ڈرامے کی اجزائے ترکیبی
ارسطو کے متعین کردہ ڈرامے کے اجزائے ترکیبی چھ ہیں:
پلاٹ، کردار، مکالمہ، زبان ، موسیقی اور آرائش ۔
عشرت رحمانی نے انھیں نو بتایا ہے جو کسی غلط فہمی پر منحصر ہے۔
پلاٹ
مختلف واقعات کو ایک فطری تسلسل، بامعنی ربط و آہنگ اور منطقی ہم آہنگی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تو اسے پلاٹ کہتے ہیں۔ اچھے پلاٹ میں واقعات کی ترتیب ایک خاص ڈھنگ سے ہوتی ہے۔ اس میں کوئی بھی واقعہ یوں ہی رونما نہیں ہوتا بلکہ ہر واقعہ اپنے پچھلے واقعے کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے، مزید یہ کہ واقعات ایک کے بعد ایک اس طرح آگے بڑھتے ہیں کہ ان میں منطقی ربط و تسلسل بھی ہوتا ہے اور دل چسپی میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ یعنی انھیں سے پلاٹ آگے بڑھتا ہے۔ پلاٹ میں تسلسل بہت اہمیت رکھتا ہے۔
وقت کی محدودیت کی وجہ سے ڈرامے کا پلاٹ ایجاز و اختصار کا متقاضی ہوتا ہے۔ لہذا ڈرامے کے پلاٹ کی تشکیل اور تراش و خراش میں فنی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں واقعات کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ ان میں مسلسل ارتقا ہو اور اختتام کو پہنچنے سے پہلے وہ نقطہ عروج کو پہنچ جائیں۔
عموماً پلاٹ دو طرح کے ہوتے ہیں ، اکہرے اور تہہ دار ۔ اکہرے پلاٹ سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے متعلق مختلف واقعات بیان کیے جائیں تو وہ سب آپس میں مربوط ہوں اور ان میں قریب قریب ایک ہی قسم کے جذبات کی رنگا رنگی ہو ۔ تہہ دار پلاٹ سے یہ مراد ہے کہ اگر کسی شخص سے متعلق مختلف واقعات بیان کیے جائیں تو ضروری نہیں کہ ان کا آپس میں ربط ہو ۔ دوسرے کرداروں کی مدد سے جزوی واقعات بھی اس سے وابستہ ہو جائیں اور اس میں قصہ در قصہ پیدا ہوتا چلا جائے۔ پیش کش کے لحاظ سے اکہرا اور سادہ پلاٹ زیادہ موزوں ہوتا ہے۔ شخصیت پلاٹ میں غیر معمولی پچیدگی حرکت وعمل میں رکاوٹ بنے کے ساتھ ساتھ تماشائیوں کی اکتاہت اور الجھن کا بھی سبب بنتی ہے۔ نقاد ان فن پلاٹ کو چھ مرحلوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ آغاز یا تمہید، ابتدائی واقعہ عروج کی شروعات، نقطہ عروج ، تنزل اور انجام پلاٹ میں تمہید کا مقصد مواد کے متعلق ضروری معلومات مہیا کرانا ، آنے والے واقعات کی طرف اشارہ کرنا جس سے آنے واقعات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس میں کرداروں کا تعارف بھی کرایا جاتا ہے۔ ابتدائی واقعے سے اصل عمل شروع ہوتا ہے یعنی ابتدائی واقعے سے ابتدائی تصادم جنم لیتا ہے اور ڈراما معرض وجود میں آتا ہے۔ اس مرحلے میں اہم چیز انتخاب واقعات ہے۔ اہل مغرب اس Selection of Incident کہتے ہیں۔ ڈرامے میں دل چسپی اور کامیابی کے لیے آغاز بڑا اہم ہوتا ہے۔ اس میں ایسے واقعے سے ڈراما شروع کرنا چاہئے کہ آغاز سے ہی سامعین کو متوجہ کرلے۔ ایسے واقعات کو پلاٹ میں ہرگز شامل نہیں کرنا چاہیے، جو پلاٹ کا لازمی جز نہ ہوں یا جن کے نکال دینے سے پلاٹ پر کوئی اثر نہ پڑتا ہو۔
پلاٹ کا تیسرا مرحلہ عروج ہے اس سے قصے میں الجھاؤ کا آغاز ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں جس تصادم نے جنم لیا تھا اس میں بتدریج شدت پیدا ہوتی ہے اور عمل اپنے انتہا کی طرف بڑھتا ہے لیکن اس کا نتیجہ غیر یقینی ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں واقعات کی بہتر ترتیب پر زور دیا جاتا ہے۔ مغربی ڈرامے میں اسے یونٹی آف ایکشن کہتے ہیں۔
چوتھا مرحلہ نقطہ عروج ہے۔ اس میں پلاٹ یا قصے کا تصادم خلاف توقع انتہا کو پہنچ جاتا ہے مگر متصادم عناصر عروج کو پہنچ کر زیادہ عرصہ اس صورت حال میں مبتلا نہیں رہ سکتے یہاں متضاد قوتوں کی کش مکش عروج کو پہنچ کر ایسی حیثیت اختیار کر لیتی ہے کہ ان میں سے ایک کی کامیابی یقینی ہو جاتی ہے اور یہاں سے قصے کا انجام نظر آنے لگتا ہے۔ نقطہ عروج گزرے ہوئے واقعات و حالات کے فطری نتیجے کے طور پر ہی سامنے آنا چاہئے ۔ عموماً نقطۂ عروج ڈرامے کے نیچے یا اس کے کچھ بعد لایا جاتا ہے کچھ اسے نصف کے کافی بعد میں لاتے ہیں۔
اس کے بعد تنزل کا مرحلہ آتا ہے اس میں تصادم انجام کی طرف بڑھتا ہے یعنی الجھاؤ میں سلجھاؤ اور حل رونما ہونے لگتا ہے اور قصہ انجام کی طرف بڑھتا ہے اور نتائج کا اندازہ ہوجاتا ہےلیکن یہاں یہ مسلہ پیدا ہوتا ہےکہ دل چسپی کیوں کر قائم رکھی جائے ۔ اس کے لیے پلاٹ میں چند واقعات داخل کر کے عمل کے زوال میں تھوڑی رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے۔ جس سے حالات میں غیر یقینی پن اور تشویش پیدا ہوتی ہے اور دل چسپی کسی حد تک برقرار رہتی ہے۔
پلاٹ کا آخری مرحلہ انجام ہوتا ہے اس میں تصادم کے ایسے پہلو ظاہر ہوتے ہیں جن سے تکمیل کا احساس ہوتا ہے۔ انجام اچھا وہی ہوتا ہے جو گزرے ہوئے واقعات کا فطری نتیجہ ہو۔
پلاٹ کا ایک اہم عنصر تصادم ہے گو کہ یہ پلاٹ کے مرحلوں میں شامل نہیں ہے مگر یہ پلاٹ کا اتنا اہم جز ہے کہ اس کے بغیر ڈرامے کا وجود میں آنا مشکل ہے۔ اوپر کہا گیا کہ پلاٹ واقعات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ واقعے میں ہمیشہ دو یا دو سے زیادہ چیزیں ہوتی ہیں۔ جن میں کسی نہ کسی صورت میں تضادیت پائی جاتی ہے اور اس تضادیت سے واقعہ پیدا ہوتا ہے، اقتصادیت نہ ہوتو پلاٹ کا بنا بھی مشکل ہو جائے اور عمل بھی باقی نہ رہے۔
کردار
لفظ کردار سے اشخاص کی اچھائی یا برائی کا احاطہ کیا جاتا ہے جیسے کہ یہ اچھے کردار کا انسان ہے اور یہ برے کردار کا لیکن یہ لفظ ایک اور معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بقول ای۔ ایم۔ فارسٹر
ناول نگار بڑی تعداد میں لفظی پیکر تراشتا ہے۔ انھیں نام اور" جنس سے موسوم کرتا ہے ۔ ان کے لیے قابل فہم حرکات و سکنات متعین کرتا ہے ان سے واوین کے اندر کلمات ادا کرواتا ہے اور شاید ٹھوس طرز عمل اختیار کرواتا ہے یہ لفظی صورتیں اس کا کردار ہوتے ہیں
یہ بات ڈرامے پر بھی صادق آتی ہے۔ ڈرامے میں کردار تخلیق کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کس کو سفید داڑھی لگادی گئی اورکسی کو کالی مونچھیں کوئی امیر عورت کے لباس میں ہے اور کوئی نوکرانی کے لباس میں ، اصل چیز تو کرداروں کی نفسیات ہے۔ ہر کردار میں اس کے طبقے اور پہننے کے لحاظ سے نفسیات اجاگر ہونا چاہیے۔
کسی فن پارے کے ایسے کردار جن کی گفتگو، افعال ، حرکات و سکنات اور جذباتی حالت کے اظہار میں زندگی کی حقیقی عکاسی پائی جاتی ہو، یا جن میں ایسی ہمہ گیری ہو کہ ایک زمانہ گزر جانے کے باوجود انھیں زندہ رکھ سکے، معیاری کردار کہے جاسکتے ہیں۔ ان میں انفرادیت کے باوجود ایسی عمومیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے سماج کے کسی طبقے کی روایات و نظریات کے ترجمان بن جاتے ہیں۔ ان کا مزاج اپنے عہد اور معاشرے کے مزاج سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔
زمانے کے تغیر، ماحول کی تبدیلی یا کسی واقعے وحادثے سے اثر قبول کر کے اپنے اندر تبدیلی لانے والے کردار ارتقائی کہلاتے ہیں جو شروع سے آخر تک ایک ہی ڈھرے پر رہیں۔ جن کے اندر کسی اثر کو قبول کر کے تغیر پذیر ہونے کی صلاحیت نہ ہو وہ جامد ہوتے ہیں۔ کسی بھی فن پارے کے لیے ارتقائی کردار کا وجود ہی مستحسن مانا جاتا ہے۔ کردار نگاری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کرداروں کی زبانی ایسی گفتگو پیش کی جائے جو ان کی فطرت ، ماحول اور معاشرت کے مطابق ہو جو شخص جس طبقے یا سماج سے تعلق رکھتا ہو زبان بھی اس کے مطابق ہو اور مختلف طبقوں اور گروہوں کے لوگوں کی گفتگو سے ان کا طبقاتی فرق بھی ظاہر ہو۔
مکالمہ
ڈرامے کے اجزائے ترکیبی میں تیسرا درجہ مکالمے کو حاصل ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مکالمے کے بغیر ڈراما ہو ہی نہیں سکتا۔ ڈرامے میں بیانیہ کا گزر نہیں ہوتا۔ ڈرامے میں ہر شخص اپنے الفاظ واعمال سے پہچانا جاتا ہے۔ لہٰذا انھیں کردار کی ذہنی سطح اور معاشرت کے بھی مطابق ہونا چاہیے۔ مکالمے کی تمام تر ضرورت واہمیت کے باوجود اس کی زیادتی مناسب نہیں۔ کیوں کہ ڈراما نظری آرٹ ہے، اس میں اکثر اشیایا کرداروں کو پیش کر دینا ہی کافی ہوتا ہے انھیں بیان نہ بھی کیا جائے تو بھی صورت حال مکمل ہو جاتی ہے۔ ڈرامے میں کیا کہا سے زیادہ کیا کیا اہم ہوتا ہے۔
اس لیے بھی مکالمے کی زیادتی مناسب نہیں۔ ڈرامے میں وقت کی محدودیت کی وجہ سے ایکونامی آف ورڈز پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے الفاظ کا استعمال بالکل اسی طرح کرنا چاہئے جس طرح ٹیلی گرام کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگر کام ایک جملے سے چل جاتا ہے تو دوسرا جملہ ہرگز نہیں لکھنا چاہیے۔ خواہ وہ کتنا ہی خوبصورت
جملہ کیوں نہ ہو کیونکہ ڈرامے میں خوبصورت جملہ وہ ہے جس کی ضرورت ہو وہ نہیں جس میں خوبصورت الفاظ ہوں۔ ڈرامے میں مکالمے مختصر ہوں، اگر کہیں طویل مکالمے لانے کی مجبوری ہو جائے تو سامنے کھڑے کرداروں کے چھوٹے چھوٹے جملے لا کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہیے اس سے طوالت گوارا ہو جائے گی۔
کوئی بات کرے مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مکالمے مختصر ہوں موقع محل کے لحاظ سے ہوں، سادہ اور سلیس ہوں ، کتابی زبان کے بجائے بات چیت کی زبان میں ہوں ، ان سے حرکت و عمل میں مدد ملے۔ ان میں کردار نگاری کا خیال رکھا گیا ہو اور ان سے کرداروں کی نفسیات و معاشرت کی ترجمانی ہو۔
مکالموں میں موزونیت ہو، بے ربطی بمرار اور ابہام سے پاک ہوں ، صاف اور واضح ہوں، ہر کردار بہترین الفاظ میں اپنا مافی الضمیر ادا
زبان
ڈراما کرداروں کے عمل اور گفتگو کے ذریعے وجود میں آتا ہے اور گفتگو کسی نہ کسی زبان میں ہوتی ہے۔ اس طرح ڈرامے کے لیے زبان بہت اہم ہو جاتی ہے۔ ارسطو الفاظ کے ذریعے تاثرات کے ظاہر کرنے کو زبان کہتا ہے۔ شروع میں ڈرامے منظوم ہوا کرتے تھے۔ اردو کے بھی ابتدائی ڈرامے منظوم ہیں لہذا سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ڈراما منظوم سے پہلے ہم ہے یا منشور کیونکہ نظم و نثر کی زبان مختلف ہوتی ہے۔
ولیم ورڈس دورتھ Lyrical Ballads کے دیباچے میں لکھتا ہے کہ : کے دیباچے میں کہ: فہم سلیم کا مالک کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو یہ تسلیم نہ کرے کہ ڈرامائی تحریر اسی قدر ناقص اور خام ہوگی جس نسبت سے کہ اس میں حقیقی فطری زبان سے انحراف ملے گا۔ ڈرامے کے تماشائیوں میں ہر طبقے اور ہر اہلیت کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ اس سے بھی ڈرامے میں روز مرہ ، سادہ اور بول چال کی زبان کا نظریہ تقویت پاتا ہے۔ ڈرامے کی روایت پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اکثر تبلیغ کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور تبلیغ صرف پڑھے لکھے لوگوں تک محدود نہیں ہوتی ۔ اس سے بھی عام بول چال کی زبان یا کم از کم سادہ سلیس اور عام فہم زبان کی وکالت ہوتی ہے۔ البتہ زبان کی سادگی برقرار رکھتے ہوئے ، ہم وزن ، ہم آواز ہم قافیہ الفاظ استعمال کر کے اور کہیں کہیں ضرب الامثال مصرعے اور اشعار کا استعمال کر کے اسے خوبصورت بنا لیا جائے تو اس کی اثر پذیری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ڈراما نگار کو یہ بات اپنے ذہن میں صاف رکھنی ہوگی کہ اس کے ناظرین کون لوگ ہیں یا ہو سکتے ہیں اور ان کی زبان کیا ہے، اسی کی مناسبت سے زبان استعمال کرے تاکہ ناظرین اسے سمجھ کر پورے طور پر لطف اندوز ہوسکیں ۔ ڈرامے کے اجزائے ترکیبی میں موسیقی کو اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ یہ سب سے زیادہ مسرت ہے سے زیادہ مسرت بخش چیز ہے۔ آرائش کا تعلق گاریگری سے ہے۔ اس کی اثر پذیری سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا مگر یہ لازمی بھی نہیں ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں