سر سید کی ادبی خدمات
سرسید بے انتہا مصروف انسان تھے پھر بھی انھوں نے تصنیف و تالیف کے لیے وقت نکالا ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تصنیف و تالیف میں جیسا میرا جی لگتا ہے ویسا کسی اور کام میں نہیں لگتا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سیاسی ، سماجی اور تعلیمی خدمات انجام دیتے ہوئے لکھنے پڑھنے کے مشغلہ کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ایک بڑی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ سرسید کے تمام کاموں سے کچھ نہ کچھ اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اردو زبان و ادب کی جو خدمات انھوں نے انجام دیں ان کا اعتراف دوست دشمن سبھی کرتے ہیں۔ سرسید نے کم عمری میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ وفات کے نو دن پہلے تک چلتا رہا آخری مضمون انھوں نے تہذیب الاخلاق میں اردو کی حمایت میں لکھا تھا جب کہ آغاز اپنے بڑے بھائی کے اخبار سید الاخبار سے کیا۔ ان کی پہلی کتاب "رسالہ جلاء القلوب بذکر محبوب “ کو مرتب کیا۔ دہلی کی عمارتوں کا تفصیلی جائزہ آثار اصنادید میں لیا ہے۔ انقلاب 1857ء کے تعلق سے تاریخ سرکشی بجنور اور اسباب بغاوت ہند تحریر کی ۔ مذہب پر کئی کتابیں لکھیں "تفسیر قرآن تفسیر انجیل ( تبیمئن الکلام ) ، خطبات القلوب بذکر محبوب ہے۔ انھوں نے تقریبا ہر موضوع پر قلم اٹھایا۔ تاریخ کی تین اہم کتابوں آئین اکبری، تاریخ فیروز شاہی اور خطبات احمدیہ ، " ابطال غلامی اور احکام طعام اہل کتاب و غیرہ اہم ہیں۔ کل ملا کر چالیس سے زائد کتابیں سرسید نے تحریر کیں۔ جہاں تک ادب کی بات ہے اس پر باضابطہ کتاب تو نہیں لکھی البتہ اخبار سائنٹفک سوسائٹی ( بعد کو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ) اور تہذیب الاخلاق کے عروج وزوال پر روشنی ڈالی ۔ پھر مسلم قوم کی جہالت اور تعلیم پر اظہار خیال کیا ہے۔
ہندوستان میں خواتین کی حالت زار کو بھی حالی نے سمجھا ، راشد الخیری کو دنیا مصور غم کے نام سے جانتی ہے۔ حالی بھی عورتوں کے دکھ درد ، بیوگی و بے چارگی کو سمجھنے اور اپنی نظموں میں ان حالات کو پیش کرنے میں جو تصویریشی کی ہے وہ مصور غم سے کسی طرح کم نہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے 1874ء میں "مناجات بیوہ اور 1906 ء میں چپ کی داد" نام سے طویل نظمیں لکھیں ۔ حالی اس معاملہ میں سرسید سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے چناں چہ تعلیم نسواں کے بارے میں ان کا ایک واضح تصور تھا۔ ڈپٹی نذیر احمد کی طرح انھوں نے بھی خواتین کے لیے ناول "مجالس النساء تحریر کی۔ اردو تنقید کی تاریخ میں الطاف حسین حالی کا بڑا مقام ہے بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اردو میں بحیثیت فن تنقید کی ابتدا حالی کے مقدمہ شعر و شاعری سے ہوتی ہے 1893ء میں انھوں نے یہ فکر انگیز مقدمہ اپنے مجموعہ کلام کے ساتھ شائع کیا تھا۔ اس کے شائع ہوتے ہی پوری ادبی دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ اردو تنقید کو اس سے نئی راہ ملی ۔ اس طرح حالی پہلے شخص ہیں جنھوں نے شعر کو کسوٹی پر پرکھا اور تنقیدی مسائل سے بحث کی۔ بحیثیت مجموعی سرسید کے اہم رفیق حالی سے اردو ادب کو بے انتہا فائد ہ پہنچا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں