اسلوبیاتی تنقید

اسلوبیات کی اصطلاح اسلوب سے بنی ہے۔ اسلوب کی اصطلاح عہد قدیم سے مستعمل رہی ہے۔ جس کے لیے طرز ادا طرز زبان و بیان انداز بیان وغیرہ جیسے الفاظ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ گویا ادب میں اسلوب الفاظ کے طریق استعمال کا نام ہے۔ جس کے تجزیے سے ہم اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں کہ مصنف کن معنوں میں انفرادیت کا حامل ہے۔ اسلوب کو شخصیت کا آئینہ بھی کہا گیا ہے۔ کسی خاص شاعر یا ادیب ہی کا کوئی منفرد اسلوب نہیں ہوتا جیسے غالب یا میر امن کا اسلوب کسی خاص رحجان یا حلقے یا گروہ یا عہد کا بھی اسلوب ہوتا ہے جیسے کلاسیکی اسلوب رومانوی اسلوب علامتی اسلوب ترقی پسند اسلوب وغیرہ۔ اسلوبیات اسلوب کے روایتی مطالعے سے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ اسلوبیات کا اصرار اظہار کے مختلف اور متنوع طریقوں کے ہمہ جہت مطالعے پر ہے۔ یہ صرف ادبی متون کے تجزیے اور مطالعے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق غیر ادبی متون کے اسالیب پر بھی کیا جا سکتا ہے۔


اسلوبیات یا اسلوبیاتی تنقید ادب کا ایک تکنیکی اور تجزیاتی بلکہ سائنسی نہج پر مطالعہ کرتی ہے۔ ادبی اسلوبیات کا مقصد واضح اور نمایاں طور پر زبان اور فنی تفاعل کے مابین رشتے کی توضیح ہے۔ اگرچہ اسلوب کے مطالعات کے تحت روایتی سطح پر بھی فنی تدابیر اور الفاظ کے طریق استعمال پر بحث کی جاتی تھی لیکن یہ مباحث بے حد محدود ہوتے تھے۔ بالعموم فنی تدابیر (Devices) کو تحریر کی خارجی آرائش وزیبائش کے ساتھ مخصوص کر کے دیکھا جاتا تھا۔ تنقید کا علم جس طور پر صبر استقلال، تعقل انہاک، یکسوئی اور تجزیے کا متقاضی ہوتا ہے۔ روایتی تنقید اس طرح کے ضوابط کے بجائے تاثراتی ردعمل پر زیادہ یقین رکھتی ہے۔ تاثراتی مطالعے میں اس معروضیت اور سائنسی ضبط کا بھی فقدان ہوتا ہے۔ جس کے ذریعے ہم اپنی دلیلوں کو مستحکم کر کے پیش کر سکتے ہیں۔ اسلوبیات ایک تنقیدی رویہ ہے جو ادبی متون کے تجزیے میں لسانیات کی سائنس کی تحقیقات اور طریقوں کو استعمال کرتا ہے۔ یہاں لسانیات سے مراد زبان اور اس کی ساختوں کا مطالعہ ہے۔ اسلوبیات کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کسی ادبی فن پارے میں تکنیکی لسانیاتی خصوصیات کیا ہیں ؟ یعنی اس میں واقع جملوں یا مصرعوں کی ساخت کیسی ہے؟ اور وہ ادبی متن کے نظام معنی اور اس کی تاثیر یا اثر ڈالنے کی صلاحیت میں کتنی معاون ثابت ہوتی ہے؟ اسلوبیاتی تجزیہ معروضی اور سائنسی نہج پر کیا جاتا ہے۔ جو ادب شناسی کا ایک ضابطہ بند اور اصولی طریق کار ہے جو ڈھیلے ڈھالے اور بے بنیاد دعووں کے بجائے معین اصولوں اور قاعدوں کی روشنی میں ادبی متن کو موضوع بناتا ہے۔ جبکہ آئی ۔ اے۔ رچرڈ ز کے غائر مطالعے (Close Reading) سے اسے درج ذیل امور کی بنا پر اختلاف ہے 


غائر مطالعہ ادبی زبان اور عمومی طور پر استعمال میں آنے والی زبان میں فرق پر اصرار کرتا ہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک ادبی متن ایک خالص جمالیاتی فن کا نمونہ ہوتا ہے۔ یا وہ ایک ایسی لفظی شبیہہ ہے جس کی زبان اپنی گرامر کے مطابق عمل کرتی تا یاوہ ایسی ہے۔ اس کے برعکس اسلوبیات روزمرہ کی زبان اور ادبی زبان کے رشتے کو بھی خاص اہمیت دیتی ہے۔ ادب میں زبان کا مسئلہ اکثر بحث کا موضوع بنتا رہا ہے۔ جیسے ورڈ سورتھ اور کولرج دونوں ہی رومانویت کے علم بردار تھے لیکن ورڈ سورتھہ شاعری کی زبان کو اتنی صاف اور سادہ بنانے کے درپے تھا کہ اس کی حدیں نثری زبان سے مل جاتی ہیں۔ اس کا اصرار ہی نثر جیسی (Prose-like ) شعری زبان پر تھا جب کہ کولرج شاعری کی زبان کو اپنے غیر معمولی اثر کے باعث خصوصی ہے۔ 


اسلوبیات کی اپنی مخصوص تکنیکی اصطلاحات اور تصورات ہیں، جنہیں اس نے لسانیات سے اخذ کیا ہے۔ یہ اصطلاحات اس کے انفرادی یا ایک مختلف طریق نقد پر دلالت کرتی ہیں۔ اسلوبیات کے علاوہ انہیں ان معنوں میں استعمال نہیں کیا جاتا جن معنوں میں اسلوبیاتی مطالعے میں مستعمل ہیں۔ اس کے برعکس کلوز ریڈنگ میں مخصوص قسم کی وضع کردہ اصطلاحات بہت کم ہیں۔ ان کی تکنیکی لفظیات کا دائرہ بے حد محدود ہے۔ جیسے حوالہ جاتی ( Referential) جذباتی ( Emotive) ابہام (Ambiguity) طنز (Irony) قول محال (Paradox ) وغیرہ ۔ ان اصطلاحات کی ہیتی تنقید کے عمل میں ایک خاص لیکن یہ اس معنی میں تکنیکی نہیں ہیں، جس معنی میں اسلوبیاتی تنقید کی اصطلاحات جیسے۔ Transitivite ,Cohesion, Collocatioeاہمیت ضرور ہے وغیره


  اسلوبیات کا سارا زور سائنسی معروضیت پر ہے۔ یعنی سائنس، جس طور پر معروضی طریق عمل کو کام میں لاتی ہے اسلوبیاتی مطالعے بھی اس نہج پر معروضیت کا تقاضہ کرتے ہیں ۔ کلوز ریڈنگ کے برخلاف اس کا اصرار اپنے ان ضابطوں اور ان طریق ہائے عمل پر ہے جنہیں کوئی بھی سیکھ سکتا ہے اور ان کا اطلاق کر سکتا ہے۔ اس طرح اس کا مقصد ادب اور تنقید کی اسرار آئیں دھند کو چھانٹتا ہے۔ جہاں تک ادب کا تعلق ہے وہ ادبی زبان اور دیگر تحریروں میں استعمال میں آنے والی زبان میں ایک تسلسل دیکھتی ہے کیونکہ دونوں کا مقصد ترسیل ہے۔ تنقید کے تعلق سے اسلوبیات ایک منصوبہ بند طریق عمل کا نام ہے جس کے تجزیوں میں ایک ڈسپلن اور ایک فیصلہ کن نتیجہ خیزی ہوتی ہے جب کہ کلوز ریڈنگ کے تحت ہر تنقیدی تجربہ دوسرے تنقیدی تجربے سے مختلف ہوتا ہے۔ اسی باعث تنقیدی فیصلوں میں پرا گندگی کا احتمال بھی زیادہ  ہوتا ہے 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام