تحریک کے معنی ، ترقی پسند تحریک کیا ہے
تحریک عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی کسی بات کو شروع کرنے کے ہیں۔ اصطلاحاً کسی مقصد کے حصول کے لیے جب افراد کا گروہ کوشش کرتا ہے تو اسے تحریک کہتے ہیں، خواہ اسے کسی بھی حد تک کامیابی حاصل ہو۔ ترقی پسند تحریک بھی ظاہر ہے کہ ایک تحریک ہے اور اس تحریک کے مخصوص مقاصد میں غریبوں کو ان کا حق دلانا عدم مساوات کے خلاف آواز بلند کرنا انسان دوستی اور آزادی ہند کی کوشش شامل تھی ۔ گویا ادب کو گل و بلبل اور کنگھی چوٹی سے بالا تر کر کے اسے مقصدیت سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ ترقی پسند تحریک کی نیولندن میں رکھی گئی ۔ 1930ء میں لندن میں چند ہندوستانی طالب علموں نے اپنے ملک کے سیاسی و سماجی حالات کے تناظر میں انسانیت کی خدمت کا خواب دیکھا اور انفرادی طور پر اس کی جستجو کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر تمام زبانوں کے تخلیق کاروں کو ہمراہ لے کر ہندوستانیوں کو پستی نمای مظلومی اور استحصال سے آزاد کرانے کا عزم کیا۔ اس تحریک سے متعلق اور اس کے نظریوں سے اتفاق رکھنے والے ادیبوں نے اپنی اپنی زبان کے ادب میں ترقی پسند خیالات کی تبلیغ تشہیر کی اور اس طرح اس تحریک نے پورے ہندوستان میں اور ہندوستان کی بیشتر زبانوں میں اپنے وجود کا احساس دلایا۔ دراصل ترقی پسند تحریک کا بنیادی مقصد ادب کے وسیلے ے انسانیت کا نشاۃ ثانیہ تھا۔ اس تحریک کا باقاعدہ آغاز اپریل 1936 ء میں لکھنو میں منعقدہ اس کا نفرنس سے ہوتا ہے جس کی صدارت شہرہ آفاق ادیب منشی پریم چند نے کی تھی۔ اردو کے معروف ادبیوں اور شاعروں نے اس تحریک کی سر پرستی کی جن میں منشی پریم چند مولوی عبدالحق، مولانا حسرت موہانی، جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، سید سجاد ظہیر، فیض احمد فیض ملک راج آنند عزیز احمد و غیره شامل تھے۔ اس کا نفرنس کے بعد ہی اس تحریک نے اپنی منظم صورت اختیار کی اور مختلف زبان کے ادبیوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی داغ بیل ڈالی۔ تحریک اس دور میں اس حد تک اثر انداز ہوئی کہ پرانے اور تجربہ کا قلم کاروں کے ساتھ ساتھ ہر نیا لکھنے والا اس تحریک سے خود کو وابستہ کرنے میں فخر محسوس کرنے لگا اور تھوڑے ہی عرصے بعد یعنی بیسویں صدی کی چوتھی پانچویں دہائی میں ترقی پسندی نے فیشن کی صورت اختیار کر لی تھی لیکن 1950ء کے بعد تحریک میں ایک طرح کا جمود آ گیا جو کہ آزادی ہند اور تقسیم ہند کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تحریک میں از سر نو زندگی پیدا کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن اسے عروج تو حاصل نہ ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جدیدیت پوری طرح سے سر ابھار چکی تھی ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں