ڈرامے کی تعریف

ڈراما نہ محض مکالمے میں لکھی گئی تحریر ہے نہ صرف واقعات و کردار کا مجموعہ۔ اس کے اجزاء عناصر میں پلاٹ، کردار، مکالمہ اور زبان شامل ہے تو رنگ صوت ، آهنگ ، روشنی، سایہ اور سکوت بھی اس کے عناصر ہیں، چنانچہ اس کی دوٹوک تعریف ڈرامشکل ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا کے مطابق لفظ ڈراما اس یونانی لفظ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں " کر کے دکھائی ہوئی چیز "۔ Encyclopaedia Britanica, Vol. 7, p. 576 Brown, lovor


شلڈن چینی لکھتا ہے کہ ڈراما اس یونانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں۔ میں کرتا ہوں اور جس کا اطلاق "کی ہوئی چیز" پر ہوتاہے

Chenyshaldon, The Theatre Tudor, edi. New York, 1947, p. 13


ارسطو نے بوطیقا میں ڈرامے کی کوئی حتمی تعریف پیش نہیں کی لیکن اس کی پیش کردہ توضیحات سے ڈرامے کی تعریف اس طرح مرتب کی گئی


"ڈراما انسانی افعال کی ایسی نقل ہے جس میں الفاظ ، موزونیت اور نغمے کے ذریعے کرداروں کو محو گفتگو اور مصروف عمل ہو بہو ویسا ہی دکھایا جائے جیسے کہ وہ ہوتے ہیں یا ان سے بہتر یا بدتر انداز میں پیش کیا جائے ۔ 

(محمد اسلم قریشی، ڈرامے کا تاریخی و تنقیدی پس منظر مجلس ترقی ادب، لاہور، 1971 میں: 76)


ڈرامے کی ایک جامع تعریف اس طرح بھی بیان کی گئی ہے۔

" ڈراما کسی قصے یا واقعے کو اداکاروں کے ذریعے تماشائیوں کے روبرو پھر سے عملاً پیش کرنے کا نام ہے "


ان تعریفات میں " کرنا " ," کیا ہوا" ,"کر کے دکھائی ہوئی چیز" جیسے الفاظ کی تکرار سے ڈرامے میں عمل کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ڈراما ناول یا افسانے کی طرح صرف تحریری ادب نہیں بلکہ اس کا لازمی رشتہ اسٹیج سے ہے۔ یہ مکمل اس وقت ہوتا ہے جب اسے ادا کاروں کے ذریعے پیش کر دیا جائے۔


ناٹیہ شاستر میں ڈرامے کی یہ تعریف بتائی گئی ہے کہ کسی واقعے کو پھر سے کرنا نا یہ (ڈراما) ہے۔ ارسطو ڈرامے کو نقل بتاتا ہے اور نانٹیہ شاستر پھر سے کرنا ، بنیادی طور پر دونوں کا مطلب ایک ہے۔


ڈرامے کو سمجھنے کے لیے اس کے محرکات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ ڈرامے کے محرکات دو ہیں:

 اظہار ذات 

 نقالی کی جبلت ۔



اظہار ذات 

اظہار ذات سے مراد یہ ہے کہ انسان جو کچھ سوچتا سمجھتایا تجربات سے حاصل کرتا ہے یا اس پر جو رنج وخوشی گزرتی ہے اسے دوسروں کو بتا کر فطری طور پر سکون محسوس کرتا ہے، انھیں اپنی ذات تک محدود نہیں رکھ سکتا اگر اپنی ذات تک محدود رکھے تو اس کے اندر ایک ہیجانی کیفیت کے تحت ابلاغ کی مسلسل خواہش پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اس خواہش کی تکمیل اظہار ذات ہے۔ اس سے ادب وفن کے سوتے پھوٹتے ہیں اور انسان کی ذہنی صحت کے لیے یہ ضروری بھی ہے 

نقالی کا مادہ

نقالی کا مادہ بھی انسانی فطرت میں ازل سے موجود ہے ۔ بچوں کو توتلی زبان میں نقل اتارنا پاؤں چلنا ، کسی کو چڑھانے کے لیے اس کی آواز و حرکات کی نقل کرنا انسانی فطرت ہے ۔ ان اسی جبلت کے تحت چیزوں کو سیکھتا ہے ۔ صنف ڈراما اس جبلت کی سب سے زیادہ مرہون منت ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام