سر سید کی سماجی خدمات
یکم اپریل 1869ء کو سرسید انگلینڈ روانہ ہوئے گرچہ اس سے پہلے اپنی تصنیفات اور سائنٹفک سوسائٹی کے اخبار انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں لکھے گئے اخلاقی اور معاشرتی مضامین کے ذریعہ انھوں نے اصلاح کا کام شروع کر دیا تھا۔ مگر جب 1870ء میں انگلینڈ سے واپس ہوئے تو ان کے ذہن میں سماجی اصلاح اور تعلیمی تصور کا ایک واضح خاکہ موجود تھا۔ انھوں نے محمدن اینگلو اورنٹیل کالج علی گڑھ قائم کر کے تعلیمی مشن کو عملی جامہ پہنایا بلکہ تہذیب الاخلاق پرچہ جاری کر کے سماجی اصلاحات کا کام انجام دیا۔ تہذیب الاخلاق جسے "محمڈن سوشل فارمز" بھی کہتے تھے ، کا مقصد یہ تھا کہ قوم میں جدید زندگی کے مسائل کو سمجھے کی صلاحیت بیدار ہو جائے نیز ان تمام خرابیوں کو دور کیا جائے جو سماج کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔ سرسید نے تہذیب الاخلاق کی ایک اشاعت میں سماجی اصلاح سے متعلق 29 نکات پر مشتمل ایک پروگرام پیش کیا تھا جن میں چند نکات درج ذیل ہیں :۔
👈 سب سے پہلے آزادی رائے کو سرسید ضروری سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انسان کو آزادانہ رائے دینے کا حق ہو تو دنیا کی آدھی برائیاں ختم ہو جائیں گی۔
👈 دین اور دنیا کی تفریق کو وہ غیر ضروری سمجھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ بدبختی سے دنیا دین کو غارت کر دیتی ہے اسی طرح خوش بختی سے دنیا دین کو سنوار بھی دیتی ہے۔ دین اور دنیا کے بارے میں سرسید کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ایک ہاتھ میں قرآن دوسرے میں جدید علوم اور سر پر لا الہ الا اللہ کا تاج ہو۔
👈 سرسید قوم میں ” خود اعتمادی پیدا کرنا چاہتے تھے اس کا مفہوم ان کے نزدیک یہ تھا کہ دوسروں کے دست نگر نہ ہوں اور اپنے مسائل آپ حل کرنا سیکھیں یہ اسی وقت ممکن ہے جب اپنی مدد آپ کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ اپنی مدد آپ سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص اپنی ترقی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق خود کسی بیرونی امداد کا انتظار کیے بغیر کوشش کرے۔ یہی جذبہ ترقی کی بنیاد ہے۔ نا امیدی اور مایوسی کو وہ قوم کے لیے انتہائی مصر سمجھتے تھے۔
سرسید نے اپنے مشن میں بار بار ناکام ہونے کے باوجود اپنا کام جاری رکھا اور آخر ایک دن اپنی منزل کو پالیا۔ اپنے مضمون "امید کی خوشی" میں بڑی خوب صورتی سے انھوں نے مثالوں کے ذریعہ اس بات کو سمجھایا ہے ۔
رسم ورواج کی پابندی کو سرسید نے بندر کی نقل سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نقل کے بجائے عقل سے کام لے کر اچھی رسموں کو اختیار کرے اور بری رسموں کو رد کرے۔ کاہلی اور ستی کسی کے نزدیک بھی اچھی چیز نہیں ہے۔ مگر سرسید نے کاہلی دوستی کو جسمانی محنت کے بجائے قلبی اور عقلی محنت کی کمی کو سمجھا تھا۔ دوسرے لفظوں میں دل ، دماغ اور عقل کو قوم کے مفید کاموں میں استعمال کرے۔ خوشامد سرسید کے نزدیک دل کی بیماریوں میں سب سے زیادہ مہلک ہے اس کی وجہ سے انسان خود غرضی اور مطلب پرستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ریا کاری کو انھوں نے تہذیب اور معاشرت کا دشمن بتایا ہے ۔ ریا کاری ظاہر و باطن کو الگ کرتی ہے۔ ریا کار آدمی آسانی سے اپنے دوست کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ بحث و تکرار بھی سرسید کے نزدیک اچھی چیز نہیں۔ اس سے دلوں میں کدورت پیدا ہو جاتی ہے اور تعصب کو سرسید بدترین خصلتوں میں سے ایک خصلت بتاتے ہیں۔ یہ
نیکیوں کو برباد اور خوبیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ عدل و انصاف اس کی وجہ سے جاتا رہتا ہے۔ ان چند انتہائی اہم اور قابل غور معاشرتی خرابیوں کی طرف سرسید نے توجہ مبذول کرائی ہے جن کو دور کرکے قوم ترقی کرسکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ برائیاں ہمارے سماج میں پنپ رہی تھیں اور پنپ رہی ہیں جس کو سرسید نے محسوس کر کے بلاخوف لکھا، بتایا اور دور کے کرنے کی حتی المقدور کوشش کی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں