میرا جی خدا نما کی حیات اور ادبی خدمات
میرا جی خدا نما
1074 ھ 1004- ھ
میرا جی خدا نما حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز کے سلسہ فیض کے شاعر وادیب ہیں۔ آپ سید تھے۔ اپنے کلام میں انہوں نے میراں اور سید میراں تخلص استعمال کیا ہے۔ آپ کے والد کا نام شاہ قاسم محمود تھا۔ حضرت میراں جی خدا نما نے اپنے آپ کو رشد و ہدایت کے لیے وقف کر دیا اور سلطان عبداللہ قطب شاہ کی سرکاری ملازمت سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ چوں کہ آپ بندگان خدا کوحق پرستی اور معرفت خداوندی کا درس دیا کرتے اس لیے انھیں خدا نما کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔
سلسلہ بندہ نواز کے مشائخین کی طرح میراں جی خدا نما بھی تصنیف و تالیف میں مشغول رہے اور اپنی نگارشات سے خلق اللہ کی دینی اور علمی خدمت انجام دی۔ انہوں نے کئی اردو رسالے اور نظمیں لکھیں۔ رسالہ وجود یہ (موضوع : تصوف کے مسائل ) ، شرح تمہیدات عین القضات اور شرح مرغوب القلوب اردو نثر میں ہیں۔ میراں جی خدا نما نے بشارت الانوار کے علاوہ دو مثنویاں اور غزلیں بھی کہی تھیں ۔ شرح تمہیدات عین القضات قاضی عین القضات ہمدانی کی تصنیف ہے۔ تصوف سے متعلق اس فارسی تصنیف کی شرح حضرت خواجہ بندہ نواز نے فارسی ہی میں لکھی تھی۔ میراں جی خدا نما نے اس کو دکنی نثر میں منتقل کیا۔ رسالہ وجودیہ میراں جی خدانما کی نثری یادگار ہے جس میں تصوف کے مسائل بیان کیے گئے ہیں ۔
مرغوب القلوب فارسی نظم ہے جو شمستبریز سے منسوب کی جاتی ہے۔ میراں جی خدا نما نے دکنی نثر میں اس کی شرح لکھی ہے جس کا نام ” شرح مرغوب القلوب“ ہے۔
میراں جی خدا نما کے رسالے اردو کی ارتقائی منزل اور اس کے تشکیلی دور کی اچھی نمائندگی کرتے ہیں۔ خدا نما کی نثر میں قواعد کا یہ رجحان نظر آتا ہے کہ اکثر جملوں میں فعل، فاعل اور مفعول اپنے مناسب مقام پر دکھائی دیتے ہیں لیکن عبارتوں میں ہر جگہ اس کا التزام نہیں رکھا گیا ہے ۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ عبارتوں کے ٹکڑے ایک دوسرے سے پیوست نظر آتے ہیں اور درمیان میں خلاء کا بہت کم احساس ہوتا ہے۔ اس سے بھی نشر کی ترقی اور نشو ونما میں میراں جی خدا نما کی تحریروں کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں