اردو میں مضمون نگاری کا ارتقاء

 اردو میں مضمون نگاری کا آغاز دہلی کالج کے ہفتہ واری رسالے " قران السعدین سے ہوا۔ 1845 میں الواس اسپرگر Alios) (Sparenger کی سربراہی میں اس ہفتہ واری رسالے کو جاری کیا گیا۔ بلی کالج کے طلب کو مختلف موضوعات دیے جاتے اور وہ اپنی استعداد کے مطابق اس ہفتہ واری بالتصویر رسالے کے لیے مضامین لکھتے۔ اس میں شائع ہونے والے زیادہ تر موضوعات کا تعلق سائنس اور تاریخ سے ہوتا تھا لیکن دھیرے دھیرے اس کے موضوعات میں تنوع آتا گیا اور نئے نئے موضوعات پر مضامین قلم بند کیے جانے لگے۔ اس طرح اہل قلم نے اردو ادب میں مضمون نگاری کی روایت کی داغ بیل ڈالی۔

مضمون نگاری کی روایت کی داغ بیل ڈالنے والوں میں دہلی کالج کے نامور استاد ماسٹر رام چندر کا نام بہت اہم اور نمایاں ہے۔ انھوں نے سائنسی، ادبی اور سماجی مضامین قلم بند کیے ۔ اردو مضمون نگاری کی تاریخ میں ان کی سر پرستی اور ادارت میں شائع ہونے والے دور سالوں ” فوائد الناظرین اور محبت ہند کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ماسٹر رام چندر نے 1845 میں فوائد الناظرین کا اجرا کیا ۔ اس رسالے میں سائنس ، عالمی تاریخ، آرٹ، آثار قدیمہ فن تعمیر، حیاتیات، نباتیات اور طبعیات کے علاوہ سماجی، سیاسی ، سوانحی ، اخلاقی و اصلاحی مضامین شامل ہوتے تھے ۔ 1847 میں ماسٹر رام چندر نے ایک دوسرا سالہ خیر خواہ ہند کا جرا کیا لیکن ایک ماہ بعد نام کی مماثلت کے باعث اس کا نام بدل کر ں شائع ہونے والے مضامین کی نوعیت اور موضوعات میں یکسانیت تھی۔ گرچہ ان دونوں محبت ہند“ کر دیا۔ فوائد الناظرین اور محمد رسالوں کے مضامین سائنسی ، جغرافیائی ، معاشرتی ، تاریخی، سیاسی، سوانحی ، اخلاقی و اصلاحی تھے لیکن ان میں استعمال ہونے والی زبان صاف و شفاف، سادہ و سلیس تھی۔ ان کے معانی و مطالب کو آج بھی آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس طرح اردو میں مضمون نگاری کا آغاز دہلی کالج کے ہفتہ واری رسالے قرآن السعدین اور ماسٹر رام چندر کے دونوں رسالوں ” فوائد الناظرین اور محب ہند میں شامل مضامین سے ہوا۔


دہلی کالج کے نامور اساتذہ نے اس صنف کی داغ بیل ڈالی اور کسی حد تک اس کی سمت کا بھی تعین کیا لیکن سرسید تحریک بہت سی نشری اصناف جیسے سوانح نگاری ، انشائیہ نگاری ، ناول نگاری اور تاریخ و تنقید کے ساتھ ساتھ مضمون نگاری کے لیے بھی ہر اول دستہ ثابت ہوئی ۔ اس تحریک۔ نے صرف مضمون نگاری کی سمت کا واضح تعین ہی نہیں کیا بلکہ اس کی رفتار کوبھی مہمیز کیا۔ یہ سرسید حریک کا ہی فیضان ہے کہ آج اردو زبان وادب کے پاس مختلف مضامین کا ایک وقیع ذخیرہ موجود ہے ۔ بقول شخصے دو مضمون نگاری کا دائر ہو جب آگے بڑھتا ہے تو سرسید احمد خاں کا نام نمایاں نظر آتا ہے جنہوں نے رسالہ تہذیب الاخلاق میں دینی، سیاسی، ادبی، سائنسی، معاشرتی غرض یہ کہ ہر قسم کے مضامین لکھ کر اور اپنے رفقاء کار سے مضامین لکھوا کر مضمون نویسی کو قت کی اہم ضرورت بنادیا سرسید احمد خاں نے اپنے تعلیمی اور اصلاحی مشن کی تبلیغ واشاعت اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مضمون نویسی کے فن کو بطور آلہ و کار استعمال کیا۔ انھوں نے تفسیری و فلسفیانہ مضامین کے ساتھ تحقیقی تنقیدی و اصلاحی مضامین کی طرح ڈالی ۔ اس مقصد کے لیے جاری کردہ ان کے رسائے تہذیب الاخلاق“ میں علمی ، نفسیاتی سائنسی تحقیقی تنقیدی ، اصلاحی، مذہبی ، معاشرتی، فلسفیانہ اور سیاسی مضامین شائع ہوئے ۔ یہ مضامین علمی متانت ، دلائل و تاویل سے آراستہ ہیں۔ ان مضامین کی زبان صاف و شفاف، سادہ و سلیس ہے۔ ان کے انداز بیان میں سادگی ، بے تکلفی اور بے ساختگی ہے اور دو لفاظی تصنع ، مبالغہ اور ابہام سے پاک ہے۔ سرسید احمد خاں نے طویل اور مختصر دونوں طرح کے مضامین لکھے۔ ان کے مذہبی ، تفسیری و فلسفیانہ مضامین عمو ماطویل ہوتے ہیں۔ جیسے علامات قرآن و غیرہ۔ جب کہ ادبی و اصلاحی مضامین نسبتا مختصر ہوتے ہیں۔ جیسے تعصب تعلیم و تربیت ، کابلی، خوشامد ، بحث و تکرار، اپنی مدد آپ امید کی خوشی ، خود غرضی اور قومی ہمدردی وغیرہ۔ سرسید احمد خاں کے ان مختصر مضامین کو ناقدین ادب مضمون کے زمرے میں تو رکھتے ہیں کیوں کہ یہ مضمون کی تعریف کے عین مطابق ہیں اور ان میں ایجاز واختصار کے ساتھ مرکزی خیال بھی پایا جاتا ہے، لیکن ان کے طویل مضامین کو مضمون کے زمرے میں شامل سے گریز کرتے ہیں ۔ بہر کیف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرسید احمد خاں نے ہیں


معیاری نثر کی بنیاد رکھی اور نثر نگاری کے بنیادی اصولوں کی اتباع کی۔ سرسید احمد خاں کے بعد مولانا الطاف حسین حالی نے مضمون نگاری کے باب میں سب سے اہم رول ادا کیا۔ حالی کی خدمات صرف مضمون نگاری تک محدود نہیں ہیں بلکہ انھوں نے اردو میں باضابطہ سوانح نگاری اور تنقید نگاری کی طرح بھی ڈالی۔ انھوں نے تہذیب الاخلاق علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کالج میگزین معارف روداد ندوۃ العلما میں مذہب، اخلاقیات، تعلیم ، سماجی سیاسی اور ادبی مسائل پر اعلا قسم کے مضامین لکھے ۔ رفقائے سرسید کی طرح ان کے بھی اسلوب میں سادگی ، بے تکلفی منطقیت اور استدلال پایا جاتا ہے ۔ حالی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی نشر کو تمام جذبات سے محفوظ رکھتے ہیں۔


سرسید تحریک کی نہایت ہی اہم شخصیت علامہ شبلی نعمانی کی ہے۔ علمیت اور اعتدال پسندی ان کا خاصہ ہے ۔ انھوں نے سیرت ، تاریخ و تنقید کے ذریعے علم وادب کی بیش بہا خدمت کی ۔ ان کے مضامین آٹھ جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں جن میں ایجاز واختصار کے ساتھ علمیت، عظمت، صراحت و وضاحت ، قطعیت و استدلال، اعتماد اور شہر او پایا جاتا ہے۔ طرز بھی ہے لیکن کوئی بھی لفظ فقرہ یا ضرب المثل ابتدال کے دائرے میں داخل نہیں ہوتا ہے۔ عہد سرسید کے دوسرے اسلامی اسکالرس کی طرح ان کا بھی طرز تقابل اور مناظرے کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ قدیم وجدید مشرق و مغرب، ندوہ علی گڑھ اور مذہب و سائنس کا وہ تقابل کرتے ہیں اور پختہ کارانہ و عالمانہ انداز میں ان پر بدلیل ومستند مضامین قلم بند کرتے ہیں۔ اس کے با وجود ان کے طرز کی دل کشی ، خیال و الفاظ کی سادگی اور اثر پزیری برقرار رہتی ہے اور تحریر کا حسن کسی طور زائل نہیں ہوتا ہے۔ سید مہدی علی معروف بہ محسن الملک نے بھی اپنے مضامین کے ذریعے سرسید تحریک اور مضمون نگاری کی روایت کو فروغ دیا ۔ نئی تعلیم و تہذیب کی وکالت کی۔ پری معروفیت ولایت کے ان بات کو بان کیا۔ ان کا طرز الوب رواں بے ساخت اور اہل ہوتا ہے۔ انہوں نے بہت سے میل مضامین بھی لکھے۔ سوری تحریک اور موجودہ علوم کی بین و فیر اس طرح کے مضامین کی بہترین مثالیں ہیں۔ ہذیب الاخلاق کے کھنے والوں میں اک اہم نام چراغ علی کا ہی ہے۔ انھوں نے اپنے مضامین میں ختلف مذاہب کا تقابل مطامع پیش کیا۔ سرسید احمد خاں کا عبد ادیان کے تقابل اور تسلط سے بھی عبارت ہے ۔ اس لیے اس عہد میں مناظرے خوب ہوا کرتے تھے۔ چراغ علی ان مناظروں کا سرگرم حصہ تھے اس لیے ان کی تحریروں میں بھی مناظرانہ انداز ہوتا تھا اوران کے انداز میں منطقیت ، استدلال اور علمیت پائی جاتی تھی۔ پر سادہ اور سلیس ہے جیسا کہ " احساس عام وغیرہ مضامین سے واضح ہوتا ہے۔ ان کے اسلوب پر سرسید کی چھاپ نظر آتی ہے یعنی ال


مشتاق حسین معروف بہ قار الملک کی ادبی حیثیت ایک مترجم او مضمون نگار ی ہے۔ سماجی وسیاسی پچیدگیاں، الجھنیں اور آویزش ان کے پسندید و مضامین تھے۔ ان مضامین پر ان کے خیالات کافی فکر انگیز اور بصیرت افروز ہوتے تھے۔ یہ انگریزوں کے سخت مخالف لیکن جدید سائنسی اور مغربی علوم کے حامی و موید تھے۔ زمانے کے برعکس ان کی زبان اودق اور غیر مانوس فارسی و عربی الفاظ سے پاک ہے۔ جن لوگوں نے مضمون نگاری کے ارتقا میں اہم رول ادا کیا ان میں ایک قابل ذکر نام وقار الملک کا بھی ہے۔


سرسید تحریک سے وابستہ ایک اہم شخصیت مولوی ذکاء اللہ کی ہے۔ انھوں نے بھی مضمون نگاری کے ذریعے سرسید مشن کی توسیع تبلیغ میں نمایاں رول ادا کیا۔ ان کے مختلف رسالوں اور اخباروں میں شائع شدہ بے شمار مضامین اور ضخیم کتا میں مضمون نگاری کے فن کو فروغ دینے کا بین ثبوت ہیں۔ ان کے مضامین تہذیب الاخلاق علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ، مخزن زمانہ " اور رسالہ حسن میں مستقل شائع ہوتے اور اہل علم سے داد و تحسین حاصل کرتے تھے۔


میر ناصر علی خاں کی اصل شہرت مضمون نگاری کے باعث ہے۔ انھوں نے اوائل عمری سے ہی مضمون نگاری میں اپنا جو ہر دکھانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ کئی اخباروں اور رسالوں کی ادارت کی اور تیرہویں صدی " " زمانہ" اور " صلائے عام جیسے پر چوں کی اشاعت کی ۔ انھوں نے ان رسالوں کے ذریعے بھی مضمون نگاری کے ارتقا میں اہم رول ادا کیا ۔ ان کے مضامین کافی مشہور تھے اور ان کے بارے میں یہ بات کہی جاتی تھی کہ یہ نثر میں شاعری کرتے ہیں۔


دیلی کالج اور پھر سر سید اور ان کے رفقاء کے بعد جن لوگوں نے مضمون نگاری کے ارتقا میں کلیدی رول ادا کیا ان میں اودھ بیچ (اخبار) اور اس وابستہ شخصیات کی خدمات بہت اہم ہیں ۔ یہ اخبار منشی سجاد حسین کی ادارت میں لکھنو سے شائع ہوتا تھا۔ مچھو بیگ ستم ظریف تر بھون ناتھ سحر، سید محمد آزاد، جوالا ہر شاد اور پنڈت رتن ناتھ سرشار وغیرہ جیسے مضمون نگاروں کی ایک کہکشاں اس اخبار سے وابستہ تھی ۔ ان مضمون نگاروں نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی حمایت اور مغربی تہذیب و ثقافت کی مخالفت کو اپنا نصب العین سمجھا ۔ ہندوستانی علوم وفنون اور یہاں کے بود و باش اور سیاسی تحریک کانگریس کی حمایت اور سرسید تحریک کی نکتہ چینی کو بھی بنیادی موضوعات میں شامل کیا اور اپنے سماجی، تہذیبی ، اخلاقی اور سیاسی نظریات کی دفاع میں بہترین مضامین قلم بند کیے۔ یہ اخبار اور اس سے وابستہ شخصیات اپنے زبر دست سماجی، تہذیبی ، اخلاقی اور سیاسی شعور، حالات کی غیر معمولی آگاہی اور طنزیہ و مزاحیہ انداز میں ان کی پیش کش کے باعث کافی مشہور ہو ئیں اور مضمون نگاری کی روایت کو فروغ دینے میں کلیدی رول ادا کیا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام