"(ع) اسم مذکر علم بیان میں اس مجاز یا صنعت بیانیہ سے مراد ہے، جس میں سبب سے مسبب ظرف سے مظروف کل سے جزو، لازم سے ملزوم ، ذکر سے صاحب ذکر مراد لے سکتے ہیں ۔" (فرہنگ آصفیہ، ،جلد سوم،2057) مجاز ( ع ) لغوی معنی راہ ، مذکر حقیقت کے برعکس ، جو حقیقت نہ ہو ۔ وہ کلمہ جو اپنے حقیقی معنی کے خلاف مستعمل ہو مگر اس کے حقیقی معنی متروک نہ ہو گئے ہوں ۔ مجاز مرسل (ف) مذکر علم بیان میں اس مجاز سے مراد ہے۔ جس میں سبب سے مسبب ظرف سے مظروف، کل سے جزو وغیرہ مراد لے سکتے ہیں۔ مجازی اور حقیقی معنی میں تشبیہ کا علاقہ ہے تو استعارہ کہیں گے اور اگر تشبیہ کے سوا کوئی اور علاقہ ہو تو مجاز مرسل - ( نور اللغات جلد چهارم ، صفحہ 495) مندرجہ بالا تعریفات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی لفظ کو حقیقی معنی کے علاوہ مجازی معنی میں استعمال کیا جائے اور حقیقی ومجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو تو اسے " مجاز مرسل" کہتے ہیں۔ تشبیہ کے علاوہ کسی بھی لفظ کے حقیقی و مجازی معنوں میں جو دوسرے علاقے ہو سکتے ہیں وہ درج ذیل ہیں: جزو اور کل کا علاقہ ؛ اگر کسی ایک لفظ کو بطور جزو بول کر کل مرا...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں