تفہیم غالب شعر نمبر 66

جہاں میں ہوں غم و شادی بہم ہمیں کیا کام 

دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں


پہلے مصرعے میں نون غنہ اور میم کی آوازوں کے اجتماع نے اس کی غنائیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ جہاں تک سوال شرح کا ہے تو اس شعر کی بہت عمدہ شرح طباطبائی دے تو اس شعر کی بہت نے بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ” مصنف نے یہ تازگی پیدا کی ہے کہ غم و شادی کے بہم ہونے پر حسرت ظاہر کی ہے۔ کہتے ہیں ہمیں کیا کام، یعنی ہم تو محروم ہیں، ہمیں تو کبھی ایسی خوشی بھی حاصل نہیں ہوئی جو غم سے متصل ہو۔ اور شادی مخلوط بہ غم کی حسرت کرنے سے یہ معنی نکلتے ہیں کہ شاعر کو انتہائی غم زدگی ہے کہ اس پیچ و ناکارہ خوشی کی تمنا کرتا ہے۔


لیکن ایک پہلو اور بھی ہے۔ غم و شادی کا بہم ہونا قانون فطرت ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: إِنْ مَعَ العُسْرِ يُسْرًا ، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً (بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یقینا مشکل کے ساتھ آسانی ہے)۔ اگر غم ہوگا تو خوشی بھی ہوگی اور خوشی ہوگی تو غم بھی ہوگا۔ لیکن ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے دل میں غم ہی غم ہے۔ دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں، انتہائی بلیغ عبارت ہے۔ اگر یہ کہا ہوتا کہ ریہ کہا ہوتا کہ خدا نے ہم کو وہ دل دیا ہے جو سراسر مملو از غم ہے تو اور بات ہوتی ۔ کہا یہ ہے کہ ہمارا دل وہ دل ہے جو شاد نہیں ۔ تحت مفہوم یہ نکلا کہ دل یکسر خالی ہے۔ اس میں غم بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر خدا نے غم دیا ہوتا تو خوشی بھی عطا کرتا۔ جب غم نہیں دیا تو گویا کچھ نہیں دیا۔ اس مفہوم کی پشت پناہی غالب کے ایک فارسی شعر سے بھی ہوتی ہے جو بے خود موہانی نے نقل کیا ہے، 

لیکن اس نکتے کو وہ بھی نظر انداز کر گئے ہیں

از درختان خزاں دیدہ نہ باشم کیں با 

 

ناز بر تازگی برگ و نوا نیز کنند


میں خزاں رسیدہ درخت بھی نہیں ہوں، کیوں کہ جس درخت پر خزاں آتی ہے اس پر بہار بھی کبھی آتی ہی ہے اور بھی تو وہ اپنی سرسبزی پر ناز کرتا ہے۔ میں تو وہ درخت ہوں جس پر خزاں آئی نہیں جو یکسر محروم رہا۔ اردو کا شعر بلیغ تر ہے، کیوں کہ اس کا مصرع ثانی مکمل نفی کی مثال ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام