منٹو از ممتاز مفتی
ادیب کی گاڑی دو پہیوں پر چلتی ہے۔ ایک " میں تو کچھ بھی نہیں “ دوسرا " میں بھی کچھ ہوں “۔ ایک بہت بڑا دوسرا بہت چھوٹا۔ ایک گول دوسرا چو کور۔ عوام کی گاڑی کے پہیے برابر ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی میں روانی ہوتی ہے ۔ ادیب لڑکھڑاتا ہے ہچکولے کھاتا ہے۔ میں بھی کچھ ہوں اور میں تو کچھ بھی نہیں کی مدوجزر سے ادیب میں تحریک پیدا ہوتی ہے۔ اس طوفان زدہ سمندر کو پاٹنے کیلئے راجندر سنگھ بیدی نے 'میں تو کچھ بھی نہیں کی ناؤ بنالی"۔ منٹو میں سبھی کچھ ہوں “ کے اگن بوٹ پر سوار ہو گیا اور پھر کیسا بانکا کی طرح خود لگائی ہوئی آگ کے شعلوں میں کھڑا ہوکر چلانے لگا۔ میری طرف دیکھو میں بھی کچھ ہوں۔ منٹو نے اپنے دکھ پر "چھوڑ یار" کا غلاف چڑھا کر اسے تمغے کی طرح اپنی چھاتی پر مزین کر لیا۔
چھو ڑ یار میری طرف دیکھ “
Exhibitionist ہاں منٹو بہت بڑا
تھا ۔
” میری طرف دیکھو “ کی دعوت کو پر اثر کرنے کیلئے اس نے فحاشی کی پھلجڑیاں چلانے کا ڈھونگ رچایا۔ کالی شلواریں سلوائیں۔ ٹھنڈے گوشت کو کو ئلوں پر رکھ کر کھول دو کی سرگوشی چلادی۔ منٹو نے گالیاں کھانے کے دلچسپ طریقے ایجاد کیئے ، کھائی ان کھائی گالیوں کو جھنڈے پر چڑھا کر لہرایا۔ روز مرہ کے برتاؤ میں جان بوجھ کر انو کھی کلیاں ٹانکیں ۔ لیکن یہ سب کچھ " میں تو کچھ بھی نہیں " کو بھلا نہ سکا۔ کانٹا سا دل میں لگارہا۔ ایک بے نام انضطراب اسے گود میں لے کر جھلا تا رہا۔ آخر اسے بھلانے کیلئے منٹو نے بو تل کا سہار ا لیا۔ زندگی میں عورت کے بعد بو تیل سب سے بڑی کشش ہے ۔ پہلے بھرماتی ہے ،تھپکتی ہے پھر چونکا کر رکھ دیتی ہے۔ ہوتل نے منٹو کو تسکین نہیں بلکہ زبان دی تو تلابچہ بولنے لگا۔ "میری طرف دیکھو میں سب کچھ ہوں"۔
منٹو امرتسر کا بھاماجھا تھا اور اوپر سے میری طرف دیکھو میں سب کچھ ہوں " کے گھوڑے پر سوار ادیب ۔ اس نے طیش میں بوتل کی گردن مروڑدی۔ جانتی نہیں میں کون ہوں میں منٹو ہوں منٹو ۔ میں نے گالیوں سے شہرت اخذ کی۔ پریس برانچ کے مولوی محمد حسین کے غم و غصے سے امتیاز کا رس نچوڑا۔ تجھے میرے کہنے پر عمل کرنا ہو گا۔ بوتل مسکرا دی۔ وہ جانتی تھی۔ بوتل اور سعادت حسن منٹو کی اس جنگ میں بو تل جیت گئی۔ سعادت حسن مارا گیا
اور منٹو بری طرح لڑکھڑاتا رہا۔ منٹو کے اس لڑکھڑانے، گرنے ، سنبھلنے، گرنے سے مدو جزر پیدا ہوئی ، یہ مد و جزرایک عظیم تحریک بن گئی۔ اس تحریک کی "مد " کے تحت عظیم چیزیں تخلیق ہوئیں اور جزر کے تحت ، خام بے ربط ، بے معنی تحریر ہیں ۔ لیکن بوتل اور منٹو کی جنگ میں منٹو لڑکھڑا کر ۔۔۔۔ مر گیا ۔۔۔۔ اور آج ۔۔۔۔ آج فضا میں سے آوازیں آرہی ہیں " میری طرف دیکھو میں بھی کچھ ہوں"۔ " میری طرف دیکھو میں بھی کچھ ہوں “۔ قاری حیرت سے دیکھتے ہیں۔ ان کے سر احترام سے جھک جاتے ہیں دل محبت سے بھر جاتے ہیں۔ منٹو مر کر جیت گیا۔ بوتل جیت کر ہار گئی۔منٹو سے میں صرف چھ ایک بار ملا ۔ اور سعادت حسن سے صرف ایک بار سعادت حسن ایک خوبصورت، نفیس مزاج ، ذہین، چلبیلا لڑکا تھا، دو ماں زدہ گھر ، سخت گیر باپ ، جان چھڑکنے والی ماں۔ نت نئی شرارت کے شگوفے چھوڑنے والے محلے کے نوجوان دوست بسیاری طور پر سعادت میں جھجھک تھی۔ اس کو دور کرنے کیلئے دوستوں کے ساتھ مل کر ہڑبونگ مچانے میں راحت ملتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ متاثر کئی بار دسویں میں فیل ہوا ۔ عزیز و اقارب ولایت پاک تھے۔ خود مسلسل قبل کمتری پھوڑا گئی۔ ذہن کو دھچکا لگا دکھتی کی چھڑ گئی ۔ زعم جاگا۔ کچھ کر دکھاؤں گا ۔ سارا عزم ایک بات پر مرکوز ہو گیا۔ چین کی کہانیوں کا ترجمہ کرنے کی ٹھانی۔ دن رات مطالعہ میں ایک کر دیئے ۔ مطالعہ اور محنت ۔
دوستوں سے کھیلنے والے نے کتابوں سے کھیلنا شروع کر دیا۔ میں نے پوچھا سعادت طبع زاد چیزیں کیوں نہیں لکھتے ہو ا بھی بر تن پھر انہیں ۔
بھرے تو اچھلے۔
اسی دور میں سعادت دھندلا پڑتا گیا اور منٹوا پھر تا گیا۔ شاید منٹو نے اس حقیقت کو پا لیا کہ بھر نا ضروری نہیں اچھلتا ضروری ہے اور پھرنے کے بغیر بھی آسکتا ہے۔۔۔۔۔ یا شاید
منٹو کی شدت کا آتش فشاں پھوٹ نکالا جس نے اچھال کو تنکے کی طرح اٹھا کر پھینک دیا۔
منٹو پہلے سنبھل سنبھل کر پھر مچل مچل کر اچھلا۔ اس اچھل میں ایک نشہ ہوتا ہے
جوں جوں وہ منہ لگتا گیا سعادت منٹو میں تبدیل ہوتا گیا۔ پھر اس نشہ کے نوٹنے کے ڈر سے منٹو نے بوتل اٹھالی ۔ یہ حل نے سعادت کو مار دیا اور منٹو کو زندہ کر دیا۔ پھر بھی سعادت کی آنکھیں منٹو کی اوٹ سے مظلوم نگاہوں سے جھانکتی رہیں۔ سعادت بے حد پیارا آدمی تھا۔ اس میں عورت حاوی تھی۔ ذہین ہمدردی سے بند بند بھری عورت ایک چلبلا مگر شر پربچہ " ایک بھاما تھا “ سعادت کی شخصیت میں یہ تینوں گڈ
نہ اور ہے تھے۔ سعادت نے یہ سب کچھ منٹو کو دیا۔ منٹو کی بنیادی خصوصیات وہی سعادت والی رہیں۔ وہی ہمدردی ، وہی فیاضی ، وہی معصومیت ، وہی ذہانت ، وہی ہلڑ بازی ، صرف اس نے شرمیلی عورت کی آنکھوں میں میری طرف دیکھو کا کاجل لگا دیا۔ ہونٹوں پر میری سنو کی سرخی تھوپ دی۔ سعادت کے گونگے بھاما جھا کو زبان دے دی۔ گونگا بو لنے لگا۔ ان دنوں یہ فیشن ہو گیا ہے کہ چمکیلی بات کرو اور انٹلکچول بن جاؤ۔ یہاں وہاں سے ہم
لوگ چمکیلی باتیں چنتے رہتے ہیں ۔ ان چمکیلے بنٹوں سے جیب بھر کر چائے خانے میں جابیٹھتے ہیں۔ وہاں بنٹے کھیلتے ہیں۔ بنٹے سے بنا ٹکراتے ہیں۔ پھر ایسی چمھکیلے انسانوں کی لڑیوں میں پروئے جاتے ہیں۔ انہیں لڑیوں سے ادب پارے تخلیق ہوتے ہیں۔ چمکیلی بات ذہن میں پھلجڑی چلاتی ہے۔ دل میں گرمی کی رو نہیں چلاتی ۔ دور حاضرہ چمکیلی باتوں کا دور ہے ۔ دل کی مدہم دھڑکنوں کا دور نہیں ۔ بے شک منٹو Exhibitionist تھا۔ لیکن وہ دکھاوے کا Exhibitionist تھا۔ اس نے نمائش بازی کا سیاہ نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ نقاب تلے فیشن سے عاری چٹ کپڑی ، گھر یلو چیٹس تھی۔ جس کے دل میں شدت کا آرا چل رہا تھا۔ بند بند میں درد کارچاؤ تھا۔ دیکھنے والی نگاہ تھی۔ بے پناہ خلوص کی دھر کن تھی۔
شخصیت بھی عجیب معجزا ہے جہاں تضاد ہار منی پیدا کرتا ہے۔ بار منی تضاد پیدا کرتی ہے ۔ اس دکھاوے کے Exhibitionist نے سرکس کے جو کر کی طرح بڑے بڑے شاندار کر جب دکھائے۔ کسی نے کہا منٹو آؤ کے عنوان سے لکھو۔ منٹو نے ڈرامہ لکھ دیا۔ کسی مسخرے نے اکسایا منٹو پتھر پر لکھ سکتے ہو ۔ منٹو کس چیز پر نہیں لکھ سکتا اور منٹو نے پتھر پر لکھ دیا۔ نہ جانے کیا لکھ دیا۔
پھر بوتل بولی۔ مجھ سے ملاقات چاہتے ہو تو لکھو۔ بکنے کیلئے لکھو۔ پینے کیلئے لکھو۔ پبلشر کے آگے سیس نواو قاری کیلئے جس کی بکریاں چلاؤ۔ کالی شلواروں میں ٹھنڈے گشت کی گھڑیاں باندھو۔ پھر میں تم سے آملوں ۔ منٹو نے عمدہ کاغذ کا گٹھا اٹھایا۔ ایک ورق پر احترام سے ۷۸۶ لکھا۔ اور نئے ادارے میں جا بیٹھا۔ یار نذیر ۵۰ روپے دو، نہیں قرض نہیں مانگتا یار ، نقد ملے گا۔ ابھی ابھی دو افسانے لکھ کر دوں گا۔ ابھی ابھی۔ ایک نہیں دو افسانے۔ منٹو نے سعادت حسن کے نام سے منٹو کا خاکہ لکھا ہے ۔ لکھتا ہے : منٹو اول درجے کا فراڈ ہے ، کہتا ہے میں افسانہ نہیں سوچتا، افسانہ مجھے سوچتا ہے ۔ دراصل افسانہ لکھتے وقت اس کی وہی حالت ہوتی ہے جیسے مرغی انڈاد یتی ہے "۔ یہ مرغی بوتل کیلئے انڈے دیتی رہی۔ ایک نشست میں دود و کاش یہ مرغی انڈوں کو سینا بھی جانتی۔ منٹو بڑی صلاحیتوں کا مالک تھا۔ اس کے پاس نگاہ تھی ، زیر لب تبسم تھا۔ آنسوؤں میں خون کی سرخی تھی۔۔۔۔ لیکن منٹو نے اپنا آپ یوں لٹادیا جیسے کسی عورت نے محلے والوں کو اپنی نئی انگو ٹھی دکھانے کیلئے اپنے گھر کو آگ لگادی تھی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں