زبان کی تعریف
ماہر لسانیات ہنری سوئٹ کے بقول تکلم کے سبب جو آواز میں نکلتی ہیں اور جن سے خیالات کی ترجمانی ہوتی ہے وہی زبان ہے۔ پروفیسر گیان چند جین لکھتے ہیں زبان چند ایسی مخصوص آوازوں کا ایک مجموعہ ہوتی ہے جو صوتی اعضاء کے عمل سے وجود میں آتے ہیں۔ ان آوازوں سے الفاظ بنتے ہیں۔ الفاظ جب مخصوص ترکیبوں میں آتے ہیں تو جملے وجود میں آتے ہیں۔ اس طرح آواز سے لے کر جملے تک ایک نظام ہوتا ہے ایک لفظ گلاب ہے۔ یہ پانچ آوازوں سے مل کر بنا ہے گ + اُ+ ل + ا+ ب ان پانچ آوازوں کی ایک خاص ترتیب سے ایک خاص معنی کے لیے لفظ تشکیل پایا ہے۔ ڈاکٹر اقتدار حسین خاں لکھتے ہیں کہ لسانیات کی رو سے زبان کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے زبان ایک ایسے خود اختیاری اور روایتی صوتی علامتوں کے نظام کو کہتے ہیں جسے انسان اپنے سماج میں اظہار خیال کے لیے استعمال کرتا ہے۔ انھوں نے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ زبان دراصل آوازوں یا اصوات کا مجموعہ اور ترتیب ہے۔ یہاں صوتی سے مراد آوازوں سے ہے جو انسان اپنے اعضائے تکلم سے پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر سید حمید الدین شرفی رقم طراز ہیں اصطلاح میں زبان سے مراد وہ مخصوص آواز میں ہیں جو انسان بالمقصد نکالتا ہے اور جن کے ذریعے اپنا دینی مفہوم واضح کرتا ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ زبان سے انسان اپنا مافی الضمیر دوسروں پر ظاہر کرتا ہے۔ ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کہتے ہیں کہ زبان خیالات کا ذریعہ اظہار ہے۔ اس کی بدولت وہ اپنے سارے تجربات ، خیالات ، جذبات ، احساسات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ گویا زبان ہی سماج اور تہذیب کی شیرازہ بندی کرتی ہے۔ زبان کی فطرت سے واقفیت ، سماجی کارکن کے لیے بہت ضروری ہے۔
زبان میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ جو بھی نئی چیز دیکھتی ہے اس کے لیے لفظ اختراع کر لیتی ہے۔ انسان اپنے خیالات کے اظہار کے لیے علامتیں استعمال کرتا ہے۔ یہ دو طرح کی ہوتی ہیں۔
۱۔ صوتی ۲۔ غیر صوتی۔
صوتی علامتیں وہ علامتیں ہیں جو اعضائے صوت کی مدد سے تلفظ ہو کر لفظوں کی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہیں لفظ ایک یونٹ ہے جو کسی چیز یا عمل کی نمائندگی کرتا ہے۔ غیر صوتی علامتوں کی مثالیں یہ ہیں۔ چوراہوں پر استعمال ہونے والی ہری، لال، پیلی بتیاں، سڑکوں پر تیروں کے نشان ، کالا فیتہ کراس کا نشان وغیرہ۔
زبان کا وجود ان علامتوں پر منحصر ہوتا ہے جو با معنی ہوتی ہیں۔ زبان میں بنیادی اکائیاں (Units) آوازیں ہیں۔ آوازوں اور ان کے معنوں میں کوئی فطری تعلق یا منطقی تعلق نہیں ہوتا ۔ اس لیے سب زبانیں علاحدہ علاحدہ ہیں۔ تیل اور فطری یا مطلق ہوا تو دنیا کی تمام زبانوں میںکوئی فرق نہ ہوتا بلکہ ایک جیسی ہوتیں۔
زبان کا استعمال صرف صوتی علامت ہی کے لیے مخصوص کر لیا گیا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں