پنڈت دیا شنکر نسیم کا دور
پنڈت دیا شنکر نسیم کا دور
نسیم کی پیدائش لکھنؤ میں ہوئی تھی ۔ جس وقت نسیم نے آنکھ کھولی لکھنؤ علم وادب کا گہوارہ تھا۔ آتش ناسخ کے فنوں سے ماحول گونج رہا تھا۔ ان کی زبان دانی اور علم وادب کے چرچے ہر جگہ ہور ہے تھے۔ مگر ایک زوال آمادہ قوم کا خاصہ ہے کہ خیالات اور معانی کی جگہ وہ لفظ کے ظاہری حسن پر زور دینے لگی ہے۔ شاعری لطیف کی حثیت اختیار کرلی ہے یا پھر چیستاں بن کر انسانی دماغوں کی ورزش کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ سراپا نگاری لفظی نزاکتیں، صنائع و بدائع کی کثرت یہ سب لکھنو اسکول کا خاصہ ہے۔ یہ امور جن پر آج ہم کو ہنسی آتی ہے کل تک لٹریچر کی جان بنے ہوئے تھے۔ جن واقعات کو ہم آج ہم خیال کا کرشمہ کہا کرتے ہیں وہ اس دور میں اعتماد و یقین کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ واقعات کو جس قدر الفاظ کے گورکھ دھندے میں چھپا کر پیش کیا جاتا تھا اس قدر اس دور کے لوگ اس کو پسند کرتے تھے۔ اس دور میں کوئی سیاسی آویزش تو نظر نہیں آتی مگر نئی اور پرانی اقدار کی فکر ضرور نظر آتی ہے۔ اور اس ٹکراؤ میں دو قوتوں (نئی اور پرانی) کا فیصلہ بھی پوشیدہ تھا۔ لوگ پیچھے کی طرف دیکھ رہے تھے اور زمانہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا اور اسکا تقاضا یہ تھا کہ اگر ہم نے نئے رجحانات کو نہ سمجھ تو فنا ہو جائیں گے۔ اس دور میں کچھ تو وہ لوگ تھے جو اپنی قدامت پرستی کو کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کو تیار نہیں تھے اور کچھ وہ جن کو آنے والے دور کا کسی قدر اندازہ ہو گیا تھا گر زمانے کے ہاتھوں مجبور تھے۔ لیکن ایسے لوگ صرف انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ زیادہ تعداد ان کی تھی جو ماضی کے دھندلکوں میں مستقبل کے راستے کو فراموش کر چکے تھے۔ زندگی کے ہر شعبے میں یہی عالم تھا چنانچہ اس دور کی شاعری کی یہ کیفیت تھی۔ اصل شاعری تو ہوا ہوئی تھی فقط الفاظ کی بازی گری رہ گئی تھی، جس پر لوگوں نے وہ داد دی اور واہ واہ کی کہ اچھے اچھے طباع لوگ اس دھوکے میں آگئے اور اسی کو شاعری کی روح سمجھنے لگے وہ لفظی نزاکتیں پیدا کرنا شروع کر دیں کہ اس سے بڑھ کر خیال میں نہیں آسکتیں۔ یہاں جرات اور جان صاحب کے نغمے گونج رہے تھے۔ یہاں جاگیردارانہ نظام تھا اور اس کے اثرات انسانی دل و دماغ پر بری طرح حاوی تھے۔ انہی حالات اور ماحول میں نسیم آنکھ کھولتے ہیں اور اس ماحول میں اور ان کی مثنوی گلزارنسیم ، جنم لیتی ہے۔
دیا شنر نسیم کی پیدائش نواب سعادت علی خاں کے عہد میں ہوئی۔ ابھی سات آٹھ برس ہی کے تھے کہ 1819ء میں غازی الدین حیدر نے سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی اور انہوں نے سلطنت دلی کی نیابت سے بغاوت کر کے خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ اہل اودھ کی نظر میں یہ اتنی بڑی فتح تھی کہ اس کی خاطر نواب سعادت علی خاں کی گاڑھے پینے کی کمائی جس کی خاطر وہ کنجوس بھی کہلائے نذرانے کے طور پر بے دریغ انگریزوں کو پیش کر دی گئی۔ بادشاہت کی خوشی میں جتنا بھی جشن منایا جاتا کم تھا۔ نیز عیش و عشرت میں غافل عوام اور حکمران بہ آسانی انگریزوں کو اقتدار کی توسیع کے مواقع بہم پہنچا رہے تھے۔ بہر حال غازی الدین حیدر کے انتقال 1827ء تک ہر روز روز عید تھا اور ہر شب شب برات تھی۔
اپنی عمر کا بڑا حصہ دیا شنک نسیم نے اس ماحول میں گزارا - 1842 ء تک نصیر الدولہ محد علی شاہ کا دور دورہ رہا۔ اور ان کے زمانے میں نہ صرف ان کے اختیارات حکمرانی اورکم ہو گئے بلکہ عیاشی نے اور فروغ پایا۔ انہی کے زمانے میں مثنوی گلزارنسیم، معرض وجود میں آئی سی نے خود مثنوی کے آخر میں اس کی تاریخ تصنیف لکھی ہے۔
این نامه که خامه کرد بنیاد
گلزار نسیم نام بنہاد
بشنید و نوید ہاتفتے داد
توقیع قبول روزیش باد
اس کے پانچ برس بعد محمد علی شاہ کا انتقال ہوا۔ 1842ء میں امجد علی شاہ تخت نشین ہوئے ۔ ابھی جشن تاجپوشی ہی منایا جار ہا تھا کہ 1845 ء میں خود دیا شنکر نسیم
نے وفات پائی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں