اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کی خدمات

 اردو زبان وادب کی تخلیق ونشو و نما صوفیائے کرام کی مرہون منت ہے۔ اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں ان کی خدمات   مسلمہ ہیں۔ انھیں اپنی بات پہنچانا تھا۔ وہ ایسی زبان میں اپنی تعلیمات پیش کرنا چاہتے تھے جسے عوام سمجھ سکیں۔ انہوں نے اپنی تعلیمات کو نظم ونٹر میں پیش کیا۔ صوفیائے کرام کے قریبی فقرے اردو کے نقوش اولین اور ابتدائی نمونے ہیں۔ یہ فقرے اردو زبان کے ارتقاء میں معاون ثابت ہوئے۔ صوفیائے کرام عوام سے ان کے اپنے روز مرہ میں گفتگو کرتے تھے۔ وہ مقامی بولیوں کو استعمال کرتے۔ ہندوستانی مقامی زبانوں اور بولیوں کو بادشاہوں کے دربار میں اتنی سر پرستی اور حوصلہ افزائی نہیں ملی جتنی بزرگوں کی خانقاہوں سے حاصل ہوئی ۔ امراء اور بادشاہوں کو عوام سے میل جول کی وہ ضرورت نہیں تھی جو ان بزرگوں کو تھی اور ادنی ترین سطح کے عوام سے سید ھے اور حقیقی رابطے کا ہی یہ ثمرہ تھا کہ زبان کا وہ عوامی کینڈا تیار ہو گیا جس پر آئندہ زمانے میں اردو زبان اور روزمرہ کی عمارت استوار ہوئی۔ صوفی شعرا کو سادہ اور عام فہم زبان میں اپنی بات عوام تک پیش کرنا مقصود تھا۔ چنانچہ ان کی شاعری میں الفاظ کو ضرورت شعری کے مطابق موڑ توڑ لیا جاتا تھا۔ کہیں کسی حرف کو گرا کر پڑھنے سے وزن کا سرمل جاتا اور کہیں سکتے کو دور کرنے کے لیے آواز کو کینچ کر پڑھنا پڑتا ہے۔ جیسے سرکو سیر اور فکر کو گیر کہ کر کام نکال لیتے ۔ قافیوں کے بھی کوئی خاص اصول کی پابندی ان کے ہاں اکثر مفقود ہے۔ قافیے میں صرف آواز کا خیال رکھتے۔ لفظ جیسا بولا جاتا ویسا تحریر میں لے آتے جیسے شروع کوشرو اور صحیح کو سہی لکھ دیتے۔


یہ صوفیائے کرام ہی ہیں جنھوں نے اپنی محنت اور صلاحیت سے زبان کے دریا کو بیان کے راستے پر ڈالا ۔ اگر یہ لوگ اس دور میں اپنی صلاحیتوں کا خون اس زبان میں شامل نہ کرتے اور اس میں زبان و بیان کے نئے نئے تجربے نہ کرتے تو اس زبان کا دریا بھی راستے ہی میں خشک ہو جاتا۔ نویں صدی ہجری تک اس زبان کی جڑیں دکن، گجرات اور مالوہ میں اتنی پیوست ہو جاتی ہیں کہ یہ نہ صرف ایک مشترک زبان کی حیثیت اختیار کر لیتی بلکہ اس میں ایسی تصانیف کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے جن کا خطاب عوام سے تھا۔ جو کام پہلے فارسی سے لیا جاتا تھا وہ اردو سے لیا جانے لگا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی صلاحیتوں کو اردو زبان کے مزاج و خون میں شامل کر کے اسے آگے بڑھایا ہے ۔ طویل نظمیں لکھنا اور وہ بھی ایسے دور میں جب خود زبان بیان کی سطح پر چھٹیوں چل رہی تھی، کوئی آسمان کام نہ تھا۔ ان لوگوں نے زبان کو مختلف موضوعات سے آشنا کر کے اسے جلد ہی کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ اردو شاعری میں ابتداء سے ہی تصوف کے خیالات و افکار داخل ہوئے ۔ صوفیانہ شاعری کے موضوعات میں یہ چیزیں شامل ہیں۔ معرفت نفس معرفت ذات زندگی کی حقیقت بے ثباتی عالم عشق مجازی، عشق حقیقی، وحدت الوجود، وحدت الشہود، سلوک و معرفت کے مختلف مسائل اسرار دل و نفس حمد نعت مدح صحابه منقبت حشر نشر میزان پل صراط جزاء وسزا عالم نزاع احوال قبر علامات قیامت سوال طالب، جواب مرشد شریعت و طریقت کے مسائل تزکیہ نفس، تصفیہ قلب وغیرہ۔ تصوف کے فلسفیانہ بنیادوں کو سمجھے بغیر اردو شاعری کی اصطلاحوں کو نہیں سمجھا جاسکتا اور خانقاہوں کے سماجی رابطے اور عوام پر ان کے اثر کو سمجھے بغیر ہماری شاعری کے سماجی مفہوم تک رسائی ممکن نہیں ۔ تصوف نے اردو شاعری کا دینی پس منظر بنانے میں کافی اہم حصہ لیا۔ صوفیائے کرام نے رشد و ہدایت کے لیے تصوف کے رموز و اسرار کی وضاحت کو اردو زبان میں زیادہ موزوں اور مناسب سمجھا اور اس پر اپنی تصنیف و تالیف کی عمارت کھڑی کی ۔ وہ تمام علامتیں جو صوفیا نے معرفت کی منازل و مراحل کے اظہار کے لیے وضع کی تھیں اردو غزل میں صوفی شعرا و غیر صوفی شعرا سبھی استعمال کرنے لگے۔ یہ لفظیات استعارے اور علامتیں غزل کا لازمی جزو بن گئے جیسے شراب ساقی ساغر و غیرہ۔ صوفیا کا عوام سے براہ راست تعلق تھا اس لیے وہ اسی زبان کو ابلاغ کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے۔ یہ زبان اس وقت عوام میں رائج تھی لیکن فارسی کی قدرو منزلت اور مرتبے تک نہیں پہنچ سکی تھی اور تصنیف و تالیف میں فارسی ہی مروج تھی۔ دکن کے صوفیا نے بار بار یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ ہندی زبان میں کوئی عیب نہیں اور اسے بھی وسیلہ اظہار بنایا جا سکتا ہے۔ 


       دکن کے صوفیائے کرام نے تصوف کے رموز کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کے لیے گیت کے انداز میں سہیلے کہے تھے۔ ان میں عارفانہ مطالب کو بڑی آسانی کے ساتھ سلیس زبان میں پیش کیا گیا تھا۔ اس عہد میں عروضی اصولوں کی بھی سختی سے پابندی ممکنہ تھی۔ اس لیے ردیف و قوافی میں حسب ضرورت تغیر وتبدل کی مثالیں بھی موجود ہیں ۔ اکثر ردیفوں میں "س" اور "ص" اور "ط" اور "ت" "ع" اور "ک" اور "ق" کو ایک ہی صوبے Phoneme کے طور پر برتا گیا ہے۔ ضرورت شعری کے لحاظ سے ان کو تر اور محرک و ساکن بنادیا گیا ہے اورای طرح سادہ الفاظ کو مشد داور مشد دکو سادہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ادب کے اس ابتدائی دور میں نشر اور شعر کے اعلیٰ ترین نمونوں کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ یہ ادبی زبان کا عبد طفولیت تھا اس لیے اس میں منجھی ہوئی زبان اور نکھرے ہوئے اسلوب کی مثالیں نہیں ملتیں۔ رچاؤ اور پختگی تشکیلی دور آغاز سے نہیں، زبان وادب کے عہد بلوغیت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اردو ہی نہیں ہر زبان میں او بیت کا چٹخارہ اور صوری محاسن، تشکیلی دور کی نہیں، دور ترقی کی پیداوار ہوتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف و شاعر کے ذہن میں خیالات کا ہجوم ہے لیکن زبان یاوری نہیں کر رہی ہے اور اظہار کے راستے مسدود ہیں۔ جملوں میں الفاظ کی وہ تربیت نہیں جو قواعد کی رو سے ہونی چاہیے۔ صوفیا کا قصد تو اپنی بات اور اپنا پیغام عوام و خواص سب تک پہنچانا تھا۔ فارسی اور دکنی نثر کا امتزاج اُس زمانے کی تصانیف کی ایک عام خصوصیت معلوم ہوتی ہے۔ کہیں پورا جملہ فارسی میں ہے تو کہیں دکنی کے ساتھ ابتداء یا آخر میں فارسی الفاظ سے خیال کی ترسیل میں مدد لی گئی۔


بہمنی دور میں اردو چاروں طرف پھیل کر دکن کی سب سے بڑی اور واحد مشترک زبان بن جاتی ہے اور اس عظیم سلطنت کے مختلف علاقوں میں ایک ایسا سازگار ماحول پیدا ہو جاتا ہے کہ آئندہ دور میں ادبی تخلیق کے لیے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔ سوال اور جواب کی ہیئت میں نظمیں صوفیائے کرام کے ہاں ایک عام اور مقبول ہیئت رہی ہے۔ سوال و جواب میں شریعت و طریقت کے بہت سے مسائل آگئے ہیں۔


صوفیائے کرام نے اردو کی ابتدائی نشو ونما میں گراں قدر خدمات انجام دیں اس کے فروغ کی کوشش میں عملی طور پر شرکت کی۔ اپنی تعلیمات کو اپنی تصانیف ( نثر ونظم) میں پیش کیئے مقبول دھنوں اور طرزوں میں شاعری کی ۔ چکی نامے اور شکار نامے تصنیف کیے۔ مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی جیسے دو ہے۔ سہلے (جو محفل سماع میں گائے جاتے تھے ، بکریاں ذکری کی گجراتی شکل جسے گایا بھی جاسکتا اور سازوں پر بجایا بھی جاسکتا تھا ، غزلیات مثنویاں، نظمیں، قصیدہ مرثیہ وغیرہ۔ اور اپنی تعلیمات اور بنیادی تصورات کو ادبی تصانیف کے ذریعے مقبولیت بخشی اور انھیں ادبی رنگ روپ دے دیا۔ صوفیائے کرام نے اس زبان کو تصوف کی تعلیم کے لیے استعمال کیا۔ نثری رسالے لکھے گئے ۔ قوالی موسیقی شاعری اور درس اخلاق کی یہی زبان ٹھیری۔ صوفیاء نے اسے ادبی سطح پر لانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں جب کہ اردو بھی نومولود زبان تھی اوراہل علم اس میں لکھنا باعث عار سمجھتے تھے صوفیائے کرام نے اپنے مریدوں اور معتقدوں کی تعلیم تربیت اور تلقین کے لیے اسی زبان میں شعری اور نثری تخلیقات پیش کیں ۔ ان تخلیقات میں معرفت و سلوک مذہب علم و حکمت جیسے موضوعات شامل تھے۔ اپنے پیغام کے لیے انہوں نے شاعری کا سہارا لیا۔ چنانچہ اردو زبان میں شاعری کے قدیم نمونوں میں تصوف کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ صوفیانہ ادب نے زبان کی نشو و نما اور ترویج میں زبردست رول ادا کیا۔ صوفیا ملک کے مختلف حصوں میں جاتے اور وہیں کے ہو رہتے ۔ انھیں مقامی لوگوں سے بات چیت کرنی پڑتی اپنا پیغام پیش کرنا ہوتا۔ انہوں نے بول چال اور اپنی تخلیقات کے لیے عوام کی زبان یعنی اردو زبان کو استعمال کیا۔ یہ مختلف زبانوں اور بولیوں کے علاقوں کے درمیان رابطے کی زبان بنتی جارہی تھی ۔ یہ جہاں بھی جاتی وہاں کے مقامی اثرات قبول کرتی اور اپنے الفاظ کے ذخیرے کو مقامی بولیوں سے اکتساب کر کے مالا مال کرتی جاتی۔ قومی یکجہتی کو استوار کرنے میں یہ ایک بڑا قدم تھا۔ صوفیائے کرام ہندی، فارسی، عربی اور ہندوستان کی دوسری مقامی بولیوں سے الفاظ لینے میں قطعا نہیں جھجھکتے تھے۔ حمد ونعت میں بھی عربی کے خاص الفاظ کے ساتھ سنسکرت کے مذہبی الفاظ ہے ساختہ برتے جاتے ۔ وہ اپنی شاعری میں ہندو دیو مالا کی تلمیحات اور استعارے بھی استعمال کرتے۔ صوفی ادیبوں نے زبان کو کئی اصطلاحیں اور علامتیں بھی دیں مثلا وہ بت کدہ بت خانہ شراب خانہ خرابات کہتے تو اس سے عارف کامل کا باطن مراد لیتے ۔


مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام نے بنیادی کام انجام دیا اور بجاطور پر مولوی عبدالحق نے انھیں اردو کا مشن قرار دیا ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مجاز مرسل کی تعریف اور اقسام

تشبیہ کی تعریف اور اس کے اقسام

استعارہ کی تعریف اور اس کے اقسام