطلب کو مختلف اور زیادہ واضح طریقوں سے کس طرح ادا کرسکیں ۔ اس علم سے واقفیت کے نتیجے میں کوئی بھی انسان واضح اور موثر تحریر و تقریر کا ہنر سکھ لیتا ہے۔ ذیل میں علم بیان کی مختلف تعریفات ملاحظہ ہوں:
بیان (ع) اسم مذکر (1) بلغوی معنی صاف بولنا سخن روشن ، واضح ، آشکارا (۲) تقریر و گفتگو ۔۔۔ وہ علم جس میں تشبیہ ، مجاز، استعارہ، کنایہ وغیرہ کی مدد سے ایک معنی کوکئی طریقے سے ادا کر سکیں ۔
فرہنگ آصفیہ، جلد اول، صفحہ (465)
بیان (ع ، فصاحت زبان آوری ظاہر ( مذکر 1 قول مقولہ، تقریر، گفتگو ۔۔۔۔ وہ علم جس میں تشبیہہ ، مجاز استعارے، کنایہ وغیرہ کی مدد سے ایک معنی کو کئی طریق سے ادا کرتے ہیں ۔
(نوراللغات،جلد اول، صفحه 765)
علم بیان کی مندرجہ بالا تعریفات سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی ایک بات یا مضمون کو بہتر سے بہتر طریقے سے ادا کرنے اور اسے لفظی و معنوی خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ کرنے کا ہنر ہمیں علم بیان کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ علم بیان نہیں سکھاتا ہے کہ ہم کسی بھی لفظ کے حقیقی یا مجازی معنی سے کس طرح واقف ہوں اور انہیں اپنی تحریر و تقریر کو فصیح و بلیغ نیز موثر و دلکش بنانے کے لیے فنکارانہ طور پر کیسے استعمال کریں۔ ماہرین زبان و ادب کا یہ خیال ہے کہ محض الفاظ کے لغوی و حقیقی معنی کی مدد سے تحریر و تقریر میں تنوع اور خوب صورتی نہیں پیدا کی جاسکتی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تحریر یا گفتگو معنوی لحاظ سے زیادہ وسعت و گہرائی کی حامل ہو تو ہمیں الفاظ کے مجازی معنوں سے بھی کام لینا ہوگا۔ الفاظ کے مجازی معنوں سے کام لینے کے اس ہنر کو علم بیان سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً کسی انتہائی حسین شخص کو چاند کا ٹکڑا یا چودھویں کا چاند' کہنا کسی بہادر شخص کو شیر رستم وغیرہ قرار دینا۔ اب یہاں جو الفاظ حسن یا بہادری جیسے اوصاف کے حامل شخص کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں وہ اصلاً نہ تو چاند کا ٹکڑا ہے اور نہ ہی شیر ہے، وہ تو انسان ہے ۔ وہ رستم بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ رستم نام کا پہلوان اگر کبھی ایران میں تھا بھی تو وہ صدیوں پہلے مر چکا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ الفاظ مجازی معنوں میں استعمال کیے گئے ہیں۔ آپ نے محسوس کیا کہ نفس مضمون وہی رہنے کے باوجود طرز بیان کی اس جدت نے تاثر وکیفیت میں کس قدر اضافہ کر دیا او مضمون کی دلکشی کس درجہ بڑھ گئی۔ حقیقت ومجاز کا یہی فرق علم بیان کی بنیاد ہے۔ یہ سمجھ لیں کہ حقیقت کیا ہے اور مجاز کسے کہتے ہیں ؟ فرض کر لیجیے کہ کسی نے کہایا لکھا کہ شیر آرہا ہے۔ اور اسکا مقصد جس شیر کے آمد کی اطلاع دینا ہے وہ اصلاً شیر کے نام سے پکارا جانے والا جانور ہوتو یہ حقیقت ہے اور یہاں پر لفظ شیر کا کوئی تعلق علم بیان سے نہیں ہے لیکن اگر کہنے یا کہنے والے کا مقصد اصل شیر کی آمد کی اطلاع دینا نہیں ہیں ہے بلکہ وہ توایک بہادر شخص کے آنے کی بات کر رہا ہے یہ مجاز ہے اور اب یہاں لفظ شیر حقیقی ہیں مجازی معنوں میں استعمال ہو رہا ہے اس لیے اب یہ جملہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے علم بیان سےتعلق رکھتاہے۔ مجازی نقطہ نظر سے الفاظ کے استعمال کی چارا ہم صورتیں ہیں
- تشبیه
استعاره
کنایہ
مجاز مرسل
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں