ادب اور اخلاق کا رشتہ
ادب اور اخلاق کا رشتہ
اخلاق کا تعلق فلسفہ، سماج اور اب تینوں سے ہے۔ادب بھی ان تینوں سے متعلق ہے لیکن اس کا تعلق فلسفہ اور سماج ہے۔ زیادہ ہے کیونکہ فلسفہ اورسماجیات بنیادی طور پر دنیاوی زندگی و انسان کے لیے کیسے بہتر سے بہتر بنایا جائے اس پر بحث کرتے ہیں۔ اگر چہ مذہب اس کے متضاد تو نہیں ہے لیکن مذاہب کے لحاظ سے دنیاوی زندگی انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے مکمل حیات نہیں ۔ مذہب کے لیے انسان کا خدا سے رشتہ قائم کرنا اور دنیاوی زندگی کے بعد آخرت کو سنوارنا بھی بہت اہم ہے۔ بلکہ مذہب میں کئی بار دنیادی زندگی کو محض واہمہ یا امتحان قرار دیا گیا ہے۔ یعنی اس زندگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے اصل زندگی تو آخرت کی ہے جو اس امر پر بنی ہوگی کہ آپ نے اس زندگی کو کیسے گزار رہے ہے، لیکن مذہب بھی فلسفہ اور سماج کی طرح اس زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
اخلاقیات فلسفہ میں ایک اہم شاخ ہے جس میں انسانی اخلاقیات سے متعلق افکار و نظریات پر بحث ملتی ہے۔ لیکن سماج اصول و ضوابط بھی بناتا ہے اور اس کا اطلاق بھی کرتا ہے۔ فلسفہ، مذہب اور سماجیات کی طرح ادب کا بھی ایک مقصد انسانی زندگی کو بہتر بناتا ہے اس لیے ادب کی بھی ایک اخلاقیات ہوتی ہے۔ لیکن ادبی اخلاقیات دوسری اخلاقیات سے مختلف ہوتی ہے۔ ادب کا اصل منصب معلم اخلاق نہیں ہے، ادب کا کام پند ونصیحت بھی نہیں ہے، بلکہ جمالیاتی تسکین ہے۔ لیکن وہ جمالیاتی تسکین غیر اخلاقی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ اب ایک سوال یہ بھی کھڑا ہوتا ہے کہ کون سی شے اخلاقی ہے اور کون سی غیر اخلاقی ؟ کیا اس کا کوئی آفاقی تصور ہے یا اخلاقیات وقت اور مقام کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ انسانی زندگی میں کچھ ایسی قدریں ہوتی ہیں جو نہیں بدلتی ہیں، وہ اس کی جہالت کا حصہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح کچھ قدریں اخلاقی اعتبار سے بھی عام طور پر آفاقی مانی جاتی ہیں، اگر چہ کچھ مخصوص حالات میں وہ بھی غیر آفاقی ہو جاتی ہیں۔ لیکن بیشتر قدریں وقت اور مقام کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔
ادیب پر غیر اخلاقی ہونے کے جو الزام اکثر لگائے جاتے رہے ہیں وہ حسب ذیل ہیں ۔ ادیب کچھ مخصوص سماجی رسم و رواج کو نہیں مانتے ہیں جن پر سماج متفق ہوتا ہے۔ ادیب فحاشی اور جنسی معاملات کو بھی بیان کرتے ہیں جسے عام طور پر سماج غیر اخلاقی مانتا ہے۔ ادیب کسی مخصوص مذہب کے لوگوں کے دلی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ یا اس قسم کے دوسرے الزامات ادبیوں پر اکثر لگائے جاتے رہے ہیں اور اس بنیاد پر انہیں غیر اخلاق قرار دیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو اسکی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ادیب کا نظریہ آفاقی ہوتا ہے۔ وہ کسی ایک مذہب ، ایک سماج ، یا ایک وقت اور مقام کو دھیان میں رکھ کر اپنے فکر و خیال کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کے پیش نظر آفاقی فکر و خیال ہوتے ہیں، کوئی فکر و خیال ایک مذہب ، ایک کسان ، ایک معاشرے کے لیے غیر اخلاقی ہو سکتا ہے لیکن وہی فکر و خیال دوسرے سماج ، مذہب اور معاشرے کے لیے ممکن ہے کہ غیر اخلاقی نہ ہو۔ کوئی فکر و خیال کسی مخصوص وقت یا مقام میں غیر اخلاقی محسوس ہو سکتا ہے لیکن بعد میں یا کسی دوسرے مقام پر وہ غیر اخلاقی نہیں ہوتا ۔ ادب اور اخلاق کے رشتے پر ہمیشہ سے تنازعہ رہا ہے۔ اس موضوع پر پہلی سب سے اہم بحث اس وقت شروع ہوئی جب افلاطون نے اپنی کتاب " ریاست " لکھی تھی۔ اس کتاب میں اس نے ایک مثالی ریاست کا تصور پیش کیا تھا جو تمام عیوب سے پاک ہو اور اس نے ایسی ریاست میں شاعروں کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی ۔ دراصل افلاطون کا خیال تھا کہ اصل دنیا تو عام مثال Divin world ہے جس میں ہر شے اپنی اصل صورت میں ہے اور یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں اس دنیا کی نقل ہے اور اس دنیا کی تمام اشیا و شاعر بھی شامل ہیں اس دنیا کی اشیا کی نقل کرتے ہیں۔ یعنی فن کاروں کی اس عالم مثال کی اشیا کی نقل ہیں ۔ تمام فن کار تخلیقات تیسرے درجے کی نقل ہیں۔ اس لیے افلاطون کی نظر میں شاعری غیر اخلاقی ہے اور اس کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔ شاعر جذبات انسانی سے کھیلتا ہے اور خیر وشر کو ایک ہی طرح سے پیش کرتا ہے۔ اس لیے وہ نا قابل اعتبار ہوتا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو مثالی ہو اور تمام عیوب سے بالاتر ہو، اس میں شاعروں کا داخلہ نہیں ہونا چاہیے۔
بعد میں افلاطون اپنے نظریات پر اتنا سخت نہیں رہا تھا اور اس نے قبول کیا تھا کہ شاعری سے اچھے کام بھی لیے جاسکتے ہیں ۔ اس لیے اس نے ایسے شعرا کو اس ریاست میں داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی جو ایک طویل عمر گزار چکے ہوں ۔ اس دوران انھوں نے ایسی شاعری نہ کی ہو جو غیر اخلاقی و قوم کے لیے مضر ہو۔
ارسطو، جو افلاطون کا غیر معمولی ذہین شاگرد تھا، اس نے جگہ جگہ اپنے استاد سے اختلاف کیا ۔ سب سے پہلے تو اس نے افلاطون کے عام مثال (Divine world) کے تصور سے انکار کیا۔ اس طرح ادب پر تیسرے درجے کی نقالی کا الزام خود بخود مسترد ہو گیا ۔ ارسطو کے مطابق نقل کرنا انسان کی بنیادی جبلتوں میں سے ہے اور نقل کوئی بری شے نہیں ہے بلکہ وہ تخلیق کی بنیاد بنتی ہے۔ اس طرح ارسطو نے ادیب کے غیر اخلاقی ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا۔
افلاطون اور ارسطو سے لے کر آج تک ادیب اور ادب پر ہمیشہ غیر اخلاقی ہونے کے الزام لگائے جاتے رہے ہیں۔ ادب کے اخلاقی ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ اب بہت پیچیدہ ہو چکا ہے۔ دراصل سماج ، سیاست اور مذہب کے اہل اقتدار یہ جانتے ہیں کہ ادب میں بڑی قوت ہوتی ہے اس لیے وہ ایسے اپنے طور پر ادب کا استعمال کرنا چاہتے ہیں اور طرح طرح سے اس پر پابندی عائد کرتے رہتے ہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں