پنڈت دیا شنکر نسیم سے پہلے اردو مثنوی

-:نسیم سے پہلے اردو مثنوی


دکن کے ابتدائی دور کی سب سے اہم نظامی کی تصنیف " کدم راؤ پدم راؤ ہے۔ یہ بمنی دور میں لکھی گئی۔ یہ ایک طویل مثنوی ہے۔ اس میں ایک قدیم ہندوستانی قصے کے علاوہ اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس کے بعد دکنی زبان میں سینکڑوں چھوٹی بڑی مثنویاں لکھی گئیں۔ بیجاپور میں مقیمی کی مثنوی چندر بدن و پیاز کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ کمال خان رسمی کی مثنوی عام روش سے ہٹ کر لکھی گئ ہے۔ ان کی مثنوی کا نام خاور نامہ ہے۔ اس مثنوی میں حضرت علی کے اوصاف اور کارنامے بیان ہوئے ہیں ۔ یہ مثنوی بہت طویل ہے اور اس میں چوبیس ہزار اشعار ہیں۔ علی عادل شاہ ثانی شعر و ادب اور دیگر فنون کا بڑا قدر دان تھا۔ اس کے دربار میں کئی بڑے شاعر جمع تھے ۔ نصرتی علی عادل شاہ ثانی کے دربار کا ملک الشعر تھا۔ وہ تین بلند پایہ مثنویوں کا خالق تھا۔ یہ مثنویاں ہیں " علی نامہ" "گلشن عشق" اور " تاریخ اسکندری علی نامہ" تاریخی رزمیہ ہے۔ علی عادل شاہ ایک طرف مغل بادشاہوں سے لو پالیتا رہا تو دوسری طرف شیواجی سے ۔ مثنوی علی نامہ انہیں کارناموں اور جنگوں کا حسین اور بکش بیان ہے ۔

نصرتی کی دوسری مثنوی گلشن عشق بز میہ مثنوی ہے۔ اس میں حسن و عشق کے معاملات بڑی نفاست اور خوبصورتی کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔

ہاشمی ایک نابینا شاعر گزرا ہے۔ اس کا شمار بھی قدیم اردو کے زبردست شاعروں میں ہوتا ہے ۔ اس کی مثنوی " یوسف زلیخا کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ وجہمی کی مثنوی " قطب مشتری" بھی بہت اہم مثنوی ہے ۔ گولکنڈے کے شہزادے قطب شاہ اور بنگالے کی شہزادی مشتری کے عشق کی داستان اس مثنوی کا موضوع ہے۔ غواصی کی ایک مثنوی "سیف الملوک اور بدیع الجمال" ہے۔ اس مثنوی میں دو ہزار شعر ہیں ۔ اس کا قصہ الف لیلہ سے لیا گیا ہے۔ اس کی زبان بہت صاف اور دل نشیں ہے۔ ابن نشاطی بھی غواصی ہی کے زمانے کا شاعر ہے۔ اس کی مثنوی ” پھول بن" کو بھی شہرت دوام حاصل ہوی طبیعی کی مثنوی " بہرام اور گل اندام" ہے۔ اس کے بعد غلام علی نے ملک محمد جائسی کی ” پدماوت“ کا ترجمہ اردو میں نظم کیا۔

اس کی مثنوی بہت بلند پایہ تو نہیں مگر اس کی ایک تاریخی اہمیت ضرور ہے۔ سراج اورنگ آبادی نے متعدد مثنویاں لکھیں ، ان میں چھ سات مثنویاں تو بہت مختصر ہیں ۔ مگر ان کی اہم مثنوی " بوستان خیال ہے ۔ دکن میں اس کے بعد بھی مثنویاں لکھی گئیں مگر مشہور نہ ہوسکیں۔


شمالی ہند میں میر تقی میر اردو مثنوی کے اہم شاعر ہیں۔ میر نے چھوٹی بڑی کئی مثنویاں لکھیں۔ میراثر ، میرتقی میر کے ہم عصر اور خواجہ میر درد کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کا نام آج تک زندہ ہے تو وہ ان کی مثنوی " خواب و خیال" کی وجہ سے ہے ۔ اہل نظر نے اس مثنوی کو بہت سراہا ہے اور زبان و بیان کے لحاظ سے سحر البیان کے بعد بے مثال قرار دیا ہے ۔ کئی شاعروں نے میر اثر کی تقلید میں خواب و خیال جیسی مثنوی لکھنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو سکے کئی سواشعار پرمشتمل ایک سراپا بھی خواب و خیال میں شامل ہے۔ میر اور اثر کے علاوہ اس دور کے ایک اہم شاعرمحمد رفیع سودا ہیں۔ مثنویاں انہوں نے بھی لکھیں مگر اس پائے کی کوئی مثنوی نہ لکھ سکے۔ میر اور سودا کے بعد شاعری کا مرکز لکھنؤ کو منتقل ہو گیا۔

اس مرکز کے قدیم شعر میں جس مثنوی نگر کا کارنامہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے وہ میرحسن ہیں ۔ میر حسن نے مثنوی نگاری کے فن میں بے مثال مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ مثنوی میں جتنے کردار اور جتنے مناظر ہیں سب میں حقیقت کا رنگ غالب ہے۔ ہر کردار انفرادی خصوصیت کا مالک اور دوسرے کرداروں سے مختلف ہے۔ مثنوی کا ہر منظرحقیقی نظر آتا ہے۔ مثنوی سحر البیان اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ یہ اپنے عہد کے رہن سہن اور رسم ورواج کا آئینہ ہے۔ غلام ہمدانی مصحفی نے بھی متعد مثنویاں لکھیں ان میں بحر محبت سب سے اہم ہے۔ یہ مثنوی میر کی " دریائے عشق کے طرز پر کھی گئی ہے۔ مصحفی کے سب سے نامور شا گرد خواجہ حیدر علی آتش اور ان کے شاگر دیا شنکر نسیم تھے۔ نسیم نے اپنے استاد کی رہنمائی میں ایک ایسی مثنوی لکھی جے لکھنو کی نمائندہ شاعری کا بہترین نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ وہ ہے گلزار نسیم۔

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام