تفہیم غالب شعر نمبر 7
ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا۔
وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا۔
زمانه تحریر: بعد ۱۸۲۶، قبل ۱۸۲۸ء)۔
سطحی نظر سے دیکھا جائے تو طبا طبائی کا خیال بالکل درست ہے کہ اس شعر میں کوئی معنوی خوبی نہیں ، صرف حسن بیان اور بدیع کا معاملہ ہے۔ ( یہ بات اور ہے کہ حسن بیان در اصل حسن معنی ہی ہوتا ہے، لیکن اس بحث کا یہاں موقع نہیں ) اس شعر میں حسن بیان اور بدیع بھی معمولی درجے کے نہیں ہیں۔ بہشت کی تحقیر اسی کے مناسب لفظ یعنی گلدستہ سے کرنا اور پھر اس طرح کرنا کہ تحقیر کی تحقیر رہے اور وہی چیز باعث زینت بھی ٹھہرے ( گلدستے کو طاق پر سجاتے ہیں) کوئی نہی کھیل نہیں ہے۔ یہ اعلا درجے کے طباعی Wit ہے جس پر اچھے سے اچھے شاعر بھی انگشت بدنداں ہو جائیں۔ پھر دیکھیے کہ بے خودی کے ساتھ طاق نسیاں کا استعمال رعایت در رعایت کی انوکھی شکل پیدا کرتا ہے۔ جب خود کو بھلا دیا ہے تو جنت جیسے معمولی گلدستے کو کیوں نہ بھلا دیں گے؟
حسرت موہانی نے ایک خفیف معنوی پہلو یہ پیدا کیا ہے کہ بے خودی کا عالم ہمارے لیے اس قدر خوش گوار ہے کہ اس کے مقابلے میں ہم نے جنت کو بھی فراموش کر دیا ہے۔ حسرت کی توجیہ اگر چہ ہلکی ہے لیکن طباطبائی کے اس خیال کو رد کرنے کے لیے کانی ہے کہ شعر میں معنوی پہلو نہیں ہے۔ لیکن ذرا سے غور کے بعد شعر سے ایک لطیف ترمعنی پیدا ہوتے ہیں جو تمام شراح سے مخفی رہے ہیں۔ عام اصول ہے کہ ہم جس چیز کو بھول جاتے ہیں وہ ہمارے لیے معدوم ہو جاتی ہے۔ بھلائی ہوئی چیز کا وجود نہیں رہتا۔ شعر کے اصل معنی یہ ہیں کہ زاہد جس جنت کی تعریف میں رطب اللسان ہے وہ ہمارے لیے وجود ہی نہیں رکھتی ۔ ہم جنت، جہنم جیسے سطحی تصورات سے آزاد ہیں۔ ہمارے استغراق فی الحقیقت کا یہ عالم ہے کہ ہم سزا و جزا سے ماورا ہو گئے ہیں۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ طاق نسیاں استعارہ ہے، اس کو لغوی معنی میں استعمال کر کے غالب نے استعارہ معکوس پیدا کیا ہے۔ یہ بھی میر اور غالب کا خاص انداز ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں