داستان کا فن
داستان اردو کی قدیم افسانوی ادب کی ایک صنف ہے۔ داستان کو کہانی کی طویل اور پیچیدہ صنف کہا جاتا ہے، کہانی قصہ در قصہ ہوکر داستان بنتی ہے۔ داستان کے فن کا بنیادی عنصر اس کی طوالت ہے۔ داستان گو ایک کہانی میں بہت سی کہانیاں شامل کر کے داستان کو طول دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ سب کہانیاں ایک ہی کہانی کا قصہ معلوم ہوتی ہیں ۔ طوالت کے سبب داستان میں کوئی مربوط پلاٹ نہیں ہوتا ۔ اس کے پلاٹ کو دوحصوں میں تقسیم کیا یک سادہ اور دوسرا پیچید سادہ پلاٹ کا مطلب ہے کہانی سیدھے سادے انداز میں بیان کر دی جائے۔ اس کے برعکس پیچیدہ پلاٹ میں قصہ ایک وسیع دائرے میں پھیل کر کہانی کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس پلاٹ میں بہت سی ضمنی کہانیاں شامل ہوتی ہیں ۔ بیشتر داستانوں کے پلاٹ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ داستانوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے مافوق الفطرت عناصر کو اس میں شامل کیا جاتا ہے۔ مافوق الفطرت کی داستان میں شمولیت سے داستان نه صرف دلچسپ ہوتی ہے بلکہ حیرت و استعجاب کی فضا بھی بناتی ہے۔ جن، پری، دیو، بھوت پریت اور طلسمات کی وجہ سے سننے یا پڑھنے والوں میں ایک خاص دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ یوں بھی داستانیں جس زمانے میں لکھی گئیں لوگ زیادہ تو ہم پرست تھے، انھیں غیر حقیقی واقعات بھی حقیقی لگتے تھے، داستانوں میں کردار نگاری بھی مثالی ہوتی تھی پوری داستان کا انحصار ایک شاہزادے اور ایک شاہزادی کے معاشقے پر ہوتا تھا لیکن انھیں کرداروں کے قصے کو آگے بڑھانے کے لیے داستان گو داستان میں سیکڑوں کردا جمع کر لیتا تھا۔ داستان میں عموماً دو طرح کے کردار ہوتے ہیں۔ ایک خیر یعنی بھلائی اور اچھائی کی نمائندگی کرنے والے اور دوسرے شر پسند یعنی برائی کو پیش کرنے والے ۔ ان کرداروں میں عام طور پر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ ابتدا سے آخر تک ایک جیسے رہتے ہیں ان کے علاوہ داستان میں جن، پریاں، دیود غیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ داستانوں کے موضوعات محدود ہونے کے سبب بیشتر داستانوں کے قصوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ہر داستان گو کا انداز بیان اسے دوسرے سے مختلف کرتا ہے ۔ داستانوں کے فن کی تکنیک میں بنیادی عنصر قوت بیان ہے کیونکہ داستان گو کی قوت بیان پر ہی منحصر ہے کہ وہ داستان میں کسی قدر جدت اور تنوع پیدا کرتا ہے، زور بیان ہی سے داستان کی چھوٹی سی کہانی طویل ہو جاتی ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں