مثنوی کی روایت دکن میں / بہمنی دور میں مثنوی کا آغاز
بہمنی سلطنت کا شمار تاریخ ہند کی اہم سلطنتوں میں ہوتا۔ ہے۔ اس سلطنت کا بانی علا الدین حسن بہن تھا، جس نے 1347 میں دکن میں خود مختار یمنی سلطنت کی بنیاد ڈالی ۔ 1347 سے 1527 تک اس خاندان کے اٹھارہ سلاطین نے کوئی پونے دو سو برس سے زائد مدت تک دکن پر حکومت کی ۔ اپنے عروج کے دور میں بہمنی سلطنت قوت و اقتدار شان و شوکت ، دولت و خوش حالی اور علوم وفنون کی ترقی میں اپنی مثال آپ تھی۔ اس خاندان کے اکثر سلاطین بڑے قابل اور علم دوست واقع ہوئے تھے۔ ان کے دربار عر ، شعرا، ادبا ، مورخین ، حکما اور دیگر ارباب کمال سے بھرے رہتے تھے۔ بہمنی سلاطین نے وکن میں نئی تہذیبی روایت کو ترقی دی اور نئی ادبی ولسانی روایات کی بنیاد رکھی۔ ان حکمرانوں نے شمال کے مقابلے میں اپنی انفرادیت اور امتیازی حیثیت گوام نے کے لیے دکنی روایات خصوصا دکنی زبان کی سر پرستی کی ۔ چنانچہ دکنی زبان میں تخلیق ادب کے اولین نمونے بہمنی دور ہی میں ملتے ہیں۔ اردو شاعری کی اہم صنف "مثنوی کا آغاز یمنی دوری میں ہوا۔ ذیل میں ہم یعنی دور کی مثنویوں کا مطالعہ کریں گے۔
نظامی : نظامی کا اصل نام فخر دین تھا۔ دکن کے متعدد اہم شعرا کی طرح اس کے حالات زندگی بھی نامعلوم ہیں ۔ نظامی بمعنی دور کا شاعر تھا۔ وہ بیدر کا باشندہ تھا۔ اس نے کرم راؤ پدم راؤ کے نام سے دکنی زبان میں ایک مثنوی لکھی۔ اس کا سنہ تصنیف بھی نا معلوم ہے لیکن انداز ہ لگایا گیا ہے کہ نظامی نے یہ مثنوی یمنی خاندان کے نویں حکمران سلطان احمد شاہ بہن کے عہد حکومت یعنی 1421 سے 1434 کے درمیان لکھی۔
مثنویوں کے عام رواج کے مطابق مثنوی کا آغا محمد سے ہوتا ہے۔ پھر نعت رسول اور مدح سلطان کے ابواب ہیں۔ مثنوی کا قصہ یہ ہے کہ کدم راؤ را جا ہے اور پدم راؤ اس کا وزیر، جو دراصل ایک ناگ سانپ ہے۔ کسی واقعے کی بنا پر کردم راؤ نے دنیا ترک کر کے جوگیوں اور سنیاسیوں کی صحبت میں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے حکم پر لوگ اکھر ناتھہ نامی ایک بڑے جوگی کو اس کے پاس لے آئے اکھر ناتھ کے کمالات سے کدم راؤ نہایت متاثر ہوا اور دن رات اس کی صحبت میں رہنے لگا۔ اس نے جوگی سے اپنی روح کو دوسروں کے بدن میں منتقل کرنے کا منتر سیکھا۔ منتر کو آزمانے کے لیے کدم راؤ نے اپنی روح ایک مردہ طولی کے جسم میں داخل کی تو فریبی اکھر ناتھ نے فورا اپنی روح کدم راؤ کے جسم میں داخل کی اور راجا بن کر راج کرنے لگا۔ کدم راؤ مصیبتیں سہتا ہوا طوطی کی شکل میں اپنے محل تک پہنچا اور پدم راؤ کو سارا ماجرا کہ سنایا۔ پدم راؤ نے راجا کو مصیبت سے چھٹکارا دلانے کے کی ترکیب نکالی۔ اس نے ایک رات اکھر ناتھ کو سوتے میں ڈس لیا۔ زہر کے اثر سے اکھر نا تھے مر گیا اور کدم راؤ منتر کے ذریعے اپنے اصل بدن میں واپس آگیا۔
مثنوی کدم راؤ پدم راؤ کا قصہ خالص ہندوستانی ہے اور کسی سنسکرت داستان سے لیا گیا ہے۔ اس مثنوی کی زبان نہایت قدیم اور مشکل ہے۔ اس میں سنسکرت ، پراکرت اور علاقائی الفاظ بہ کثرت استعمال کیے گئے ہیں۔
حضرت شاہ میراں ہی شمس العشاق : دکنی زبان کے صاحب تصنیف صوفیائے کرام میں میراں ہی شمس العشاق کا نام سب سے نمایاں اور درخشاں نظر آتا ہے۔ میراں جی نس العشاق کی خود نوشت سے علم ہوتا ہے ۔ ان کے والدحاجی شریف دوام الدین کی شہرکہ کے ایک محلے قریہ مں رہتے تھے۔ انہوں نے ہندوستان آکر چتائی خاندان میں شادی کی اور مکہ لوٹ گئے۔ میراں جی مکہ میں پیدا ہوئے۔ بائیس سال کی عمر میں کے سے مدینہ منورہ گئے اور بارہ سال تک مسجد نبوی میں قیام پذیر ہے۔ خواب میں بشارت پا کر وہ مدینہ منورہ سے گجرات آئے اور شاہ کمال الدین بیابانی کے مرید ہوئے۔ پیر کے حکم پر بیجا پور آئے اور فصیل کے باہر چھوٹے سے قریب شاہ پور میں مقیم ہو گئے۔ یہیں انہوں نے 902ء میں انقال کیا۔ شاہ پور میں ایک بلند ٹیلے پران کا مزار واقع ہے۔
میراں ہی شمس العشاق نے دکنی زبان میں کئی منظوم رسالے تصنیف کیے، جن کے نام یہ ہیں:
(1) خوش نامه (2) خوش نغز (3) شہادت التحقیق (4) مغز مرغوب (5) چہار شہادت (6) وميت النور
میراں جی کے ان تمام رسائل کا موضوع تصوف ہے۔ انہوں نے تصوف کے مسائل سمجھانے کے لیے اکثر نظموں میں سوال اور جواب کا انداز اختیار کیا ہے۔
اشرف بیابانی: اشرف بیابانی کا پورا نام سید شاہ اشرف تھا، بیابانی ان کا خاندانی خطاب تھا۔ وہ 1459ء میں فقر آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام سید شاہ ضیا الدین بیابانی تھا۔ انہوںنے ابتدائی تعلیم اور تصوف و طریقت کے مسائل کا علم اپنے والد سے حاصل کیا۔ انہیں اپنے والد سے بیعت و خلافت حاصل تھی۔ اشرف بیابانی کا انتقال 1528ءمیں ہوا اوران کا مزار فقر آباد ( جالنہ ) میں واقع ہے۔
اشرف نے 909ھ (1503ء ) میں نوسر ہار کے نام سے دکنی زبان میں ایک مثنوی لکھی ۔ مثنوی کا نام نوسر بار رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ مثنوی میں تو ابواب ہیں اور ہر باب ایک قیمتی بار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اشرف بیابانی نے نوسر ہار میں واقعہ کر بال اور شہادت حسین کو موضوع بنایا ہے۔ اشرف نے اپنے زمانے کی دکنی زبان کے محدود سرمائے سے استفادہ کرتے ہوئے یہ مثنوی لکھی ہے۔ انہوں نے اس زبان میں جذبات نگاری بھی کی ہے، مختلف کیفیات کا اظہار بھی کیا ہے اور واقعات کی پراثر تصویر کشی بھی کی ہے۔ خاص طور پر شہادت کے بیان میں غم کے جذبات کی شدت محسوس ہوتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں