تفہیم غالب شعر نمبر 14

 پھر مجھے دیدہ تر یاد آیا۔                    

دل جگر تشنۂ فریاد آیا۔                      


(زمانه تحریر: ۱۸۲۱ء)۔                             


اس شعر میں کوئی بار یکی نہیں، لیکن بعض لوگوں کو جگر تشنہ کی ترکیب پر کچھ تردد ہوا ہے ۔ کسی صاحب نے علامہ کالی داس گپتا رضا کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ جگر تشنہ کوئی مستند ترکیب نہیں، کیوں کہ کسی فارسی لغت میں اس کا اندراج نہیں ملتا۔ علامہ کالی داس گپتا رضا محتاط اور ذی علم محقق تھے، توقع نہیں کہ انھوں نے ایسی کوئی غیر ذمہ دارانہ بات کہی ہو۔ بہر حال واقعہ یہ ہے کہ جگر تشنہ بمعنی ”مشتاق کا اندراج مولوی محمد لاد کی موید الفضلا" میں موجود ہے۔ یہ لغت ۱۵۱۹ء میں مرتب ہوا اور فارسی کے مستند لغات میں اس کا شمار ہے۔ پس یہ دعویٰ کہ جگر تشنہ کسی فارسی لغت میں نہیں ملنا، غلط ثابت ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جگر تشنہ کوئی انوکھی ترکیب نہیں ، یہ تشنہ جگر کی تقلیب ہے اور تو " تشنہ جگر " کے معنی " لغت نامه واحدا میں حسب ذیل ہیں: ” کے کہ اشتیاق چیزی داشته باشد۔ علاوہ ازیں برہان قاطع“ میں ” تشنہ جگر کو کنایہ از اشتیاق بتایا گیا ہے، پھر تشنہ دل کا اندراج کر کے لکھا ہے کہ ” بمعنی تشنہ جگر است که کنایه از اشتیاق باشد۔

   

 مندرجہ بالا بحث سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ غالب۔  کے   شعر میں جگر تشنہ بالکل صحیح ہے اس میں نہ کوئی     پیچیدگی ہے نہ جدت نہ بدعت۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام