حلقہ ارباب ذوق کا آغاز و ارتقا
حلقہ ارباب ذوق کا قیام اپریل 1939 کوعمل میں آیا۔ پہلے اس کا نام "بزم داستان گو یاں"تھا جو بعد میں حلقہ ارباب ذوق ہو گیا۔ اس کے دائرے میں بتدریج وسعت ہوتی گئی۔ اس کے بانی ارکان شیر احمد اختر تابش صدیقی اور نصیر احمد وغیرہ تھے۔ پھر میراجی ممتاز مفتی مختار صدیقی اور دیگر ادیب اس سے وابستہ ہوئے ۔ میرا جی اور ن۔ م۔ راشد ا سے واضح ادبی رجحان دے کر اس کے روح رواں بن گئے ۔ ان کے علاوہ حلقے سے وابستہ دیگر شعرا وادبا میں ہیں راج رہبر، کنھیا لال کپور ،پرکاش پنڈت ، بیگمیل سکینه محمود، عبادت بریلوی وغیرہ شامل ہیں ۔ رفتہ رفتہ حلقے کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ شمالی ہند کے کئی علاقوں میں اس کی شاخیں قائم ہوئیں۔ ابتداء میں حلقے کے اجلاس مختلف لوگوں کے مکانوں اور دفتروں میں منعقد ہوتے رہے لیکن 1944 ء میں یہ طے کیا گیا کہ حلقے کے جلسوں کا انعقاد وائی ایم سی ۔ اے میں ہوا کرے گا۔
حلقے کے رجحان کو آگے بڑھانے میں میرا جی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ 1941ء میں بہترین نظموں کا انتخاب کر کے انہیں شائع کیا۔ اس انتخاب کی نظمیں صرف حلقے کے شعرا تک محدود نہیں ہیں بلکہ بہت سارے ترقی پسند شعرا کی نظمیں بھی اس میں شامل ہیں۔ اس مجموعے میں شامل شعرا احمد ندیم قاسمی ،فیض احمد فیض، مختار صدیقی، ن م راشد ،اختر شیرانی، سلام مچھلی شہری، شاد عارفی، اختر الایمان اور راجہ مہدی علی خاں ہیں۔ ابتداء میں ترقی پسند تحریک اور حلقے میں اختلاف نہیں تھا جس کی وضاحت بہترین نظموں کے انتخاب میں ترقی پسند شعرا کی شمولیت سے ہوتی ہے لیکن میرا جی نے انتخاب کے پیش لفظ میں ادب کو لے کر حلقے اور ترقی پسندوں کے نظریوں کو پیش کیا جس سے ان دونوں تحریکوں کے درمیان خط فاصل کا اندازہ ہوتا ہے۔ حلقے کو زیادہ متحرک بنانے میں ان کی مختلف تجاویز نے بھی بہت بڑا حصہ ادا کیا۔ ان سب کے باوجود یونس جاوید کا کہنا ہے کہ 1941 ء سے 1947 ء تک حلقہ ارباب ذوق کی مجالس میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ ہوئی مباحث کے رنگ بدلے اور نہ ہی تنقید میں کوئی نقطہ نظر واضح ہوکر سامنے آسکا۔ البتہ 1941 ء تا 1949 ء کی بہترین نظمیں کے عنوان سے منتخب نظموں کے جو مجموعے شائع کیے گئے ان میں ہم حلقے سے منسلک ادبیوں کی فنی بصیرت اور شعری ادراک کا عکس ضرور دیکھتے ہیں ۔ اور یہی دور ایک طرح سے حلقے کے عروج کا دور رہا۔ میراجی کے انتقال کے بعد نظموں کے انتخاب کے شائع ہونے کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ حلقے میں گروپ بندی کا دور شروع ہو گیا۔ باہمی اختلاف شدت اختیار کرنے لگے۔
انتظار حسین ، عبادت بریلوی اور سید وقار عظیم کوان کی انتہا پسندی سرگرمیوں کی بنا پرحلقے کی رکنیت سے علاحدہ کر دیا گیا۔ 1950 سے لے کر 1972 تک حلقے کے جلسوں کا انعقاد عمل میں آتا رہا۔ جلسے میں افسانے بھی پیش کیے جاتے رہے۔ اس لیکن باہمی اختلافات نے زور پکڑا اور اس دوران بہترین شاعری، بہترین افسانے اور بہترین مقالے کے انتخابات بھی شائع ہوئے۔ 12 / مارچ 1972 کو حالقہ دوحصوں میں تقسیم ہو گیا۔ یہاں بھی سیاست اور ادب کی بنیاد پر اختلاف چلتا رہا۔ ایک گروہ حلقہ ارباب ذوق ( ادبی ) اور دوسرا حلقہ ارباب ذوق (سیاسی) کہلانے لگا۔ اس طرح ان دونوں کی شناخت مختلف ہوگئی۔
1980 میں حلقہ ارباب ذوق ( پاکستان ) کا قیام عمل میں آیا۔ حلقے اپنے اپنے اجلاس منعقد کرتے اور ایک دوسرے کو غیر آئینی بھی قرار دیتے رہے۔ آج بھی حلقہ ارباب ذوق کسی نہ کسی نام اور رنگ سے موجود ہے اور تعداد میں کئی ہیں۔ لیکن ان کی سرگرمیاں برائے نام رہ گئیں ہیں اور یہ ترقی پسند تحریک کی طرح ہی ادبی تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ گیا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں