حلقہ ارباب ذوق کیا ہے

یہ ایک پیچیدہ سوال ہے کہ حلقہ ارباب ذوق کیا ہے؟ اول تو یہ کہ حلقہ ارباب ذوق تحریک ہے یا رجحان؟ اور دوم یہ کہ تحریک اور رجحان سے کیا مراد ہے؟ آئیے پہلے تحریک اور رجحان کے معنی و مفاہیم کو مجھ لیں ۔ تحریک کے لغوی معنی کسی بات کو شروع کرنے کے ہیں۔ اصطلاحاً کسی مقصد کے حصول کے لیے جب افراد کا گروہ کوشش کرتا ہے تو اسے تحریک کہتے ہیں۔ اس طرح رجحان کے لغوی معنی میلان توجہ کے ہیں مگر اصطلاحا " غیر شعوری  رویہ" کے ہیں۔ رجحان منصوبہ بند طریقے سے کسی مقصد کی حصول یابی کے لیے نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں تشہیر کی جاتی ہے۔ اس کا با قاعدہ آغاز بھی نہیں ہوتا لیکن رجحان میں لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور اس سے وابستہ فرد نہیں بلکہ افراد کا گروہ ہوتا ہے مذکورہ بالا تعریف کی روشنی میں غور کریں تو حلقہ ارباب ذوق ابتدا میں رجحان اور بعد میں تحریک کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اس حلقے کی ابتدا میں کوئی واضح نظر یہ نہیں تھا لیکن بعد میں حلقے کا باقاعدہ قیام بھی عمل میں آیا، شاعر وادیب بھی وابستہ ہوئے اور نظریے کی وضاحت بھی ہوئی جس کی پیروی نظم ونٹر اور تنقید سب ہی میں کی گئی۔

حلقہ ارباب ذوق کا قیام 1939ء میں لاہور میں عمل میں آیا۔ ابتدا میں اس کا نام بزم داستان گویاں تھا۔ اس حلقے کے کوئی بندھے لکھے اصول تھے اور نہ ہی ترقی پسند تحریک کی طرح کوئی منشور یا اعلان نامہ بلکہ ابتدائی دنوں میں اس کا نظر یہ بھی واضح نہیں       تھا۔ رفتہ رفتہ اس حلقے نے منظم صورت اختیار کر لی اور اس بات پر زور دیا جانے لگا کہ ادب کی اولین خصوصیت یہی ہے کہ وہ اول اور آخر ادب ہو ۔ ترقی پسندی اور رجعت پسندی بعد کی باتیں ہیں اس حلقے کو میرا جی، ن۔ م۔ راشد، قیوم نظر، یوسف ظفر ضیا جالندھری ،صلاح الدین احمد ،ریاض احمد اور منیر نیازی وغیرہ کی سرپرستی میں خوب ترقی حاصل ہوئی اور لاہور کے علاوہ دہلی اور شمال کے کئی علاقوں میں اس کی شاخیں پھیل گئیں ۔ حلقے نے محض فکری مسلح پر کام نہیں کیا بلکہ شعر وادب کے فروغ کے لیے عملی طور پر بھی کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ خصوصا نظم نگاری کو خوب مقبولیت ہوئی نظم میں نئے نئے تجربے کیے گئے ۔ میرا جی اور ن۔ م۔ راشد کا شمار آزاد نظم کے بنیاد گزار شاعروں میں ہوتا ہے۔ صلاح الدین احمد نے اردو افسانے کو ایک منفرد سمت عطا کی اور ریاض احمد کی شناخت نفسیاتی نقاد کی حیثیت سے ہے۔ اس طرح سے اس حلقے میں بیک وقت نظم و نثر دونوں میں تجربے کیے گئے ۔ علامت نگاری، تحلیل نفسی رمزیت و اشاریت کے عمدہ نمونے یہاں موجود تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا بنیادی نظریہ کیا تھا؟ یہ بنیادی نظریہ " ادب برائے ادب" تھا۔ خواہ و نظم ہو کہ نثر یا تنقیدی مضامین ان کے یہاں ادب کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔ اس حلقے سے وابستہ فنکاروں کا ماننا تھا کہ ادب کو زندگی کی ترجمانی اس حد تک کرنی چاہئیے کہ اس کے ہر ایک پہلو کو پیش کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں میرا جی کہتے ہیں کہ ادب کو زندگی کا تر جمان ہونا چاہئیے ، عصری زندگی کا جائزہ بھی پیش کرنا چاہیے لیکن اس طرح نہیں کہ مسائل ہی حاوی ہو جائیں ۔ اسی طرح شاعری پر بحث کرتے ہوئے الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ :
شاعری اگر شاعری نہیں تو پھر جدید ہو یا قدیم سوختنی ہے اور شاعری کا واحد مقصد اپنے شدید طور پر محسوس کیے ہوئے تجربات کا مکمل اظہار ہے
مجموعی طور پر اس حلقے کی نظر اس حقیقت پر تھی کہ فن کار نے فن کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کیا۔ اس حلقے کا یہ تصور تھا کہ ادب کو کلی طور پر فائدے نقصان سے نہیں جوڑا جا سکتا ۔ گھنگور گھٹائیں، مہکتی ہوائیں برستے بادل ٹمٹماتے تارے چہکتے بچے دریا کی روانی لہلہاتے کھیت، شبنم کی بوندیں، مٹی کی خوشبو کوئل کی کوک، جھرنوں سے بہتا پانی ڈوبتے سورج کو اپنے آغوش میں لیتا ہوا سمندر ساحل سے ٹکرا کر اپنے وجود کو فنا کرتی ہوئی لہریں یہ سب حسین و دلکش مناظر بظاہر ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے لیکن یہ بے مصرف سی چیزیں ہمیں اپنی جانب کھینچتی رہتی ہیں اور ہم کبھی شعوری اور کبھی غیر شعوری طور پر ان کی جانب کھنچے چلے جاتے ہیں۔ اپنے لیے ان میں ذوق کا سامان تلاش کرتے اور ان سے محض محفوظ و مسرور ہوتے رہتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے انسانی فطرت کا تقاضہ ہے۔ اسی طرح اس حلقے سے وابستہ شاعر وادیب نے بھی محسوس کیا کہ ادب محض افادی پہلو پر زور دینے کا نام نہیں بلکہ اسے جی خوش کرنے کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔ غالباً اسی وجہ سے اسے ترقی پسند تحریک کا رد عمل سمجھا گیا۔ ترقی پسند تحریک میں ادب کا رشتہ زندگی اور سماج سے جوڑا گیا جس سے زندگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ وہ ادب کے افادی پہلو پر زور دیتے تھے گویا ادب برائے زندگی کے قائل تھے ۔ جو حلقہ ارباب ذوق کے نظریے کا تضاد ہے۔
بہر حال ماحول میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ ادبی موضوعات میں بھی تبدیلی آتی گئی اور ذوق بدلتا گیا۔ آزادی ہند کے بعد بھی اس  تحریک کی شناخت باقی تھی حلقے کے جلسوں کا انعقاد بھی ہوتا رہالیکن سیاست اور ادب کے حوالے سے آپسی اختلافات پیدا ہو گئے اور یہ دو حصوں  میں تقسیم ہو گیا ۔ حلقہ ارباب ذوق ادبی اور حلقہ ارباب ذوق سیاسی ۔ 1980 ء میں پاکستان میں بھی حلقہ ارباب ذوق کا قیام عمل میں آیا لیکن اب اس کی سرگرمیاں برائے نام رہ گئیں ہیں۔ بہر کیف اس حلقے کی اہمیت مسلم ہے اور بے شمار شاعر و ادیب ایسے ہیں جن کی شہرت و مقبولیت اس حلقے کی مرہون منت ہے اور یہ ادبی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام