ترقی پسند تحریک کا آغاز و ارتقا

ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز اپریل 1936ء کی اس کا نفرنس سے ہوتا ہے جس کی صدارت پریم چند نے کی تھی۔ پریم چند نے اپنے صدارتی خطبے میں ادب کی غرض وغایت بیان کی ادبیوں کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور اس جلسے کو ادب کی تاریخ میں ایک یادگار واقعہ قرار دیا۔ اس خطبے میں انہوں نے کہا کہ :

ہم اپنے آپ کو ہندوستانی تہذیب کی بہترین روایات کا وارث سمجھتے ہیں اور ان روایات کو اپناتے ہوئے ہم اپنے ملک میں ہر طرح کی رجعت پسندی کے خلاف جدو جہد کریں گے اور ہر ایسے جذبے کی ترجمانی کریں گے جو ہمارے وطن کو ایک نئی اور بہترین زندگی کی راہ دکھائے ۔

انہوں نے ادیبوں اور فنکاروں کے لیے حسن و جمال کی بدلتی ہوئی معنویت بدلتے ہوئے حالات اور عصری حیثیت کے تناظر میں ادب کی تعریف بھی پیش کی ہے۔ اس کا نفرنس میں شرکت کرنے والوں میں پریم چند کے علاوہ چودھری محمد علی ردولوی سید سجاد ظہیر

احمد علی، فراق گورکھپوری ، محمود الظفر ، حسرت موہانی، جوش ملیح آبادی ساغر نظامی اور بنگال مہاراشٹر گجرات اور مدراس وغیرہ کے نمائندے شامل تھے۔ اس کا نفرنس میں سجاد ظہیر انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سکریٹری منتخب کیے گئے۔

لکھنو کانفرنس کی خاطر خواہ کامیابی کے بعد مختلف شہروں میں انجمن کی کا نفرنسیں منعقد ہوئیں اور اس کی شاخوں کا قیام عمل میں آیا۔ دہلی، ۔ مبئی، کلکتہ بھیمڑی حیدر آباد الہ آباد لکھنو، جے پور رانچی وغیرہ میں بتدریج کا نفرنسیں اور سمینار ہوتے رہے۔ بے شمار شاعر وادیب اس تحریک سے وابستہ ہوئے (جس پر تفصیلی گفتگو آگے کی جائے گی ) اور اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے بے لوث خدمات انجام دیں۔ جس کے سبب اس تحریک نے تنظیمی علمی سطح پر ارتقائی منازل طے کیں اور بیسویں صدی کی سب سے کامیاب تحریک بن گئی۔

لیکن جس طرح دن کے بعد رات اور شام کے بعد صبح ہونا فطری امر ہے اسی طرح عروج کے بعد زوال بھی لازمی ہے۔ اس تحریک کا آغاز ہوا عروج ہوا۔ اس نے نسلوں کو متاثر کیا۔ ادب کی فضا پر آسمان کی طرح سایہ تمکن ہوگئی اور پھر رفتہ رفتہ تحلیل ہوگئی۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ 1947 ء کے بعد جو تحریکیں، جو ادارے تعطل اور انتشار کے شکار ہوئے ان میں ترقی پسند تحریک بھی کافی اہم ہے۔ اس تحریک کے روح رواں سید سجاد ظہیر ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے۔ بعض ادیب و شاعر نہیں رہے اور اسی طرح چھٹے دہے میں ہی نظریاتی اعتبار سے اس تحریک میں بکھراؤ کے آثار نظر آنے لگے ۔ 1948ء کے بعد رندوے کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی جس دارو گیر کا شکار ہوئی اس کی وجہ سے بہت سے ادیب انجمن ترقی پسند مصنفین سے الگ ہو گئے ۔ آزادی کے بعد خود ترقی پسند مصنفین نے ایک قرارداد کے ذریعے غیر کمیونسٹ ادیبوں پر انجمن کے دروازے بند کر دیے ۔ انجمن اور تحریک کو نقصان پہنچانے میں اس واقعہ نے سب سے اہم رول ادا کیا۔ اس تحریک کو پروپگنڈہ اور نعرے کا نام بھی دیا گیا۔ بعض ادیب و شاعروں نے جب یہ محسوس کیا کہ یہ تحریک پروپگنڈہ بن گئی ہے اور اس سے ادب مجروح ہو رہا ہے تو انہوں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس طرح آٹھویں دہائی کے آتے آتے ترقی پسند تحریک تحلیل ( یہاں تحلیل کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ تحلیل ہونے والے مادے کا وجود گر چہ بظاہر ختم ہوجاتا ہے لیکن اسکی کوئی نہ کوئی صورت اور اس کی اثر انگیزی باقی رہتی ہے ) ہو چکی تھی اور جدیدیت پوری طرح سے سر ابھار چکی تھی ۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام