اردو ڈرامے کے اقسام

ڈرامے کو عموماً دو اقسام المیہ ( ٹریجڈی) اور طربیہ کامیڈی میں ہی تقسیم کیا جاتا تھا۔ پھر الم و طرب کی شمولیت سے بھی ڈرامے ترتیب دئیے جانے لگے  ۔ یہاں سب سے پہلے جنھیں "الم طربیہ کا نام دیا گیا۔ اس کے علاوہ میلوڈراما، فارس ، ڈریم اور اوپیرا بھی ڈرامے کی قسمیں ہیں ۔ سب سے اہم صنف المیہ ( ٹریجڈی ) پر بات کرتے ہیں۔


المیہ (ٹریجڈی)


مغرب میں یں ٹریجڈی ڈرامے ڈراے کی  سب سے  اہم  قسم قرار  دی گئی ہے۔ یہ وہاں  اس قدر مقبول ہوئی ہوئی  کہ ڈرامے کا دوسرا نام نامی ہی ٹریجڈی پڑ پڑ گیا۔ اس کا اندازہ اے۔ ڈبلیور شیگل کے اس قول سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ

" ٹریجڈی تخیل کی معراج ہے" ۔

چند جملوں میں ٹریجڈی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ اس کا پلاٹ غم واندوہ کے واقعات پر بنی ہوتا ہے اور اس میں باوقار واعلیٰ طبقے کے کردار شامل کیے جاتے ہیں جیسے بادشاہ، وزیر شہزادے اور اعلیٰ افسر وغیرہ لیکن ٹریجڈی اعلیٰ طبقے کے کرداروں کے علاوہ کچھ اور بھی مطالبہ کرتی ہے۔ ٹریجڈی میں ڈراما نگار غم واندوہ، ہمدردی و دہشت کا گہرا تاثر پیش کرتا ہے جس سے دردمندی اور رحم کے جذبات ابھرتے ہیں۔ 


دہشت و رحم کے جذبات، پلاٹ میں شدید قسم کی کشمکش ، تصادم اور ٹکراؤ کے ذریعہ پیدا کیے جاتے ہیں ۔ اس تصادم و ٹکراؤ سے مصیبت، تباہی و بربادی و رنج ومحن کا تاثر بڑے پیمانے پر پیدا کیا جاتا ہے۔ ٹریجڈی کا یہ بھی اصول ہے کہ تباہی و بربادی اور رنج محن کا پہاڑ ایسے شخص پر ٹوٹے جو بے گناہ ہو۔ رحم اور ہمدری کا جذبہ تب ہی پیدا ہو گا اور انجام کے منظر میں تماشائی دل کھول کر آہ وزاری اور واویلا کر سکیں گے اور ان کے فاضل مجتمع جذبات کی اصلاح ، تزکیہ، اسہال یا کیتھارس ہو کر ان کا ذہن ہلکا ہو جائے گا۔


طربیہ ( کامیڈی)؛


کامیڈی ڈرامے کی ایسی صنف ہے جسے المیہ کے مقابلے میں کمتر سمجھا گیا۔ اس کے پلاٹ میں خوشی و مسرت پیدا کرنے والے واقعات  لیے جاتے ہیں اور اس کے کردار متوسط درجے کے عام انسان ہوتے ہیں۔ اس میں عموماً مثالی کردار پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ مبالغہ آمیز پر تفنن اور تفریحی تاثر پیش کرتی ہے۔


الم طربیہ ( ٹریجڈی کا میڈی)؛


بعض ڈراما نگاروں نے سنجیدہ ڈراموں سے المیہ اجزا لے کر اس میں طربیہ خصوصیات شامل کر کے ڈرامے کی ایک نئے قسم کے ڈرامے کی تخلیق کی جو الم طربیہ کہلائی۔


میلوڈراما


میلوڈ راما ایک سنجیدہ ڈراما ہے مگر اس میں گانوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقی المیہ کی روح سے کافی دور ہوتا ہے پھر بھی اس میں شان د شوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ جذباتی انداز کی اس قدر بہتات ہوتی ہے کہ کسی جذبے کے اظہار میں نامناسب شدت بھی روارکھی جاتی ہے۔


فارس

فارس میں عوامی سطح کے مضحکہ خیز واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی طوالت کم ہوتی ہے اس لیے اسے ایک مختصر مزاحیہ تمثیل کہا گیا ہے۔ اس میں پلاٹ اور کردار نگاری پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا ۔ تمسخر انگیز واقعات پر زیادہ توجہ ہوتی ہے۔


ڈریم


یه مخلوط قسم کے ڈراموں کی ایک شاخ ہے۔ یہ نہ مبالغہ آمیز انداز میں تفریحی سامان مہیا کرتی ہے اور نہ ہی المیہ تاثر ۔ اس کے کردار طربیہ کے مثالی کرداروں کے بجائے شخص اور منفر قسم کے ہوتے ہیں۔ اس کا انجام غم آگئیں نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے پلاٹ سے عظمت و جلال پیدا ہوتا ہے۔


اوپیرا

نور الہی ومحمد عمر کا خیال ہے کہ :

جو ڈراما سر بسر رقص و سرور کے ذریعے پیش کیا جائے وہ او پیرا ہے ۔ 

نور الہی ومحمد عمر، نا ٹک ساگر، 1922 ،لاہور، ص 32


او پیرا میں رقص و سرور کے عناصر غالب تو ہوتے ہیں مگر اس کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں کہانی کے موضوع کے مطابق ایسی موسیقی پیش کی جاتی ہے جو موقع کے لحاظ سے متنوع بھی ہوتی ہے اور اس کا ربط و تسلسل کہیں ٹوٹے نہیں پاتا یعنی اول سے آخر تک مواقع کے لحاظ سے موسیقی حسب ضرورت آپ سے آپ رنگ بدلتی چلی جاتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام