حضرت میرا جی شمس العشاق کی حیات اور ادبی خدمات

حضرت میراں جی شمس العشاق     کا نام امیر الدین عرفیت میراجی اور لقب شمس العشاق ہے۔ آپ کے والد کا نام حاجی شریف دوام الدین تھا۔ میراں بھی مکہ شریف میں پیدا ہوئے بائیس سال کی عمر میں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ گئے اور وہاں بارہ سال تین ماہ اور پانی روز قیام کیا۔ پھر ہندوستان آئے اور دکن کا رخ کیا۔ حضرت شاہ کمال الدین بیابانی کے دست پر بیعت کی اور منازل سلوک طے کرنے کے بعد آپ  کو حضرت شاہ کمال الدین بیابانی نے آپ کو خلافت سے سرفراز کیا۔ دو واسطوں سے آپ کا سلسلۂ خلافت حضرت گیسو دراز سے ملتا ہے۔ اپنے پیرو مرشد کے حکم سے بھنگار ( احمد نگر ) جا کر شادی کی ۔ آپ کے فرزند برہان الدین جانم اور پوتے امین الدین علی اعلیٰ تھے۔


میراں جی شمس العشاق اپنے پیر و مرشد کے کہنے کے مطابق بیجاپور چلے گئے اور تاحیات مخلوق خدا کو اپنے علم وفضل سے بہرہ ور کرتے رہے۔ آپ کا مزار بیجاپوری میں ہے۔ میراں جی ولی کامل اور روشن ضمیر بزرگ تھے۔ آپ نے ساری زندگی عبادت ریاضت رشد و ہدایت درس و تدریس میں گزار دی ۔ آپ عالم با عمل اور صوفی باصفا تھے۔ باعمل میراں جی شمس العشاق سے کسی اردو نثری رسالے کا انتساب ثابت نہیں ہوتا۔ ان سے منسوب جتنے بھی نثری رسالے ہیں ان میں سے ایک بھی رسالہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکے کہ یہ میراں جی شمس العشاق ہی کی تصنیف ہے۔ ان کی تصانیف میں چھ مثنویاں شامل ہیں ۔

(۱) شہادت التحقیق یا شہادت الحقیقت 

(۲) خوش نامه 

(۳) خوش نغز

(۴) شهادت نامه

(۵) مغزمرغوب

(۶) وصیت النور


مثنوی وصیت النور کو ڈاکٹر صبیحہ نسرین نے نیشنل میوزیم کراچی پاکستان میں موجود ایک ضخیم بیاض سے یکم اکتوبر 1987ء کو دریافت کیا اور 1988ء میں وصیت النور" کے نام سے شائع کیا۔ خوش نامہ میں ایک نو جوان اور نیک طینت لڑکی خوش یا خوشنودی کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ عشق الہی سے سرشار ہے۔ وہ میراں جی کی مرید تھی۔ خوش نامہ کا وہ حصہ جہاں خوشی کے وقت آخر اور اس کے انتقال کا حال نظم کیا گیا ہے بہت زیادہ پر اثر ہے۔ یہاں میراں جی کا لب ولہجہ جذباتی ہو گیا ہے۔ اور ان کا طرز ادا سوز و گداز میں ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ میراں جی کی یہ نظم بہت سادہ ہے۔ مثنوی شہادت التحقیق یا شہادت الحقیقت میں اخلاق و تصوف کے رموز و حقائق کا تذکرہ ہے۔ اس مثنوی کی بھر چھوٹی لیکن رواں ہے ۔


یہ سب عالم تیرا

رزاق سبھوں کیرا

تجھ بن اور نہ کوئے

نہ خالق دو جا ہوئے

نا دیکھت پورا لیکھو

لے مغز چاک دیکھو

جے مغز میٹھا لاگے

تو کیوں من اس تھے بھاگے

وہ مغز معنی لیو

سب چھال جھاڑ دیو


شہادت الحقیقت مکالمے کے انداز میں لکھی گئی ہے۔ اس میں سوال و جواب کے طرز میں تصوف کی عام باتیں بیان کی گئی ہیں۔ مثنوی خوش نغز میں بھی میراں جی نے متصوفانہ خیالات پیش کیے ہیں۔ اس میں بھی خوشی یا خوشنودی کا کردار ابھرتا ہے۔ وہ اپنے پیر طریقت میراں جی سے مختلف سوالات کرتی جاتی ہے اور میراں جی اس کا جواب دیتے جاتے ہیں۔


مثنوی " مغز مرغوب میراں جی کی ایک مختصری نظم ہے اور صرف تئیس (23) اشعار پر مشتمل ہے ۔


مغز مرغوب دھر یا جانو اس نسخے کا نام

مرشد موکھوں سمجھے تو ہوئے کشف تمام


چہار شہادت میں میراں جی نے اپنے پیرومرشد شاہ کمال بیابانی کا ذکر کیا ہے۔ مثنوی وصیت النور میں عرفان باری تعالیٰ عرفان محمدی عبادت کی اہمیت انسانیت کی معراج، مرشد کی اہمیت جیسے موضوعات ملتے ہیں۔ یہ مثنوی بھی سوال و جواب کی شکل میں ہے۔ اس مثنوی میں ایک سو گیارہ اشعار ہیں ۔


خوش پوچھی کی سوال ایک موج ایسا آیا 

کہنا پیر پیارے ہم کوں کا ہے کاج نہ پایا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام